ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم

ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)

نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے
نبیؐ کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے

یہ کافروں کا بھی ایماں تھا اُن کے بارے میں
جو اُنؐ کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے

ہے امر اُنؐ کا ہمارے لیے خدا کا امر
کہ جو ہے اُن کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے

ہے اُن کا ذکرِ گرامی عروجِ نطق و بیاں
یہ اُنؐ کی نعت مِرے شعر و فن کی عظمت ہے

مجھ ایسا عاصی و تقصیر وار کیسے کہے
رُسولِ پاکؐ مجھے آپ سے محبت ہے

کہاں ہے لائقِ شانِ نبیؐ مرا لکھا
مگر یہ حرفِ شکستہ بھی رشکِ قسمت ہے

محمد احمدؔ


6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

سعد کہا...

جزاک اللہ

محمد وارث کہا...

بہت خوب احمد صاحب، اس خوبصورت نعت کی تخلیق پر بہت داد بول کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دیں۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ سعد بھائی

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی،

آپ کی محبت اور دعا کے لئے ممنون ہوں۔

Nasir Awan کہا...

احمد بھائی
آپ کا کلام پڑھ کر بہت محظوظ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

محمد احمد کہا...

ناصر اعوان صاحب رعنائیِ خیال پر خوش آمدید۔۔۔

بہت شکریہ آپ کے تبصرے اور دعا کا۔

خوش رہیے۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک