فرض شناسی


فرض شناسی

اقتباس


ایک بڑھیا بےچاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی ۔ چھوٹی سی گٹھری اس کے ساتھ تھی ۔ اسے لے کر بامشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ گئی ۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اس کے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے۔ کوئی کھڑا تھا، کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھاکہ ۔۔۔۔ بھیا تم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا پاکستان وجود میں آیا ہی تھا، اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچائے کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے ۔

پاکستان ۔۔۔۔ جو اُن کی تمناؤں کا ثمرِ نورس تھا۔
پاکستان ۔۔۔۔جس کے لئے اُنہوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔
پاکستان ۔۔۔۔جسے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپّہ
چپّہ ان کے لئے مقدس تھا۔

اس گلِ تازہ کی خاطر اُنہوں نے خیابان و گلزار سب چھوڑ دئیے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ اُنہیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گزرنے کے بعد پھر وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہ الاللہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔

یہ بے چاری بُڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ ۔۔ ۔ یہ ہمارا ملک ہے ، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و الم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا کہ اس ملک کو پا لیں یہ کون کہتا ؟کیا کہتا ؟ کس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دلوں میں ناسور پڑ گئے تھے اور زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔

گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کا روانِ حیات میں لکھتے ہیں۔ "ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھو ! یہ چیکر کیا کرتا ہے۔

چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ و ہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے ۔ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا ۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت ، غم واندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں ۔ میں نے بڑٰی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بُڑھیا کا چالان کر دیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بُڑھیا اُس سے بے اختیار بولی ۔ ۔۔۔ بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ ۔ جواب ملا ۔۔۔ امّاں اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمھارا چالان ہوگا پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو ۔ تمھارے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دوگی میں اپنی طرف سے دے دوں گا۔

احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہوگیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔


شاہ بلیغ الدین کی کتاب "روشنی " سے اقتباس۔



۔

8 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

وقت وقت کی بات ہے ۔ قصور عوام کا بھی ہے کہ چوروں کو نمائندہ چُن ليتے ہيں مگر بڑے قصور وار حکمران ہيں ۔ ويسے ملک کے کچھ حصوں ميں اب بھی وفادار لوگ ہيں ۔ ميں دسمبر 1971 ميں جنگ کے دوران سرکاری کام سے کراچی گيا ۔ واپسی پر ايک دن پہلے والی ٹرين پر بھارت کے ہوائی جہاز نے حملہ کيا تھا ۔ ميں نے ديکھا کے ريلوے سٹيشنوں پر پورا عملہ غائب تھا اور کھانا تو کُجا پينے کيلئے پانی بھی نہ تھا ۔ صادق آباد ٹرين پہنچی تو لوگ پانی شربت بھُنے ہوئے چنے اور مکئی مُفت بانٹ رہے تھے

شاہدہ اکرم کہا...

زبردست بات کہہ دی آپ نے لیکِن نا اب وُہ فرض شناس لوگ رہے اور نا ہی مُلک کی اور اپنے پیاروں کی قدر کرنے والے لوگ،،،آج تو وُہ حا ل ہے کہ ہر بندہ صِرف یہ دیکھتا ہے کہ میرا مفاد کہاں اورکِس بات میں ہے سامنے والے کو تکلیف ہوتی ہے تو بھلے ہو ہمیں کوئ کُچھ نا کہے اور اگر کہے گا تو میرا ذِمّہ دوش پوش،،،،،

محمد احمد کہا...

افتخار صاحب،

قصور دراصل ہم سب کا ہی کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے پر اپنے فرائض سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں پھر رہی بات پاکستان کو کچھ سمجھنے اور اُس کے لئے اپنے پلے سے کچھ کرنے کی تو یہ نوبت تو تب ہی آسکے گی جب ہم لوگ اسے دل سے تسلیم کریں گے.

ہاں اچھے لوگوں کی واقعی اب بھی کمی نہیں ہے لیکن ملک کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ اب خال خال ہی ملتا ہے اور اس میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں۔

محمد احمد کہا...

شاہدہ اکرم صاحبہ،

یہ بات بجا ہے کہ آج کل نفسا نفسی کا عالم ہے اور ہم سب ہی اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی لئے یہ تحریر بھی ہمارے جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے کہ ہم اسے پڑھ کر اپنے کردار کو جانچ سکیں۔ بات صرف زاویہٗ نگاہ کی ہی ہوتی ہے اور اسے بدلنے کے لئے اس قسم کی تحریروں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

یہ بات غلط ہے کہ اب ویسے لوگ نہیں رہے
آج بھی ویسے لوگ موجود ہیں لیکن ہم ناسٹیلجیا کا شکار ہیں
ہمیں ہر اچھی چیز صرف اپنے ماضی میں نظر آتی ہے

محمد احمد کہا...

ڈفر یہ ناسٹلجیا والی بات بھی خوب کہی، اور اس بات میں بھی کافی وزن ہے لیکن یہ تو ہے کہ بگاڑ اب پہلے سے زیادہ ہے اور حب الوطنی پہلے سے کہیں کم، اس کی وجہ جو بھی ہو۔

نیرنگ خیال کہا...

بہت خوب۔۔۔
آج کر چیکر تو سو روپے میں برتھ بیچ دیتا۔۔۔۔
بقول گلزار
یہی کہیں زندگی کے معنی گرے اور گر کر کھو گئے ہیں۔۔۔
اسی طرح میں کہوں گا کہ یہی کہیں ایمانداری و فرض شناسی کہیں گری ہے اور کھو گئی ہے۔
لیکن اس میں قصور ہمارا تو نہیں۔ ہمارے اسلاف نے وہ فرض شناسی ایمانداری اپنے پاس رکھ لی۔ اور نئی نسلوں تک اس کو منتقل ہی نہ کیا۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب ایمانداروں کی بےایمان اولاد دیکھتا ہوں۔ قصور ان بے ایمانوں کا نہیں انکے ایماندار والدین کا ہے۔ کہ سبق کو قابل میراث نہ سمجھا۔

محمد احمد کہا...

@بہت خوب ذوالقرنین بھائی!

آپ کا تبصرہ پڑھ کر "میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا"

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک