کچھ علاج اس کا بھی ۔۔۔۔



پروین شاکر نے کہا تھا :

ملنا، دوبارہ ملنے کا وعدہ، جدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے

واقعی جب وقت گذر جاتا ہے تو ایسا ہی لگتا ہے حالانکہ لمحہ موجود میں آنے والے سنگِ میل کے لئے سعی اور اس کا انتظار بہت کٹھن ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے سیاسی منظر نامے میں بھی ہوا اپنے مشرف صاحب وردی بلکہ عہدہ صدارت سے بھی عہدہ برا ہوگئے ، عدلیہ آزاد ہوگئی چیف جسٹس بھی بحال ہوگئے ، این آر او بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا، قومی مالیاتی ایوارڈ (عوامی پیسہ کی بندر بانٹ ) کا دیرینہ معاملہ بھی نمٹ گیا اور تو اور اٹھارویں ترمیم بھی اللہ اللہ کرکے پاس ہو ہی گئی جس کے تحت ہمارے صوبہ سرحد کو ایک کی جگہ دو نام مل گئے۔ گو کہ عرصہ دراز تک یہ تمام امور ناممکنات میں سے ہی نظر آتے تھے لیکن وقت آنے پر پایہ تکمیل تک پہنچ ہی گئے ۔

اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ جانے سے میڈیا والوں کے سر پر یہ سوال آ کھڑا ہوا کہ اب کیا کریں بالکل ایسے ہی جیسے ہر گھر میں روز یہ سوال ہوتا ہے کہ آج کیا پکائیں یا پھر ایسے ہی جیسے ہمارے ہاں بچے امتحانات کے بعد کی فراغت کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ سنہری لمحات کیسے گزارے جائیں ۔ امتحانات کے بعد بچوں کی فارغ البالی تو قابلِ دید ہوتی ہی ہے لیکن آج کل میڈیا والوں کی خوش دلی بھی دیدنی ہے۔ اپنی شادی کے سہرے کے علاوہ اس بات کا سہرا بھی شعیب ملک کے سر جائے گا کہ اُنہوں نے عین فراغت کے دنوں میں وہ گُل کھلائے کہ اُن کے ساتھ ساتھ میڈیا والوں کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔ اب دن ہو یا رات خبر نامہ انڈین گیتوں اور شعیب اور ثانیہ کی تصاویر اور ویڈیوز سے مزین نظر آتا ہے نہ جانے کہاں کہاں سے حسبِ حال فلمی گیت ڈھونڈے جا رہے ہیں اور ہر دوسری رپورٹ اس مستقبل کی شادی کی مُووی کا سماں پیش کرتی ہے۔

اسی پر بس نہیں ہے بلکہ ہمارے ایک اور"کھلاڑی" اور شو بز کی ایک حسینہ بھی میڈیا والوں کے بُرے وقت میں کام آرہے ہیں اور اپنے بُرے وقت کو دعوت دے رہیں ہیں۔ میڈیا والے بھی روز دونوں کو آن لائن لا کر مناظرے کا اہتمام کرتے ہیں۔اس قصے میں یہ بات بڑی عجیب ہے کہ کھلاڑی صاحب حسینہ کی محبت کے ساتھ ساتھ کچھ رقم کے بھی مقروض ہیں اور حسینہ اُن سے یہ رقم سرِ عام مانگ رہی ہیں۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی نے اُن کی دولت کے علاوہ اُن میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن حسینہ کے لئے کھلاڑی موصوف میں کوئی خاص دلچسپی کی بات نہیں ہے ۔ بغیر دلچسپی کے اتنی شاہ خرچیاں بھی کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔

بہر کیف وقت گزاری کے لئے میڈیا کے یہ مشاغل واقعی بہت اچھے ہیں اور اس ضمن میں میڈیا کی کارکردگی بھی لائقِ صد ستائش ہے۔ لیکن کچھ دیر سستا لینے کے بعد میڈیا کو پھر سے کمر باندھنی ہوگی تاکہ عوامی مسائل کی نمائندگی کا فریضہ بہتر سے بہتر طور پر ادا کیا جاسکے کہ یہی حالات کا اولین تقاضہ بھی ہے۔



3 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

پھپھے کٹنی کہا...

اچھا وينا والی بات اتنی بڑھ چکی ہے مجھے معلوم نہيں تھا کوئی لنک شنک پتہ ہيں مناظرے کے تو فورا لگا کر ثواب دارين حاصل کريں اور مجھے ڈھونڈنے کی زحمت سے بچائيں

محمد احمد کہا...

لنک شنک ڈھونڈنے کی زحمت تو مجھے بھی نہیں کرنی پڑی، ٹی وی والون نے ہی اتنا رگڑ دیا اس معاملے کو کہ کہیں اور جا نے کا خیال ہی نہیں آیا، ویسے تھوڑی سی زحمت تو آپ کو کرنی ہی ہوگی اور وہ یہ کہ یو ٹیوب پر دونوں فنکاروں (گو کہ ان میں سے ایک کھلاڑی ہیں لیکن ہیں دونوں ہی فنکار) کے نام لکھ دیجے اور پھر دیکھیے.

saadblog کہا...

صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں ہر سرکاری و غیرسرکاری ادارہ عوام کی بے لوث خدمت کر کے ثوابِ دارین حاصل کر رہا ہے۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک