غزل



کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں، کوئی ہاتھ بھی نہیں ہات میں
ہیں اداسیاں مری منتظر سبھی راستوں میں جِہات میں

ہے خبر مجھے کہ یہ تم نہیں، کسی اجنبی کو بھی کیا پڑی
سبھی آشنا بھی ہیں روبرو، تو یہ کون ہے مری گھات میں

یہ اداسیوں کا جو رنگ ہے، کوئی ہو نہ ہو مرے سنگ ہے
مرے شعر میں، مری بات میں، مری عادتوں میں، صفات میں

کریں اعتبار کسی پہ کیا کہ یہ شہر شہرِ نفاق ہے
جہاں مسکراتے ہیں لب کہیں، وہیں طنز ہے کسی بات میں

چلو یہ بھی مانا اے ہمنوا کہ تغیّرات کے ماسوا
نہیں مستقل کوئی شے یہاں، تو یہ ہجر کیوں ہے ثبات میں

مری دسترس میں بھی کچھ نہیں ، نہیں تیرے بس میں بھی کچھ نہیں
میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں


محمد احمدؔ

7 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Jafar کہا...

واہ سبحان اللہ
بہت عمدہ

محمد وارث کہا...

خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، لاجواب۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ جعفر بھائی اور وارث بھائی!


۔

محمد ریاض شاہد کہا...

اسیرِ کاکلِ عشق کی ترکیب قبلہ خوب ہے ۔

محمد احمد کہا...

محمد ریاض شاہد صاحب،

سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید! اور پھر شکریہ کہ آپ نے غزل پر نظرِ التفات ڈالی.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

خوب لکھا ہے اور ختم تو زبردست کيا ہے

مری دسترس میں بھی کچھ نہیں ، تیرے بس میں بھی کچھ نہیں
میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ افتخار اجمل بھوپال صاحب !

۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک