تاج سر پہ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پاؤں میں


غزل


روز، اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں
اعتماد بڑھتا ہے صبح کی فضاؤں میں

شاید ان دیاروں میں خوش دلی بھی دولت ہے
ہم تو مسکراتے ہی گھر گئے گداؤں میں

بھائیوں کے جمگھٹ میں، بے ردا ہوئیں بہنیں
اور سر نہیں چھپتے ماؤں کی دعاؤں میں

بارشیں تو یاروں نے کب کی بیچ ڈالی ہیں
اب تو صرف غیرت کی راکھ ہے ہواؤں میں

سُونی سُونی گلیاں ہیں، اُجڑی اُجڑی چوپالیں
جیسے کوئی آدم خور، پھر گیا ہو گاؤں میں

جب کسان کھیتوں میں دوپہر میں جلتے ہیں
لوٹتے ہیں سگ زادے کیکروں کی چھاؤں میں

تم ہمارے بھائی ہو، بس زرا سی دوری ہے
ہم فصیل کے باہر ، تم محل سراؤں میں

خون رسنے لگتا ہے اُن کے دامنوں سے بھی
زخم چھپ نہیں سکتے، ریشمی رداؤں میں

دوستی کے پردے میں، دشمنی ہوئی اتنی
رہ گئے فقط دشمن اپنے آشناؤں میں

امن کا خدا حافظ۔ جب کے نخل زیتوں کا

شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں


ایک بے گناہ کا خوں، غم جگا گیا کتنے
بٹ گیا ہے اک بیٹا، بے شمار ماؤں میں

بے وقار آزادی، ہم غریب ملکوں کی
تاج سر پہ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پاؤں میں

خاک سے جدا ہوکر اپنا وزن کھو بیٹھا
آدمی معلق سا رہ گیا خلاؤں میں

اب ندیم منزل کو ریزہ ریزہ چنتا ہے
گھر گیا تھا بےچارہ کتنے رہنماؤں میں

احمد ندیم قاسمی




عالمی یومِ امن



آج دنیا بھر میں عالمی یومِ امن منایا جا رہا ہے ۔ جب جب اس طرح کے دن منائے جاتے ہیں مجھے بڑی ہنسی آتی ہے کس ڈھٹائی سے ہم لوگ یہ سب کارِ منافقت سر انجام دیتے ہیں۔تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔طرح طرح کے بیانات داغے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہےکہ یا تو یہ بیانات دینے والے کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہیں یا پھر اس دنیا کی تمام تر بد امنی اور جنگوں کے ذمہ دار اہلِ زمین نہیں بلکہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہے.

آج پاکستان، افغانستان اور عراق سمیت دنیا بھر میں امن کا جو حال ہے ایسے میں عالمی یومِ امن کی رسمی تقریبات منافقت نہیں تو اور کیا ہیں۔

امن کا خدا حافظ۔ جب کے نخل زیتوں کا
شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں

احمد ندیم قاسمی

نہ جانے کب تک یہ دُہرے معیار اس زمین کا مقدر رہیں گے۔






ایسے ہاتھ، ایسی دیکھ بھال پہ خاک

غزل

ڈال دی حُرمتِ وصال پہ خاک
اِس گُناہوں بھرے خیال پہ خاک

روح جیسا بدن بکھیر دیا
اے محبت تری مجال پہ خاک

آئینہ ٹوٹ ہی گیا آخر
ایسے ہاتھ، ایسی دیکھ بھال پہ خاک

ایک لمحے میں پڑ گئی کیسے
سال ہا سال کے کمال پہ خاک

درد آگے نکل گیا ہم سے
اے دلِ خستہ تیری چال پہ خاک

اور بے حال کر لیا خود کو
خاک اس شوقِ عرضِ حال پہ خاک

غیر اپنا ہے اور اپنا غیر
حاصلِ مُمکن و مُحال پہ خاک

زخم، اے وقت! داغ بن بیٹھا
جا ترے نازِ اندمال پہ خاک

لیاقت علی عاصم

امیرالمومنین کی عید

عید کے دن لوگ کاشانہ خدمت پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) دروازہ بند کرکے زار و قطار رو رہے ہیں۔ لوگوں نے حیران ہو کر تعجب سے عرض کیا۔
یا امیر المومنین ! آج تو عید کا دن ہے، مسرت و شادمانی اور خوشی منانے کا دن ۔ یہ خوشی کی جگہ رونا کیسا؟
آنسو پونچھتے ہوئے آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا۔
"اے لوگو! یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے۔ آج جس کے نماز روزے مقبول ہوگئے بلاشبہ آج اس کے لئے عید کا دن ہے لیکن آج جس کی نماز اور روزہ کو اس کے منہ پر مار دیا گیا ہو، اس کے لئے آج وعید کا دن ہے۔ اور میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوں یا رد کردیا گیا ہوں ۔

بشکریہ : کرن ڈائجسٹ

عید آنے والی ہے



عید آنے والی ہے


ماں!
ہم اپنے گھر کب جائیں گے
یہاں کیمپ میں دل نہیں لگتا
نہ کھلونے ہیں نہ دوست
بس آنسو ہی آنسو ہیں

دیکھو!
میرے کپڑوں پہ
مفلسی کے داغ لگ چکے ہیں
انہیں تبدیل کرنا ہے
اور
نئے جوتے بھی لینے ہیں

تم بولتی کیوں نہیں ہو ماں!
کیا روزِ عید بھی میں
بھوک کا روزہ
صبر کے ساتھ افطار کروں گا
بابا سے کہو نا
گھر چلتے ہیں۔

شاعرہ : سحر


بشکریہ : کامی شاہ

ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم

ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)

نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے
نبیؐ کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے

یہ کافروں کا بھی ایماں تھا اُن کے بارے میں
جو اُنؐ کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے

ہے امر اُنؐ کا ہمارے لیے خدا کا امر
کہ جو ہے اُن کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے

ہے اُن کا ذکرِ گرامی عروجِ نطق و بیاں
یہ اُنؐ کی نعت مِرے شعر و فن کی عظمت ہے

مجھ ایسا عاصی و تقصیر وار کیسے کہے
رُسولِ پاکؐ مجھے آپ سے محبت ہے

کہاں ہے لائقِ شانِ نبیؐ مرا لکھا
مگر یہ حرفِ شکستہ بھی رشکِ قسمت ہے

محمد احمدؔ


رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک