پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا



یہ کراچی کی مصروف ترین سڑک شاہراہِ فیصل ہے۔ شام کا وقت ہے اور دو طرفہ ٹریفک بھرپور انداز میں رواں دواں ہے۔ بس اسٹاپ پر کھڑےلوگ اپنی متوقع سواریوں کا انتظار کررہے ہیں ۔

بس اسٹاپ کے ساتھ ہی ٹریفک پولیس کے دو اہلکار بڑی مستعدی کے ساتھ ٹریفک کے نظم و نسق کا کام کررہے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ بسیں اسٹاپ سے بالکل لگ کر رکیں اور کوئی بھی شخص گاڑی کو سڑک کے عین درمیان میں روک کر سواریاں چڑھانے یا اُتارنے کی کوشش نہ کرے۔ غرض یہ کہ کسی بھی طرح ٹریفک کی روانی میں خلل واقع نہ ہو۔ ٹریفک کے ان اہلکار کو دیکھ کر ہرگز گمان نہیں ہوتا کہ یہ وہی سرکاری اہلکار ہیں جن سے فرض شناسی اور پیشہ ورانہ دیانت کی اُمید رکھنا بھی بے وقوفی سمجھی جاتی ہے۔

آج سڑک کے کنارےزرا زرا سے فاصلے پر رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی اسلحے سے لیس چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ اچانک آنے والی سمت سے ٹریفک میں کمی کے آثار نظر آتے ہیں ، پھر اکا دکا گاڑیاں بھی غائب ہوجاتی ہیں۔ اب شاہراہِ فیصل پر حالتِ جنگ کا سا منظر نظر آرہا ہے۔ سڑک سنسنان ہے اور رینجرز کے اہلکار رائفل کی نوک سے اسٹاپ پر کھڑے عوام کو سڑک سے پرے سروس روڈ پر دھکیل رہے ہیں۔ کچھ لوگ دبے لفظوں میں قانون کے رکھوالوں سے تکرار بھی کر رہے ہیں لیکن اُنہیں اپنے فرائضِ منصبی کی بجا آوری کے علاوہ کچھ یاد نہیں کیونکہ آج عوام کے محبوب رہنما اس سڑک سے گزرنے والے ہیں ۔

ابھی ابھی ایک ٹریفک اہل کار جس کی موٹر سائیکل پر نیلے رنگ کی وارننگ لائٹ نصب ہے برق رفتاری کے ساتھ سڑک سے گزرا ہے ۔ یہ روڈ کلیرنس کی جانچ پڑتا ل کے لئے ہے۔ اب بے شمار گاڑیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور اسلحے سے لیس گزر رہی ہیں انہی کے درمیان دو یا تین سیاہ مرسڈیز بھی ہیں۔ انہیں مہنگے ترین برانڈ کی گاڑیوں میں غریب عوام کے محبوب رہنما عوام کی دعائیں سمیٹتے گزرہے ہیں۔

شاہانہ سواریوں کے گزرجانے کے بعد سڑک کو پھر سے عام ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ ٹریفک میں گھنٹوں پھنسے ہوئے لوگ پلک جھپکتے میں اپنی منزل پر پہنچنا چاہ رہے ہیں کچھ لوگوں نے جلدی کے چکر میں اپنی گاڑیاں ٹریفک میں آڑھی ٹیڑھی پھنسا دی ہیں۔ ٹریفک بُری طرح جام ہے لیکن ٹریفک پولیس کے فرض شناس اہلکاروں کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔


ہاتھی کے دانت



کہتے ہیں کسی بھی ملک و ملت کی ترقی اور تنزلی، اُس کی خوشحالی یا بدحالی، اس کی قیادت پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر قیادت اچھی ہو تو ملک و قوم ترقی کرتے ہیں نہیں تو وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔

قیادت کیسی ہو اس کے بارے میں دنیا میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن علامہ اقبال نے بڑا سادہ سا نسخہ پیش کردیا ہے۔

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے

اگر ہم پاکستان کے رہبرانِ ملت کو دیکھیں تو اُن میں یہ تمام اوصافِ جمیلہ بدرجہ اتم موجود ہیں۔ نگاہ ہمارے لیڈر کی بلند ہے۔ بلند بھی اتنی کہ وزارتِ عظمٰی سے نیچے ہی نہیں اُترتی ۔ سخن دلنوازی بھی موجود ہے خاص طور پر اگر خطاب عوام سے ہو اور مخاطب بھی عوام ہی ہوں، مخالفین نہ ہوں ۔ اب رہ جاتی ہے "جاں پر سوز" کی بات تو اس کڑے معیار پر بھی ہمارے قائدین پورے پورے اُترتے ہیں بلکہ گردن گردن غرق ہیں۔ ہمارے لیڈرز کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اُن کا دل خون کے آنسو نہ روتا ہویا جب عوام کے غم میں اُن کے پیٹ میں مروڑ نہ اُٹھتے ہوں۔

اگر کسی کو ہمارے ان رہبرانِ ملت کے اخلاص میں زرا بھی شبہ ہو تو وہ ناقدین ہمارے ان قائدین کے عوامی خطابات سنیں ضرور افاقہ ہوگا ۔ اُنہیں پتہ چلے گا کہ ہمارے رہبرانِ ملت کو عوام کے دکھ درد کا کتنا زیادہ احساس ہے اور عوام کی فلاح کے لئے اُن کے پاس کتنے بہترین منصوبے ہیں جو مخالفین کی بلاجواز مزاحمت کی وجہ سے پایائے تکمیل کو نہیں پہنچ پاتے ۔ ملکی سلامتی اور خود مختاری اُن کی اولین ترجیح ہے اور وہ ملکی وقار اور سالمیت پر سودے بازی کو گناہ سے بھی بد تر سمجھتے ہیں۔

گو کہ ہمارے تمام رہبرانِ ملت علامہ اقبال کی وضع کردہ کسوٹی پر پورے اُترتے ہیں بلکہ کچھ اس سے بھی سوا ہیں لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں ملک و ملت کی حالت کچھ اور ہی ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ نہیں آئی، ہمیں کیا یہ بات تو منیر نیازی کی بھی سمجھ نہیں آئی جس کا اظہار اُنہوں نے یوں کیا ہے۔

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

سمجھ نہیں آتا کہ اتنے مخلص رہبرانِ ملت کی مو جودگی کے باوجود بھی آخر کیوں

پاکستان کا ہر دور تاریخ کا نازک ترین دورہوتا ہے۔
ساری عمر عوام کا رونا رونے والے عوامی مسائل پر تب ہی کیوں زور دیتے جب اُن کی اپنی جماعت پر انگشت نمائی ہوتی ہے۔
حکومت سے علیحدگی کے لئے بھی اُسی وقت کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے جب آپ کے وزراء کو برطرف کردیا جائے یا آپ کی جماعت پر کڑی تنقید کی جائے۔
ملکی سلامتی اور وقار کی باتیں کرنے والے حکومتی اور حزبِ اختلاف کے لیڈرز جس وقت ہنس کے ہنس وائسرائے پاکستان سے باتیں کرتے ہیں تب ملکی سلامتی اور وقار جیسی چیزیں کہاں ہوتی ہیں۔
مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی معیاراور عوامی فلاح کے موضوعات پر اسمبلیوں میں چپ سادھ لینے والے لوگ مائیکروفون ہاتھ آتے ہی غریب آدمی کی کمر ٹوٹنے کا رونا کیوں روتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں سیاست کے نام پر نوجوان نسل کا مستقبل تباہ کرنے والوں کے اپنے بچے ملک سے باہر کیوں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہ اور ایسے انگنت سوالات ہیں جن کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہے اور آگے بھی کوئی آثار نہیں، لیکن تحسین ہے ہمارے رہبرانِ ملت کے لئے کہ آج بھی اُن کا ماضی بے داغ ہے اور مستقبل تابناک۔ اور میں اور آپ اُن کے جلسوں میں کھڑے نعر وں پر نعرے لگا رہے ہیں کہ ایسے پُر خلوص لیڈرز قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں۔

نہ جانے کس خیال کی رو میں اس تحریر کا عنوان "ہاتھی کے دانت" رکھ دیا ورنہ ہم تو صرف ہاتھی کے دانت کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں کہ

"ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور"

حالانکہ ہم اس تحریر کا عنوان "سال کی آخری جلی کٹی تحریر" بھی رکھ سکتے تھے۔



کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا


غزل


کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا

شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا

ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا

سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا

ملی منزل کسے کارِ وفا میں
مگریہ راستہ کتنا حسیں تھا

جلو میں تشنگی، آنکھوں میں ساحل
کہیں سینے میں صحرا جاگزیں تھا

محمد احمدؔ

تجاہلِ عارفانہ



ایک گدھابہت آرام و اطمینان کے ساتھ ایک سبزہ زار میں گھاس چر رہا تھا۔ اچانک اُسے دور جھاڑیوں میں کسی بھیڑیئے کی موجودگی کا شائبہ گزرا ، لیکن یہ گمان ایک لحظہ بھر کے لئے بھی نہ تھا ، گدھے نے اسے اپنا وہم قیاس کیا اور پھر سے ہری ہری گھاس کی طرف متوجہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد اُسے کچھ دور جھاڑیوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی وہ ایک لمحے کے لئے چونکا پھر اپنے وہم پر مسکرا دیا اور اطمینان سے گھاس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ زرا توقف کے بعد اُسے پھر سے جھاڑیوں میں ہلچل محسوس ہوئی بلکہ اب تو اُسے بھیڑیا نظر بھی آگیا لیکن اُسے اب بھی یقین نہیں آیا اور خود کو وہمی اور شکی ہونے پر ملامت کرنے لگا اور گھاس چرتا رہا۔ گدھا وہم و یقین کی اسی کشمکش میں مبتلا رہا اُس نے کئی بار بھیڑیئے کو اپنی جانب بڑھتا دیکھا لیکن ہر بار اسے اپنا وہم خیال کیا حتی کہ بھیڑیے نے گدھے پر حملہ کردیا اور چیر پھاڑ کر نے لگا تو گدھا چیخ کر بولا" بھیڑیا ہی ہے ! بھیڑیا ہی ہے"، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

آپ میں سے بہت سوں نے یہ کہانی ضرور سُنی ہوگی اور جنہوں نے نہیں سُنی وہ بھی اب تک اس سے ملتی جلتی کہانیوں کے عادی ضرور ہو گئے ہوں گے۔ ہمارے اربابِ اختیار کے وہ بیانات اب ہمارے روز مرہ میں شامل ہو گئے ہیں جن میں سامنے کے واقعات پر انجان بن کر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی جاتی ہے، ایسی کمیٹی جس کی رپورٹ طلب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

جس زمانے میں امریکہ اور اُس کے حواریوں نے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے شروع کئے تھے اُس وقت بھی ایسی ہی تشویش کا اظہار کیا جاتا تھا جو یقین سے زیادہ گمان پر دلالت کرتی ۔ کبھی امریکی حملوں کو حکومت اپنی کاروائی بتاتی تو کبھی بوکھلاہٹ میں ملکی سالمیت اور خود مختار ی پر بیانات داغے جاتے۔ اس قسم کے بیانات دینے والوں کے نزدیک ملکی سالمیت اور خود مختاری کیا معنی رکھتی ہے اس کا اندازہ اُن کے انداز سے بخوبی ہو ہی جاتا ہے۔ یہاں "بھیڑیئے" کی موجودگی کا علم تو سب کو ہی تھا لیکن
اس سلسلے میں جس "تجاہل ِ عارفانہ "سے کام لیا جاتا رہا اُس کا واقعی کوئی جواب نہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب بھیڑیا دور جھاڑیوں میں تھا اور لیکن پھر ایک وقت وہ آیا کہ ڈرون حملے معمول کا حصہ بن گئے ۔ یعنی اب ڈرون حملے ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لئے خطرہ نہیں رہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ نیوز چینل کچھ کھلے اور کچھ دبے انداز میں ڈرون حملوں کی رپورٹنگ کرتے رہے لیکن گھسے پٹے بیانات سے جان البتہ چھوٹ گئی۔

اب پھر سے ہمارے صدر اور وزیرِ اعظم نیٹو فورسز کی پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی بلکہ پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے پر بھی کچھ ایسی ہی تشویش ظاہر کر رہے ہیں جو گدھے کو بھیڑیئے کی جانب سے رہی۔ تشویش اور تحقیقات کا حکم ! ایسی تحقیقات جن کی رپورٹ طلب کرنے والا کوئی نہیں۔

نہ جانے ایسا کب تک چلتا رہے گا اور نہ جانے ایسے کب تک چل سکے گا، کیونکہ ہمارا حال سب کے سامنے عیاں ہے اور ایسے حال والوں کے انجام کی پیش گوئی اقبال کے اس شعرسے بہتر کون کرسکتا ہے۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اس ضعف اور کمزوری کا سدِ باب کرنے والا تو فی الحال کوئی نظر نہیں آتا لیکن اگر اس کے سدِّ باب کی کوشش نہیں کی گئی تو انجام بھی منطقی ہی ہوگا جس پر کسی کو شکایت نہیں ہوئی چاہیے۔




تاج سر پہ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پاؤں میں


غزل


روز، اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں
اعتماد بڑھتا ہے صبح کی فضاؤں میں

شاید ان دیاروں میں خوش دلی بھی دولت ہے
ہم تو مسکراتے ہی گھر گئے گداؤں میں

بھائیوں کے جمگھٹ میں، بے ردا ہوئیں بہنیں
اور سر نہیں چھپتے ماؤں کی دعاؤں میں

بارشیں تو یاروں نے کب کی بیچ ڈالی ہیں
اب تو صرف غیرت کی راکھ ہے ہواؤں میں

سُونی سُونی گلیاں ہیں، اُجڑی اُجڑی چوپالیں
جیسے کوئی آدم خور، پھر گیا ہو گاؤں میں

جب کسان کھیتوں میں دوپہر میں جلتے ہیں
لوٹتے ہیں سگ زادے کیکروں کی چھاؤں میں

تم ہمارے بھائی ہو، بس زرا سی دوری ہے
ہم فصیل کے باہر ، تم محل سراؤں میں

خون رسنے لگتا ہے اُن کے دامنوں سے بھی
زخم چھپ نہیں سکتے، ریشمی رداؤں میں

دوستی کے پردے میں، دشمنی ہوئی اتنی
رہ گئے فقط دشمن اپنے آشناؤں میں

امن کا خدا حافظ۔ جب کے نخل زیتوں کا

شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں


ایک بے گناہ کا خوں، غم جگا گیا کتنے
بٹ گیا ہے اک بیٹا، بے شمار ماؤں میں

بے وقار آزادی، ہم غریب ملکوں کی
تاج سر پہ رکھا ہے، بیڑیاں ہیں پاؤں میں

خاک سے جدا ہوکر اپنا وزن کھو بیٹھا
آدمی معلق سا رہ گیا خلاؤں میں

اب ندیم منزل کو ریزہ ریزہ چنتا ہے
گھر گیا تھا بےچارہ کتنے رہنماؤں میں

احمد ندیم قاسمی




عالمی یومِ امن



آج دنیا بھر میں عالمی یومِ امن منایا جا رہا ہے ۔ جب جب اس طرح کے دن منائے جاتے ہیں مجھے بڑی ہنسی آتی ہے کس ڈھٹائی سے ہم لوگ یہ سب کارِ منافقت سر انجام دیتے ہیں۔تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔طرح طرح کے بیانات داغے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہےکہ یا تو یہ بیانات دینے والے کسی اور ہی دُنیا سے آئے ہیں یا پھر اس دنیا کی تمام تر بد امنی اور جنگوں کے ذمہ دار اہلِ زمین نہیں بلکہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہے.

آج پاکستان، افغانستان اور عراق سمیت دنیا بھر میں امن کا جو حال ہے ایسے میں عالمی یومِ امن کی رسمی تقریبات منافقت نہیں تو اور کیا ہیں۔

امن کا خدا حافظ۔ جب کے نخل زیتوں کا
شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں

احمد ندیم قاسمی

نہ جانے کب تک یہ دُہرے معیار اس زمین کا مقدر رہیں گے۔






ایسے ہاتھ، ایسی دیکھ بھال پہ خاک

غزل

ڈال دی حُرمتِ وصال پہ خاک
اِس گُناہوں بھرے خیال پہ خاک

روح جیسا بدن بکھیر دیا
اے محبت تری مجال پہ خاک

آئینہ ٹوٹ ہی گیا آخر
ایسے ہاتھ، ایسی دیکھ بھال پہ خاک

ایک لمحے میں پڑ گئی کیسے
سال ہا سال کے کمال پہ خاک

درد آگے نکل گیا ہم سے
اے دلِ خستہ تیری چال پہ خاک

اور بے حال کر لیا خود کو
خاک اس شوقِ عرضِ حال پہ خاک

غیر اپنا ہے اور اپنا غیر
حاصلِ مُمکن و مُحال پہ خاک

زخم، اے وقت! داغ بن بیٹھا
جا ترے نازِ اندمال پہ خاک

لیاقت علی عاصم

امیرالمومنین کی عید

عید کے دن لوگ کاشانہ خدمت پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) دروازہ بند کرکے زار و قطار رو رہے ہیں۔ لوگوں نے حیران ہو کر تعجب سے عرض کیا۔
یا امیر المومنین ! آج تو عید کا دن ہے، مسرت و شادمانی اور خوشی منانے کا دن ۔ یہ خوشی کی جگہ رونا کیسا؟
آنسو پونچھتے ہوئے آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا۔
"اے لوگو! یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے۔ آج جس کے نماز روزے مقبول ہوگئے بلاشبہ آج اس کے لئے عید کا دن ہے لیکن آج جس کی نماز اور روزہ کو اس کے منہ پر مار دیا گیا ہو، اس کے لئے آج وعید کا دن ہے۔ اور میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوں یا رد کردیا گیا ہوں ۔

بشکریہ : کرن ڈائجسٹ

عید آنے والی ہے



عید آنے والی ہے


ماں!
ہم اپنے گھر کب جائیں گے
یہاں کیمپ میں دل نہیں لگتا
نہ کھلونے ہیں نہ دوست
بس آنسو ہی آنسو ہیں

دیکھو!
میرے کپڑوں پہ
مفلسی کے داغ لگ چکے ہیں
انہیں تبدیل کرنا ہے
اور
نئے جوتے بھی لینے ہیں

تم بولتی کیوں نہیں ہو ماں!
کیا روزِ عید بھی میں
بھوک کا روزہ
صبر کے ساتھ افطار کروں گا
بابا سے کہو نا
گھر چلتے ہیں۔

شاعرہ : سحر


بشکریہ : کامی شاہ

ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم

ہدیہء نعت بحضورِ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وسلم)

نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے
نبیؐ کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے

یہ کافروں کا بھی ایماں تھا اُن کے بارے میں
جو اُنؐ کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے

ہے امر اُنؐ کا ہمارے لیے خدا کا امر
کہ جو ہے اُن کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے

ہے اُن کا ذکرِ گرامی عروجِ نطق و بیاں
یہ اُنؐ کی نعت مِرے شعر و فن کی عظمت ہے

مجھ ایسا عاصی و تقصیر وار کیسے کہے
رُسولِ پاکؐ مجھے آپ سے محبت ہے

کہاں ہے لائقِ شانِ نبیؐ مرا لکھا
مگر یہ حرفِ شکستہ بھی رشکِ قسمت ہے

محمد احمدؔ


خاموش رہو

خاموش رہو

ابنِ انشا


کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ ۔۔۔کچھ نہ کہو، خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو۔۔۔ ہاں اے لوگو، خاموش رہو

سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی
پاگل ہو؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو

حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سُولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو

اُن کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر، سورج ہی کو گھومنے دو، خاموش رہو

مجلس میں کچھ حبس ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے
پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو

آنکھیں موند کنارے بیٹھو، من کے رکھو بند کواڑ
انشا جی لو دھاگہ لو اور لب سی لو، خاموش رہو


***********

نوشتۂ قمیص



نوشتۂ قمیص


آپ نے وہ ٹی شرٹس تو دیکھی ہی ہوں گی جن پر نوجوانوں کے اقوالِ زرّیں درج ہوتے ہیں، یہ اقوال چونکہ نوجوانوں کے ہوتے ہیں لہٰذا اقوال کم اور زرّیں زیادہ ہوتے ہیں ۔ ان ٹی شرٹس کو پہنتے بھی نوجوان ہی ہیں اور وہ اُن پرہی جچتی ہیں۔ یعنی آج کے نوجوانوں کو اظہارِ ذات کے لئے بلاگ لکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اظہارِ ذات کا یہ نسخہ آپ کے لئے بھی ضرور کام کرے گا بس خود کو نوجوان سمجھنا ہوگا اورایسا نہ سمجھنے والوں کو حاسد۔

ان ٹی شرٹس پرآپ کو اس قدر متنوع موضوعات کی تحریریں مل جائیں گی کہ بس ذرا سی کوشش سے آپ کو بھی اپنی مطلوبہ شرٹ مل جائے گی جو آپ کی جگہ کلام کرے گی۔شاید آپ سوچیں کہ یہ ٹی شرٹ کیسی ہونی چاہیے تو بس اتنا سمجھ لیجے کہ شرٹ کیسی بھی ہو بس اُس پر ایک عجیب و غریب قسم کا جملہ درج ہونا چاہیے ۔ انداز کچھ جارحانہ ہو اور تھوڑی سی بے باکی۔ ٹی شرٹ پسند کرتے ہوئے اپنے بزرگوں سمیت اُن سب لوگوں کو بالکل یاد نہ کریں جو ہمہ وقت نصیحتوں میں مشغول رہتے ہیں اور جنہیں ہر دوسری بات بے ہودہ لگتی ہے اور پہلی واہیات۔

بس ، اب تو آپ کو امجد اسلام امجد بھی نہیں کہ سکیں گے کہ " کرو جو بات کرنی ہے۔ اگر اس آس پہ بیٹھے کہ دنیا بس تمھیں سننے کی خاطرگوش بر آواز ہوکر بیٹھ جائے گی تو ایسا ہو نہیں سکتا" سو اب اگر ایسا نہیں ہوگاتو پھر ویسابھی نہیں ہوگا بلکہ اب تو آپ اجنبیوں سے بھی کلام کریں گے عین ممکن ہے کہ وہ آپ کا نوشتۂ قمیص پڑھ کر تلملا جائیں لیکن جواباً کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔ یعنی وہ جو آپ اپنے بلاگ کے قاریوں اور تبصرہ نگارو ں کو صفائیاں پیش کر کر کے عاجز ہوجاتے ہیں اُس سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

بزرگوں سے درخواست ہے کہ ان ٹی شرٹس پر درج اقوالِ زرّیں سے نوجوانوں کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی غلطی ہرگز نہ کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو آدھے سے زیادہ نوجوانوں کو اوباش اور آوارہ قرار پانے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ آدھے سے زیادہ نوجوانوں کو نہ تو اس بات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس بات سےکوئی سروکارکہ اُن کی شرٹ پرجو کچھ لکھا ہے اس کا کیا مطلب نکلتا ہے اور مزید کیا کیا مطالب نکالے جا سکتے ہیں۔

بہر کیف ٹی شرٹ کہانی کو مختصر کرتے ہوئے آپ کو بتانا یہ ہے کہ خاکسار نے بھی خاص الخاص اردو بلاگرز کے لئے اُن کے رجحانات اور میلانات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کچھ ٹی شرٹس ڈیزائین کی ہیں۔یعنی وہ تمام باتیں جو آپ اکثر کہتے ہیں اور وہ بھی جو "خیال و خاطرِ احباب"کی رٹ لگانے والوں کی وجہ سے یا پھر " خوفِ فساد خلق" کے باعث نا گفتہ رہ جاتیں ہیں اب نہیں رہیں گی۔ یعنی :

جو حق کی بات تھی وہ ہم نے برملا کہہ دی
خیال و خاطر احباب کب تلک کرتے؟

تو پھر آئیے شرٹس دیکھتے ہیں:


گو امریکہ







آزادی اظہار






کراچی








جلوہ






دینِ ملا








دیا جلائے رکھنا ہے






بات






ناصح








پاکستان



بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے








میں نہیں مانتا



اور یہ آخری ٹی شرٹ کمپلیمینٹری سب بلاگرز کے لئے


میرا اعتبار کیجے



آپ چاہیں تو آپ بھی اپنی ٹی شرٹ کے لئے اقوالِ زرّیں تجویز کر سکتے ہیں۔







یہ تحریر اور تصاویر صرف ازراہِ تفنن پیش کی جارہی ہیں اور کسی کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں ہے۔

فرض شناسی


فرض شناسی

اقتباس


ایک بڑھیا بےچاری بڑی مشکل سے ہانپتی کانپتی ٹرین کے ڈبے میں سوار ہوگئی ۔ چھوٹی سی گٹھری اس کے ساتھ تھی ۔ اسے لے کر بامشکل وہ ایک طرف کو تھوڑی سی جگہ بنا کر بیٹھ گئی ۔ یہ دو آدمیوں کا چھوٹا سا فرسٹ کلاس کا ڈبہ تھا لیکن اس کے اندر بیس آدمی ٹھسے ہوئے تھے۔ کوئی کھڑا تھا، کوئی بیٹھا تھا، جو جگہ لوگوں سے بچ گئی تھی اس میں سامان رکھا ہوا تھا۔ حالات کچھ ایسے تھے کہ کوئی کسی سے پوچھ نہ سکتا تھاکہ ۔۔۔۔ بھیا تم کس درجہ کے مسافر ہو؟ یہ فرسٹ کلاس کا ڈبہ ہے اور پہلے سے دو آدمیوں کے لئے ریزرو ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ملک تقسیم ہوا تھا پاکستان وجود میں آیا ہی تھا، اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر۔ اس لئے یہی مسلمانوں کا وطن تھا۔ ہندوستان سے مسلمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جان بچائے کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ رہے تھے ۔

پاکستان ۔۔۔۔ جو اُن کی تمناؤں کا ثمرِ نورس تھا۔
پاکستان ۔۔۔۔جس کے لئے اُنہوں نے تن من دھن کی قربانی دی تھی۔
پاکستان ۔۔۔۔جسے اسلام کی نشاطِ ثانیہ کا گہوارہ بننا تھا۔ پاکستان ان کے لئے سب کچھ تھا۔ دین بھی دنیا بھی۔ اس کا چپّہ
چپّہ ان کے لئے مقدس تھا۔

اس گلِ تازہ کی خاطر اُنہوں نے خیابان و گلزار سب چھوڑ دئیے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نہ سوچا تھا کہ ان کا کیا ہوگا۔ اُنہیں تو بس یہی ایک خوشی تھی کہ دو صدیاں گزرنے کے بعد پھر وہ دن آئے تھے کہ ارضِ ہمالہ کے ایک گوشے میں لا الہ الاللہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہ پرچم جو مسلمانوں کی عزت و وقار کا مظہر تھا۔

یہ بے چاری بُڑھیا بھی اپنا سب کچھ لٹا کر نہ جانے کس طرح بچتی بچاتی پاکستان پہنچ گئی تھی۔ اسے اتنا ہوش ہی کہاں تھا کہ یہ تمیز کر سکتی کہ وہ کس درجہ میں آکر بیٹھ گئی۔ اُسے تو بس ایک بات معلوم تھی کہ ۔۔ ۔ یہ ہمارا ملک ہے ، یہ ہماری گاڑی ہے۔ جو دوسرے مسافر تھے ان کا بھی یہی حال تھا۔ ہر ایک کا چہرہ غم و الم کی تصویر تھا۔ کیا کیا کچھ کھویا تھا کہ اس ملک کو پا لیں یہ کون کہتا ؟کیا کہتا ؟ کس سے کہتا؟ مسلسل صدمات برداشت کرتے کرتے دلوں میں ناسور پڑ گئے تھے اور زبانیں گنگ ہوگئی تھیں۔

گاڑی کو پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئے کچھ بہت زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹکٹ چیکر ڈبے میں داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک کاپی تھی، مشتاق احمد صاحب اپنی آپ بیتی کا روانِ حیات میں لکھتے ہیں۔ "ٹکٹ چیکر کو دیکھ کر معاً مجھے خیال آیا کہ مدتوں میں ریلوے کا افسر رہا ہوں۔ دیکھو ! یہ چیکر کیا کرتا ہے۔

چیکر نے بڑھیا کو دیکھا تو اس سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ و ہ اللہ کی بندی کسی قابل ہوتی تو کچھ کہتی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ پڑے ۔ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا۔ کسی درجہ کا بھی ٹکٹ نہ تھا ۔ ملک کے حالات، بڑھیا کی کیفیت ، غم واندوہ کی فضا ایسی تھی کہ عام معمولات کی پابندی بہت مشکل تھی۔ مشتاق صاحب لکھتے ہیں ۔ میں نے بڑٰی حیرت سے دیکھا کہ چیکر نے اپنی نوٹ بک نکالی اور بلا ٹکٹ سفر پر بُڑھیا کا چالان کر دیا۔ اس نے رسید کاٹ دی تو بُڑھیا اُس سے بے اختیار بولی ۔ ۔۔۔ بیٹا! میرے پاس کچھ نہیں تو یہ رسید نہ کاٹ ۔ جواب ملا ۔۔۔ امّاں اگر ہم بلا ٹکٹ سفر کریں تو ہمارے نئے ملک کا کام کیسے چلے گا؟ تمھارا چالان ہوگا پیسے داخل ہوں گے۔ تم بہت دکھیاری ہو ۔ تمھارے لئے میرا دل بھی دکھی ہے۔ یہ جرمانہ تم نہیں دوگی میں اپنی طرف سے دے دوں گا۔

احساسِ فرض، ملک کی محبت اور بے سہاروں کی خدمت کا یہ ایسا انمول واقعہ تھا کہ سب مسافروں کے دلوں پر نقش ہوگیا۔ آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ فرض شناس اور ملک دوست ٹکٹ چیکر کون تھا؟ لیکن دل بے اختیار کہتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔


شاہ بلیغ الدین کی کتاب "روشنی " سے اقتباس۔



۔

چیمپئن اور چہیتا


چیمپئن اور چہیتا


جارج برنارڈ شا نے کہا تھا ۔ "میں ڈائنامائٹ کی ایجاد پر الفریڈ نوبل کو تو معاف کرسکتا ہوں لیکن نوبل پرائز کی ایجاد کا کام ایک شیطان ہی کرسکتا ہے۔ "

I can forgive Alfred Nobel for inventing dynamite, but only a fiend in human form could have invented the Nobel Prize.

جارج برناڈ شا کو لٹریچر کے نوبل پرائز سے نوازا گیا اُس نے اپنی اہلیہ کے اصرار پر نوبل پرائز تو قبول کرلیا لیکن انعام میں ملنے والی رقم لینے سے انکار کردیا تھا اور مذکورہ بالا تاریخی جملہ ادا کیا۔ یہ ہے وہ رویّہ جو غلط کو ہر حال میں غلط کہتا ہے چاہے اُس میں اپنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ لیکن ایسے لوگ شاذ ہی ملتے ہیں جبکہ دنیا میں دُہرے معیار ات کی مثالوں کی کمی نہیں ہے۔

ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر نیوکلیئر بم گرانے والا امریکہ آج ایران کے نیوکلیئر طاقت کے حصول کی کوششوں کو پوری قوت سے روک رہا ہے اور ہر ہر محاذ پر اس کے آگے بند باندھ رہا ہے۔ یہی امن کا چیمپئن جنوبی کوریا اور شام سے تو شدید خائف ہے لیکن اپنے چہیتے اسرائیل کے لئے سب کچھ حاضر ہے ، سب کچھ جائز ہے ۔ کیوں ؟ وہی ڈبل سٹینڈرڈ۔

ایک ہی بات کوئی اور کرے تو امنِ عالم کے لئے خطرہ اور وہی بات اپنے لئے اور اپنے حواریوں کے لئے جائز! عراق اور افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کرنے اور لاکھوں لوگوں کو ہلاک و برباد کرنے والوں کے لئے امن کا نوبل انعام اور اپنے حق اور حب الوطنی کے لئے لڑنے والے دہشت گرد۔ ٹیرارسٹ!کیوں ؟ وہی ڈبل سٹینڈرڈ۔

آج اسرائیل فلسطین کے خلاف کھلی دہشت گردی پر اُترا ہوا ہے لیکن صاحب بہادر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے آخر کیوں؟ اگر امریکہ جیسا موڈریٹ، امن پسنداور انسانی حقوق کا علمبردار ملک اپنی پالیسیوں میں اس قدر تنگ نظری برت رہا ہے تو پھر وہ لوگ جو کہلاتے ہی دہشت گرد ہیں اُن سے کوئی کیا اُمید رکھ سکتا ہے۔


حوالہ جات: ۱ ۲ ۳

انکار یا فرار ۔۔۔ ایک خیال


انکار یا فرار ۔۔۔ ایک خیال



عنیقہ ناز کی فکر انگیز تحریر "انکار یا فرار" کے تبصرے میں خاکسار نے یہ تحریر درج کی ہے۔ آپ سب کی توجہ اور آرا کے لئے یہاں بھی پیش کر رہا ہوں۔

بہت اچھی اور سچی تحریر ہے۔ نوجوانوں کے موجودہ رویّے میں آپ کی بتائی ہوئی تینوں چیزیں ہی کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہیں۔ یعنی احساس محرومی، احساس ذمہ داری اور مقابلے کی فضا میں فرار ۔

اس کے علاوہ اُن کی تعلیم و تربیت اور اندازِ تعلیم و تربیت اس معاملے میں بے حد اہم ہے۔ ہماری اکثریت چونکہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہے اس لئے ہم اپنے بچوں کو تیار ہی اس طرح کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہوتے ہی معاشی بدحالی کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں ۔ یہاں تعلیم کا مطلب نوکری کا حصول ہے اور ڈگریوں کا مطلب محض فارمیلیٹی، کہ نوکری کے لئے ڈگری کا ہونا ضروری ہے۔

پھر ہم لوگوں کی تنگ اور متعصبانہ سوچ بھی ان بچوں کو ورثہ میں ملتی ہے ، وہ اسے ساری زندگی اپنے ساتھ لگا کر رکھتے ہیں اور آنے والی نسل کو منتقل کر دیتے ہیں اور اس طرح ہمیں اس بات کا موقع مل جاتا ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں کو کسی نہ کسی کے سر منڈ دیں ۔ ہم اگر مسلمان ہیں تو ہماری ناکامیوں کی وجہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ اگر ہم اردو بولنے والے ہیں تو پنجاب اور اسٹیبلشمینٹ اس کام کے لئے حاضر ہیں۔ اگر ہم پنجابی ہیں تو سندھ اور کراچی والے حاضر ہیں غرض یہ کہ ہم سب نے کسی نہ کسی کو ظالم ٹہھرا لیا اور خودکو مظلوم ثابت کرکے ہر قسم کے احتساب سے بری کر لیا۔

اگر ہم سب اپنے آپ کو پاکستانی سمجھنے لگیں تو پھر ہمیں اپنے لئے اور پاکستان کے لئے کام کرنا پڑے گا اور اپنی ناکامیوں پر اپنی ہی طرف دیکھنا پڑے گا شاید اسی لئے ہم لوگ چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کربیٹھے ہیں اور بے حد مطمئن ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے نوجوانوں کی نظر میں پاکستان کا امیج بہتر کریں اور جس طرح "آئی اون کراچی" کی تھیم کراچی میں لائی گئی ہے اسی طرح "آئی اون پاکستان" کی تھیم لائی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اپنے ملک پاکستان کو اپنا سمجھیں پاکستان سے محبت کریں ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہاں سے ہمارے نوجوان کو وہ اسپائریشن ملے گی کہ وہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔

میں نے کہا کچھ اور ہے، سوچا کچھ اور تھا


غزل



جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا
تم میرے اور کچھ، میں تمھارا کچھ اور تھا

جو خواب تم نے مجھ کو سنایا، تھا اور کچھ
تعبیر کہہ رہی ہے کہ سپنا کچھ اور تھا

ہمراہیوں کو جشن منانے سےتھی غرض
منزل ہنوز دور تھی، رستہ کچھ اور تھا

اُمید و بیم، عِشرت و عُسرت کے درمیاں
اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا، کچھ اور تھا

ہم بھی تھے یوں تو محوِ تماشائے دہر پر
دل میں کھٹک سی تھی کہ تماشا کچھ اور تھا

جو بات تم نے جیسی سنی ٹھیک ہے وہی
میں کیا کہوں کہ یار یہ قصّہ کچھ اور تھا

احمدؔ غزل کی اپنی روش اپنے طَور ہیں
میں نے کہا کچھ اور ہے، سوچا کچھ اور تھا

محمد احمدؔ


جہانگیر کا ہندوستان ۔ ۳


جہانگیر کا ہندوستان ۔ ۳



گذشتہ [۱] [۲] سے پیوستہ




پیداوار

ہندوستان کی زمین پیداوار کے لحاظ سے انتہائی زرخیز ہے لیکن یہاں‌پر کسانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ اگر کبھی کوئی گاؤں پیداوار کی کمی کی وجہ سے پورا لگان ادا نہ کر پائے تو جاگیردار یا گورنر اسے اس قدر مجبور کرتا ہے کہ اسے ادائیگی کے لئے اپنے بیوی، بچوں کو بیچنا پڑتا ہے ورنہ اسے بغاوت کے جرم میں‌سزا دی جاتی ہے۔ کچھ کسان اس ظلم و ستم سے گھبرا کر ان زمینداروں اور راجاؤں کے پاس پناہ لیتے ہیں کہ جو پہلے ہی سے باغی ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسانوں کی چھوڑی ہوئی زمینیں خالی اور بنجر ہو جاتی ہیں اور وہاں گھاس پھوس اگ آتی ہے۔ اس قسم کی زیادتیاں اس ملک میں‌بہت عام ہیں۔

گوشت کی سپلائی یہاں بھی ہالینڈ کی طرح ہے۔ اگرچہ یہاں پر یہ سستا ہے بھیڑیں، بکریاں، تیتر، بطخیں اور ہرنوں کا گوشت بازار میں ملتا ہے۔ چونکہ سپلائی بہت ہے اس لئے قیمت بھی کم ہے بیلوں اور گایوں کی قربانی نہیں کی جاتی ہے کیونکہ ایک تو ان کے ذریعے کاشت کی جاتی ہے دوسرے بادشاہ کی جانب سے ان کی قربانی کی سخت ممانعت ہے اور اس کی سزا موت ہے اس کے مقابلے میں‌بھینسوں کی قربانی کی جاتی ہے۔گائے کی قربانی کی ممانعت بادشاہ نے اپنی ہندو رعایا کو خوش کرنے کے لئے کی ہے کیونکہ وہ گائے کو دیوی اور مقدس مانتے ہیں۔ اکثر ہندو رشوت دے کر یا سفارش کرکے بادشاہ یا گورنر سے ایسا فرمان بھی جاری کروالیتے ہیں‌کہ جس کے تحت ایک خاص مدت تک مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے یا یہ پابندی لگا دی جاتی ہے کہ کچھ دنوں تک بازار میں کسی قسم کا گوشت نہیں بیچا جائے گا۔ اس قسم کے احکامات عام لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں جہاں تک امراء کا تعلق ہے تو وہ ہر روز اپنی پسند کے جانور گھروں پر ذبح کرتے رہتے ہیں۔

انتظامِ سلطنت

انتظامِ سلطنت کے بارے میں میری یہ رپورٹ مکمل نہیں ہے کیونکہ موجودہ بادشاہ کے بارے میں پوری تفصیل دینا ممکن نہیں‌ہے۔البتہ جہانگیر کے سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے اپنی شخصیت کو ختم کرکے خود کو اپنی چالاک بیوی کے حوالہ کردیا ہے کہ جس کا تعلق ایک کم تر خاندان سے ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ یا تو وہ زبان کی بڑی میٹھی ہے یا پھر اسے شوہر کو قابو کرنے کے حربے آتے ہیں۔ اس نے اس صورتحال سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور نتیجتاً اس نے آہستہ آہستہ خود کو بے انتہا مالدار بنا لیا ہے۔ اس وقت اس کی حیثیت شاہی خاندان کے کسی بھی فرد سے زیادہ ہے۔ اس کے وہ تمام حمایتی جو اس کے ساتھ ہیں انہیں بھی بے انتہا مراعات کے حاصل ہیں۔ وہ سب اس کے آدمی ہیں اور اسی کی سفارش سے ان کو ترقیاں ملی ہیں۔ چونکہ یہ تمام عہدےدار اس کے احسان مند ہیں لہٰذا بادشاہ تو برائے نام ہے۔ ورنہ تمام اختیارات اس کے اور اس کے بھائی آصف خاں کے پاس ہیں اور اس وجہ سے سلطنت پر ان کو پورا پورا کنٹرول ہے۔ بادشاہ کے کسی فرمان اور حکم کی اس وقت تک تعمیل نہیں ہوتی ہے کہ جب تک ملکہ کی اس پر تصدیق نہ ہو۔ اگرچہ انہوں نے دولت و شہرت و اقتدار سب کچھ حاصل کر لیا ہے مگر ان کی خواہشات اور ہوس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔

بادشاہ جب شکار سے واپس آتا ہے تو وہ غسل خانہ (جہاں وہ خاص خاص امراء سے ملتا تھا) میں آکر بیٹھتا ہے کہ جہاں تمام امراء اس کے سامنے آکر حاضری دیتے ہیں۔ یہاں‌پر ان لوگوں کو بھی شرفِ بازیابی ملتا ہے کہ جو بادشاہ سے ملنے کی خصوصی درخواست کرتے ہیں۔ وہ یہاں پر ایک پہر رات یا جب تا اس کی مرضی ہو رہتا ہے۔ اس دوران وہ شراب کے تین پیالے پیتا ہے۔ شراب پینے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک کے بعد ایک تین بار تھوڑے تھوڑے وقفے سے اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ شراب نوشی کے دوران جو بھی محفل میں حاضر ہوتا ہے وہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شراب نوشی کو بادشاہ کی صحت کے لئے ضروری سمجھتا ہے اسی طرح جیسے ہمارے ملک میں‌کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کی شراب نوشی میں‌رحمت ہے۔ جب بادشاہ آخری پیالہ پی کر سوجاتا ہے تو اس وقت تمام حاضرین بھی رخصت ہوجاتے ہیں۔ امراء کے جانے کے بعد ملکہ معہ کنیزوں کے آتی ہے اور اس کے کپڑے تبدیل کراتی ہے۔ یہ تین پیالے اس کو اس قدر مدہوش او رمسرو ر کردیتے ہیں کہ وہ اس کے بعد جاگنے کے بجائے سونا پسند کرتا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب اس کی ملکہ اس سے جو چاہتی ہے منظور کرالیتی ہے کیونکہ بادشاہ اس پوزیشن میں‌نہیں‌ہوتا ہے کہ وہ اس کی بات سے انکار کرے۔

بادشاہ کے تمام علاقوں، شہروں اور گاؤں وغیرہ کی سالانہ آمدنی کا حساب ایک رجسٹر میں‌لکھا جاتا ہے جو کہ دیوان کے چارج میں‌ہوتا ہے۔ اس وقت موجودہ دیوان ابوالحسن ہے تمام شہزادوں، منصب داروں اور امیروں کو ان کی حیثیت کے مطابق جاگیریں دی جاتی ہیں کہ جس کی آمدن سے وہ اپنا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ ان میں کچھ امراء بادشاہ کے دربار میں رہتے ہیں، اور اپنی جاگیر کا انتظام اپنے کسی معتمد کے حوالے کر دیتے ہیں یا وہ کسانوں یا کروڑی کو دے دیتے ہیں کہ جو اچھی یا خراب فصل پر نفع و نقصان کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن صوبے اس قدر غریب ہیں کہ ایک جاگیر جس کی آمدن پچاس ہزار تصور کر لی جاتی ہے۔ وہ درحقیقت پچیس ہزار مشکل سے وصول کرتی ہے۔ اور یہ بھی اس صورت میں کہ غریب کسانوں کو بالکل نچوڑ لیا جاتا ہے۔ اور ان کے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے بچتی ہے کہ جس سے وہ اپنا پیٹ بھر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن منصب داروں کو پانچ ہزار سوار رکھنا چاہیے وہ مشکل سے ایک ہزار سوار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی شان و شوکت اور رعب داب کے لئے ہاتھی گھوڑے اور ملازمین کی ایک تعداد رکھتے ہیں تاکہ وہ عام آدمی کے بجائے بارعب امیر لگیں اور جب ان کی سواری نکلے تو ان کے ملازمین بلند آواز میں‌لوگوں کو سامنے سے ہٹاتے رہیں۔ ایسے موقعوں پر جو لوگ راستے سے نہیں‌ہٹتے ہیں۔ انہیں‌ملازم بلا کسی لحاظ کے مارتے پیٹتے ہیں۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ ان امراء کی لالچ اور طمع کی کوئی انتہا نہیں ہے ہر وقت ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ دولت جمع کریں چاہے اس میں انہیں‌لوگوں پر ظلم و ستم کرنا پڑے یا ناانصافی سے کام لینا پڑے۔ دستور یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی امیر مرتا ہے تو دیکھے بغیر کہ وہ معمولی امیر تھا یا مقرب خاص بادشاہ کے آدمی فورا اس کے محل میں‌جاتے ہیں اور اس کے مال و اسباب و ساز و سامان کی ایک فہرست تیار کرتے ہیں یہاں تک کہ خواتین کے زیورات اور ان کے ملبوسات کو بھی نہیں چھوڑا جاتا ہے، بشرطیکہ انہیں چھپا کر نہیں رکھا جائے ۔ امیر کے مرنے پر بادشاہ اس کی جاگیر کو واپس لے لیتا ہے اس صورت میں عورتوں اور بچوں کو گذارے کے لئے معقول رقم دیدی جاتی ہے ۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔ اس کا امکان کم ہوتا ہے کہ بچے اور خاندان والے امیر کی زندگی میں اس کی دولت کا کچھ حصہ چھپا دیں تاکہ وہ بعد میں ان کے کام آئے۔ یہ اس لئے مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہر امیر کی جائداد اس کی آمدن اور اس کی دولت کے بارے میں اس کے دیوان کو پورا پورا پتہ ہوتا ہے۔ دیوان کے ماتحت کئی لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہاں یہ دستور ہے کہ جو کام ایک آدمی کرسکے اس کے لئے دس ملازم رکھے جائیں۔ ان میں‌سے ہر ایک کے پاس ایک خاص کام ہوتا ہے۔ اور اب یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ امیر کے مرنے کے بعد اس کا حساب کتاب دے۔ اگر ضرورت پڑے تو متوفی امیر کے عملہ کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ حساب کتاب کے تمام کاغذات پیش کریں اور یہ بتائیں کہ ان کے آقا کی آمدنی و اخراجات کیا تھے۔ اگر وہ کچھ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں‌تو ان کو اس وقت تک اذیت دی جاتی ہے کہ جب تک وہ سب کچھ نہ بتادیں۔ اب آپ ذرا ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچئے کہ جو ایک وقت میں سر پر ٹیڑھی ٹوپی رکھے بارعب انداز میں‌رہتا ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کے قریب جائے مگر وقت کے بدلتے ہی وہی شخص پھٹے پرانے کپڑوں اور زخمی چہرے کے ساتھ ادھر سے ادھر پریشان حال بھاگتا پھرتا ہے۔ اس کے بعد ایک ایسے شخص کے لئے اسی قسم کی ملازمت کا حصول مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ درحقیقت زندہ درگور ہوجاتے ہیں۔ میں‌اس قسم کے کئی لوگوں سے ذاتی طور پر واقف ہوں کہ جو اس اذیت سے گزرے ہیں اور اب غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

میں اکثر امراء سے جو میرے دوست ہیں یہ سوال کرتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم لوگ اس قدر محنت و مشقت کرکے دولت جمع کرتے ہو، جب کہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ دولت نہ تو تمھارے کام آسکے گی اور نہ تمھارے خاندان والوں کے ۔ اس کے جواب میں‌سوائے اس کے اور کچھ نہیں‌ہوتا کہ وہ یہ سب کچھ وقتی طور پر دنیا کو دکھلانے کے لئے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی شہرت میں اس وجہ سے اضافہ ہوتا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد اتنی جائداد ، اس قدر دولت چھوڑی ہے۔ میں ان سےکہا کرتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی شہرت اور عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو انہیں‌ یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے دوست اور خاندان والے چونکہ ان کی جمع شدہ دولت سے فائدہ نہیں‌ اٹھائیں گے اس لئے کیا یہ بہتر نہیں‌ہے کہ وہ اس میں ان غریبو‌ں کو شامل کریں کہ جن کی تعداد اس ملک میں بے شمار ہے۔ اور اس بات کی کوشش کریں کہ وہ لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کریں۔ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کریں، تاکہ عوام کو ان سے کوئی خوف نہ ہو ۔ لیکن جب بھی میں‌یہ دلائل پیش کرتا ہوں تو وہ یہ کہہ کر بحث کا خاتمہ کردیتے ہیں کہ یہ ان کے ملک کا رواج ہے۔

جہاں تک اس ملک میں قانون کا تعلق ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کوئی قانون نہیں ہے۔ انتظامِ سلطنت میں مطلق العنانیت ہے، لیکن قانونی کتابیں ضرور ہیں جو کہ قاضی کے پاس ہوتی ہیں۔ ان قوانین کے تحت سزاؤں میں ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور آنکھ کے بدلے آنکھ لینے پر عمل ہوتا ہے۔ لیکن جیسا ہمارے ہاں ہے وہ کون ہے کہ جو پوپ کو عیسائیت سے نکالے؟ اس طرح یہاں بھی کسی کی مجال نہیں کہ وہ صوبہ کے عامل سے یہ سوال پوچھ سکے کہ "تم ہم پر اس طرح کیوں حکومت کرتے ہو؟ جب کہ ہمارا قانون تو یہ مطالبہ کرتا ہے"

آدابِ زندگی

جہاں تک لوگوں کے طرزِ رہائش اور رہنے سہنے کے انداز کا سوال ہے تو امیر لوگوں کے پاس تو بے انتہا دولت اور لامحدود طاقت ہے لیکن اس کےمقابلے میں عام لوگ انتہائی غربت اور مفلسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ مفلسی کے باعث ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے پاس مشکل سے دو وقت کے کھانے کے لئے کچھ ہوتا ہے۔ ان کی رہنے کی جگہوں یا گھروں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ عبرت کا نمونہ ہیں۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ لوگ ان تکالیف کو انتہائی صبر کے ساتھ برداشت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اچھا سلوک ہو۔ ان میں مشکل ہی سے کوئی اس بات کی ٕکوشش کرتا ہے کہ اپنی زندگی کوتبدیل کرے اور اپنی موجودہ حالات کو بہتر بنائے۔ یہ اس لئے بھی مشکل ہے کہ ذات پات کی وجہ سے لڑکے کو وہی پیشہ اختیار کرنا پڑتا ہے کہ جو اس کے باپ کا ہے۔ لوگوں کے لئے یہ بھی ناممکن ہے کہ اپنی ذات سے باہر شادی بیاہ کر سکیں۔ اس لئے ہر فرد اپنی ذات اور پیشہ کے بارے میں پہلے ہی سے آگاہ ہوتا ہے۔

یہاں مزدوروں اور دستکاروں کے لئے دو عذاب ہیں۔ پہلا عذاب تو یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں بے انتہا کم ہوتی ہیں۔ سنار، رنگریز، کشیدہ کاری کرنے والے قالین بننے والے، جولاہے، لوہار، درزی ، معمار، پتھر توڑنے والے، اور اسی طرح سے دوسرے پیشہ ور دست کار و ہنر مند، یہ اس کام کو جو ہالینڈ میں ایک آدمی کرے چار مل کر کرتے ہیں۔ صبح سے شام تک کام کرنے کے بعد ان کی روزانہ کی کمائی مشکل سے 5 یا 6 ٹکہ ہوتی ہے۔ ایک دوسرا عذاب ان کے لئے گورنر، امراء، دیوان، کوتوال، بخشی اور دوسرے شاہی عہدے داروں کی شکل میں آتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کو کام کروانے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کام کرنے والے کو، چاہے وہ چاہے یا نہ چاہے زبردستی پکڑ کر بلوا لیتے ہیں، ایک مزدور یا کاریگر کی یہ ہمت نہیں ہوتی ہے کہ وہ اس پر ذرا اعتراض کرے۔ پورے دن کام کے بعد شام کو یا تو اسے معمولی سی اجرت دی جاتی ہے یا بغیر کسی ادائیگی کے اسے رخصت کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا کھانا کس قسم کا ہوگا۔ وہ گوشت کے ذائقہ سے بہت کم واقف ہوتے ہیں اور ان کے کھانے میں سوائے کھچڑی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

مذہبی توہمات

مسلمانوں کے مذہب کے بارے میں ہماری زبان میں کافی مواد چھپ چکا ہے۔ لیکن اب تک ان کے توہمات کے بارے میں‌کہ جو اس ملک میں عام ہیں، نہیں لکھا گیا ہے لہٰذا میں ان میں سے کچھ کے بارے میں‌یہاں لکھوں گا، ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جو کیتھولک فرقہ والوں کے ہاں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلا ان کے ہاں بھی اس قدر پیر، فقیر ہیں کہ جیسے کیتھولک فرقہ والوں کے ہاں بزرگ اور اولیاء ہیں۔ لیکن یہ لوگ ان کی مورتیاں نہیں بناتے ہیں کیونکہ یہ ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔ لیکن یہ بھی ان کی طرح منتیں مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہر دنیاوی بادشاہ کا اپنا دربار ہوتا ہے۔ اس کے امراء اور عہدے دار ہوتے ہیں کہ جو اپنے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں۔ او ر انتظام سلطنت کی دیکھ بھال کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تک کوئی بھی اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس کی رسائی کسی امیر یا عہدے دار سے نہ ہو اسی طرح سے خدا تک سفارش پہنچانے کے لئے بھی اس کے کسی نمائندے کی ضرورت ہے کہ جو اس کی درخواست کو منظور کرائے۔ یہ لوگ بھی کیتھولک فرقہ کی طرح اس گمراہی میں‌ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ خدا عالم الغیب اور ہر چیز کا جاننے والا ہے لیکن یہ لوگ اس سے آنکھیں بند کرکے اور خدا کی رحمت سے انکار کرکے ان جھوٹے لوگوں کے دام فریب میں آجاتے ہیں۔ ان نام نہاد اولیاء کا سحر اور جادو غریب لوگوں پر نہ صرف ان کی زندگی میں بھی چلتا ہے بلکہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے مرید اور متولی غریب لوگوں کو مسلسل فریب و دھوکے میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ عام لوگوں کو کس طرح سے قابو میں رکھا جائے اس مقصد کے لئے یہ عوام میں ان کی کراماتیں اور عجیب و غریب واقعات کے بارے میں کہانیاں پھیلاتے ہیں کہ جنہیں سن کر لوگ ان کے عقیدت مند ہو جاتے ہیں۔

ہندو مت

میری خواہش تو یہ تھی کہ میں ہندومت اور اس کے اعتقادات پر تفصیل سے لکھوں، لیکن جب میں نے اس کا مطالعہ کیا اور اس کے بارےمیں معلومات اکھٹی کیں تو مجھے پتہ چلا کہ چند دلکش اور شاعرانہ قصہ کہانیوں، ہزاروں دیوی و دیوتاؤں اور ان کے کرداروں اور عقیدوں کی بوقلمونی کے سوا اس میں اور کچھ نہیں۔ بس اس بات نے مجھے تفصیل میں جانے سے روک دیا اور میں نے سچائی کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہندو مت میں اگر ایک فرقہ کوئی بات کہتا ہے تو دوسرا فرقہ اس سے الگ ہٹ کر بالکل دوسری بات بتاتا ہے۔ اگر اس مذہب کے بارے میں مصنفین کی تحریریں پڑھو تو اس میں تضادات ہی تضادات نظر آئیں گے کیونکہ اپنا مواد شاید انہوں نے کئی فرقوں سے لیا ہوگا۔ مثلاً گجرات کے بنیوں کی لاتعداد ذاتیں ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ کھاتے ہیں‌اور نہ پیتے ہیں‌۔ برہمنوں کی ذات چونکہ قابلِ عزت ہے اس لئے صرف اس کے ساتھ کھانے پینے میں ممانعت نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں پر کھتریوں میں‌کئی ذاتیں ہیں۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی اپنے اعتقادات میں اس قدر تنگ نظر نہیں ہیں۔ یہ بھیڑ و بکری کا گوشت کھالیتے ہیں۔ اور اپنی نجی محفلوں میں‌شراب سے بھی شوق کر لیتے ہیں۔ لیکن ایسی ذاتوں سے بھی میری واقفیت رہی ہے جو کسی ایسی چیز کو نہیں‌کھاتے ہیں کہ جس میں زندگی ہو، یہاں تک کے کچھ سبزیاں بھی۔ ان کی غذا محض چاول اناج اور گھی ہوتی ہے۔ یہاں پر عام بات ہے کہ جتنے خاندان ہیں، اسی قدر عقیدے ہیں۔ چونکہ شادی بیاہ صرف ذات میں ہی ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی ذات و براداری ختم ہو جائے تو اس کے ساتھ اس کا عقیدہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔

انہی رسومات و تہواروں میں ہندو مسلمانوں سے زیادہ سخت ہیں کوئی ہندو عورت و مرد چاہے کس قدر سردی ہو، ضرور صبح کے وقت نہاتا ہے عام لوگ تو دریا یا ندی کے کنارے جا کر نہاتے ہیں جب کہ امراء گھروں‌پر نہاتے ہیں وہ اس وقت تک کھانے کو ہاتھ نہیں لگاتے جب تک کہ نہا نہ لیں۔ وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں‌کہ سال میں ایک بار گنگا میں جا کر ضرور نہائیں۔ جو اس قابل ہوتے ہیں وہ 500 سے 600 کوس کا فاصلہ اس مقصد کے حصول کے لئے طے کرتے ہیں۔ وہ اکتوبر کے مہینہ میں‌غسل کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس کے بعد ان کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں، واپسی پر وہ گنگا کا پانی اپنے ہمراہ لاتے ہیں اور اسے برکت کے لئے گھر میں رکھتے ہیں۔

کچھ برہمن بڑے ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ اچھے نجومی کی طرح ستاروں کی حرکات سے واقف ہوتے ہیں اور موسموں و حالات کے بارے میں‌صحیح پیشین گوئی کرتے ہیں۔ وہ چاند اور سورج گرہن کے بارے میں بالکل صحیح اندازہ کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ قسمت کا حال بھی بتاتے ہیں۔ ہر شہر میں اس شہرت کے دو یا چار برہمن ضرور ہوتے ہیں۔ موجودہ بادشاہ بھی خاص طور سے ایک کو اپنے دربار میں رکھتاہے۔

خاتمہ

یہ اس ملک کے لوگوں کی عادات، اطوار، انتظام اور رسم و رواج کا ایک خاکہ ہے ۔ میں نے کوشش کی ہے کہ جتنا حقیقت سے قریب ہو اسے بیان کروں لیکن میں نے جو میں نے بیان کیا ہے نہ تو یہ حتمی ہے نہ پورے ملک پرصادق آتا ہے کیونکہ اس ملک میں بہت زیادہ اختلافات ہیں، انواع و اقسام کی روایات ہیں اور لوگوں کے مذاق میں بہت فرق ہے۔ ان کے طبقہ اعلٰی اور عوام میں اس فرق کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ سے میں اس بات کو بھی ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ میں ہندوستان میں خاموش تماشائی کی طرح نہیں رہا بلکہ ان کے معاشرے اور لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔

*******
گذشتہ حوالے:
جہانگیر کا ہندوستان ۱
جہانگیر کا ہندوستان ۲

جہانگیر کا ہندوستان تینوں حصے ایک ساتھ پڑھنے کے لئے یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔

بھوک از جاوید اختر



بھوک


آنکھ کھل گئی میری
ہوگیا میں پھر زندہ
پیٹ کے اندھیروں سے
ذہن کے دھندلکوں تک
ایک سانپ کے جیسا
رینگتا خیال آیا
آج تیسرا دن ہے۔۔۔۔ آج تیسرا دن ہے

اک عجیب خاموشی
منجمد ہے کمرے میں
ایک فرش اور اک چھت
اور چار دیواریں
مجھ سے بے تعلّق سب
سب مرے تماشائی
سامنے کی کھڑکی سے
تیز دھوپ کی کرنیں
آرہی ہیں بستر پر
چُبھ رہی ہیں چہرے پر
اس قدر نکیلی ہیں
جیسے رشتے داروں کے
طنز میری غربت پر
آنکھ کھل گئی میری
آج کھوکھلا ہوں میں
صرف خول باقی ہے
آج میرے بستر میں
لیٹا ہے مرا ڈھانچہ
اپنی مُردہ آنکھوں سے
دیکھتا ہے کمرے کو
آج تیسرا دن ہے
آج تیسرا دن ہے

دوپہر کی گرمی میں
بے ارادہ قدموں سے
اک سڑک پہ چلتا ہوں
تنگ سی سڑک پر ہیں
دونوں سمت دُکانیں
خالی خالی آنکھوں سے
ہر دُکان کا تحتہ
صرف دیکھ سکتا ہوں
اب پڑھا نہیں جاتا
لوگ آتے جاتے ہیں
پاس سے گزرتے ہیں
پھر بھی کتنے دھندلے ہیں
سب ہیں جیسے بے چہرہ
شور ان دُکانوں کا
راہ چلتی اک گالی
ریڈیو کی آوازیں
دُور کی صدائیں ہیں
آرہی ہیں میلوں سے
جو بھی سن رہا ہوں میں
جو بھی دیکھتا ہوں میں
خواب جیسا لگتا ہے
ہے بھی اور نہیں بھی ہے
دوپہر کی گرمی میں
بے ارادہ قدموں سے
اک سڑک پہ چلتا ہوں
سامنے کے نُکّڑ پر
نل دکھائی دیتا ہے
سخت کیوں ہے یہ پانی
کیوں گلے میں پھنستا ہے
میرے پیٹ میں جیسے
گھونسہ ایک لگتا ہے
آرہا ہے چکّر سا
جسم پر پسینہ ہے
اب سکت نہیں باقی
آج تیسرا دن ہے
آج تیسرا دن ہے

ہر طرف اندھیرا ہے
گھاٹ پر اکیلا ہوں
سیڑھیاں ہیں پتّھر کی
سیڑھیوں پہ لیٹا ہوں
اب میں اُٹھ نہیں سکتا
آسماں کو تکتا ہوں
آسماں کی تھالی میں
چاند ایک روٹی ہے
جھک رہی ہیں اب پلکیں
ڈوبتا ہے یہ منظر
ہے زمین گردش میں

میرے گھر میں چُولھا تھا
روز کھانا پَکتا تھا
روٹیاں سُنہری ہیں
گرم گرم یہ کھانا
کُھل نہیں رہی آنکھیں
کیا میں مرنے والا ہوں
ماں عجیب تھی میری
روزاپنے ہاتھوں سے
مجھ کو وہ کھلاتی تھی
کون سرد ہاتھوں سے
چھو رہا ہے چہرے کو
اک نوالا ہاتھی کا
اک نوالا گھوڑے کا
اک نوالا بھالو کا
موت ہے کہ بے ہوشی
جو بھی ہے غنیمت ہے
آج تیسرا دن تھا۔ ۔۔۔آج تیسرا دن تھا


جاوید اختر

جہانگیر کا ہندوستان ۔ ۲



جہانگیر کا ہندوستان - ۲


گذشتہ سے پیوستہ

اور اب پیلسے ئرٹ آپ سے مخاطب ہیں:

یہ رپورٹ میرے اُن تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے کہ جو میں نے یونائیٹڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سینئر فیکٹر کی حیثیت سے پیٹرفان ۔ ڈین ۔ بروکے کی ماتحتی میں آگرہ کی تجارتی کوٹھی میں سات سالہ قیام کے دوران لکھی۔ اس دوران میں مجھے تجارت کی غرض سے دوسرے شہر بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ذیل میں اس رپورٹ کی تفصیل (یہاں صرف منتخب اقتباسات دئیے گئے ہیں)ہے۔

آگرہ

سب سے پہلے آگرہ شہر کا ذکر کروں کہ جو کافی وسیع و عریض ، کھلا ہوا ، اور بغیر فصیلوں کے ہے۔ مگر اس پر زوال کے آثار نظر آتے ہیں۔ شہر کے مکانات اور سڑکیں بغیر کسی منصوبہ اور پلان کے بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہاں پر شہزادوں اور امراء کی حویلیاں موجود ہیں مگر وہ سب تنگ و تاریک گلیوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ اس شہر کی اچانک اور غیر معمولی ترقی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے یہ بیانہ کی حدود میں واقع ایک معمولی سا قصبہ تھا۔ لیکن 1566ء میں اکبر نے اس شہر کو اپنی رہائش کے لئے منتخب کیا اور دریائے جمنا کے کنارے ایک عالیشان قلعہ تعمیر کرایا تو اس قصبہ کی شکل و صورت ہی بدل گئی۔

اس کے ارد گرد گھنے جنگلات کی وجہ سے اب یہ شہر ایک شاہی باغ معلوم ہوتا ہے۔ شاہی محلات اور قلعہ کی وجہ سے امراء نے بھی اس شہر میں کہ جہاں اُنہیں جگہ ملی اپنی حویلیاں تعمیر کرائیں۔ اس غیر منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں پر کوئی منڈیاں یا بازار اس طرح سے نہیں ہیں جیسے کہ لاہور، برہانپور، احمدآباد یا دوسرے شہروں میں ہیں۔ شہر میں مکانات ایک دوسرے کےقریب قریب ہیں۔ ہندو مسلمان اور امیرو غریب سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر موجودہ بادشاہ (جہاں گیر) اس شہر کو اپنی رہائش گاہ بنا لیتا جیسا کہ اکبر نے بنایا تھا، تو یہ شہر دنیا کے مشہور شہروں میں سے ایک ہوجاتا۔ اس شہر کے دروازے جو اکبر نے دفاع اور حفاظت کے لئے تعمیر کرائے تھے وہ اب شہر کے درمیان آگئے ہیں، اور اس کے آگے جو شہر پھیلا ہے وہ موجودہ شہر سے تین گنا زیادہ ہے۔

شہر کی چوڑائی، اس کی لمبائی کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے کیونکہ ہر ایک کی یہ کوشش ہے کہ دریا کے قریب رہے۔ اس لئے دریا کے کناروں پر امراء کے شاندار محلات ہیں جس کی وجہ سے یہ خوبصورت اور دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔

ان محلات کے بعد شاہ برج یا شاہی قلعہ ہے۔ اس کی فصیلیں سرخ پتھروں سے تعمیر کی گئ ہیں۔ فصیلوں کی چوڑائی ¾ گز ہے ،پھیلاؤ میں یہ 2 کوس ہے۔ اس کی تعمیر میں جو بھی خرچہ ہوا، اور اس کا جو طرزِ تعمیر ہے۔ اس وجہ سے یہ دنیا کی مشہور عمارتوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمارت مناسب جگہ پر واقع ہے اس کے اردگرد کا ماحول انتہائی خوشگوار ہے۔ اس کا جو حصہ دریا کے رخ پر ہے وہاں پتھروں کی خوبصورت جالیاں اور سنہری کھڑکیاں ہیں۔ یہاں سے بادشاہ اکثر ہاتھیوں کی لڑائی دیکھتا ہے۔ اس کے تھوڑے فاصلہ پر غسل خانہ (وہ جگہ جہاں بادشاہ خاص خاص امراء سے ملتا تھا۔ یہ نجی محفلوں کے لئے بھی مخصوص تھا) ہے جو کہ سنگِ مرمر سے تعمیرکیا گیا ہے۔ شکل میں‌یہ چوکور ہے ۔ اس کے گنبد پر باہر سے طلاء کاری ہے جس کی وجہ سے یہ قریب سے دیکھنے پر شاہی اور دور سے دیکھنے پر شہنشاہی نظر آتا ہے۔ اس کے آگے موجودہ ملکہ نور جہاں کا محل ہے۔ قلعہ میں شہزادوں، بیگمات، اور حرم کی خواتین کی رہائش گاہیں ہیں۔ انہیں میں‌ایک محل مریم زمانی کا ہے جو کہ اکبر کی بیگم اور موجودہ بادشاہ کی ماں ہے۔ ان کے علاوہ تین اور محلات ہیں کہ جو اتوار، منگل اور سنیچر کہلاتے ہیں بادشاہ انہیں دنوں میں‌یہاں ہوتا ہے۔ بنگالی محل میں مختلف اقوام کی عورتیں رہتی ہیں ۔ دیکھا جائے تو یہ قلعہ ایک چھوٹا سا شہر ہے کہ جس میں مکانات ہیں، سڑکیں ہیں، دوکانیں ہیں، اندر سے یہ قلعہ معلوم نہیں‌ہوتا، مگر باہر سے دیکھو تو یہ ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ نظر آتا ہے ۔

دریا کے دوسری جانب سکندرہ نامی شہر ہے۔ یہ آباد شہر ہے اور خوبصورتی و منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا ہے یہاں کی اکثر آبادی تاجروں کی ہے۔ اسی شہر سے مشرقی علاقوں اور بھوٹان سے تجارتی سامان آتا ہے۔ یہاں پر نورجہاں کے عہدے دار ان اشیاء پر دریا پار کرنے سے قبل کسٹم ڈیوٹی وصول کرتے ہیں۔ یہ جگہ تجارت کی سب سے بڑی منڈی ہے یہ دو سو کوس کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے ، اگرچہ چوڑائی کم ہے مگر یہاں پر خوبصورت باغات اور بلند و بالا عمارتیں ہیں۔

ان میں سے مشہور سلطان پرویز، نورجہاں اور اس کے مرحوم باپ اعتمادالدولہ کی عمارتیں ہیں۔ اس کا مقبرہ بھی اس شہر میں ہے۔ اس کی تعمیر پر تین لاکھ پچاس ہزار روپیہ کا خرچہ آچکا ہے اور یہ ابھی تک مکمل نہیں‌ہوا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے ختم ہونے تک اس پر دس لاکھ مزید خرچ ہوں گے۔ یہاں پر دو مشہور باغات ہیں کہ جو بادشاہ کی ملکیت ہیں، یہ چہار باغ اور موتی محل کے نام سے موسوم ہیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سے باغات ہیں کہ جو اونچی دیواروں سے گھرے ہوئے ہیں۔ اور جن کے دروازے باغ سے زیادہ قلعہ کے معلوم ہوتے ہیں۔ ان باغات و محلات کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی بڑھ گئی ہے۔ یہاں کے امراء کی دولت اور شان و شوکت ہمارے ہاں کے امراء سے زیادہ ہے۔ جب تک وہ زندہ رہتے ہیں، اپنے باغات سے لطف اُٹھاتے ہیں، جب یہ مرجاتے ہیں تو یہی باغات ان کے مقبرے بن جاتے ہیں۔ اس شہر میں ان کی تعداد اس قدر ہے کہ میں ان کا ذکر کرنا نہیں چاہتا۔

آگرہ کے مشرقی علاقوں کی تجارت

اکبر کے دور حکومت میں‌تجارت کو بڑا فروغ تھا، یہ صورت حال موجودہ بادشاہ کے ابتدائی عہد میں بھی رہی، کیونکہ اس وقت تک اس میں تازگی و توانائی اور حکومت کرنے کا سلیقہ تھا۔ لیکن جب سے اس نے خود کو لہو و لعب میں مبتلا کر لیا ہے، اس وقت سے عدل و انصاف کی جگہ ظلم و ستم نے لے لی ہے۔ اگرچہ ہر گورنر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کرے ، لیکن اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ ہر گورنر مختلف حیلوں، بہانوں سے لوگوں کو لوٹ رہا ہے اور ان کی ذرائع آمدن پر قابض ہو رہا ہے ۔ کیونکہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ ان غریب لوگوں کی پہنچ نہ تو دربار تک ہے اور نہ ہی بادشاہ تک اپنی شکایات پہنچا سکتے ہیں۔ نتیجہ ان سب باتوں کا یہ ہوا ہے کہ ملک تباہ ہوگیا ہے، لوگ غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔ اس شہر کے پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ اب اس میں ماضی کی کوئی شان وشوکت باقی نہیں رہی ہے کہ جس کی وجہ سے کبھی یہ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ اس شہر کی تجارتی اہمیت اس لئے ابھی تک باقی ہے کیونکہ جغرافیائی طور پر یہ ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں سے تمام ملکوں کو راستے جاتے ہیں۔ اس لئے اس راستے سے تمام تجارتی اشیاء کو گزرنا ہوتا ہے، مثلا گجرات، ٹھٹھہ، کابل، قندھار،ملتان اور دکن برہانپور اور لاہور کے راستے یہیں سے گزرتے ہیں بلکہ بنگال اور تمام مشرقی علاقے بھی یہاں سے ملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نعم البدل کے طور پر نہیں ہے۔ ان راستوں پر بڑی تعداد میں تجارتی اشیاء آتی جاتی ہیں۔

آگرہ کے مشرق اور مغرب میں واقع صوبوں کا ذکر

لاہور، آگرہ سے 300 کوس مشرق، مغرب میں‌واقع ہے۔ انگریزوں کے آگرہ آنے سے پہلے یہ ہندوستان کا مشہور تجارتی مرکز تھا اور یہاں آرمینا اور شام کے تاجر منافع بخش تجارت کرتے تھے۔ اس وقت نیل کی اہم منڈی آگرہ نہیں بلکہ لاہور تھا کیونکہ یہ تاجروں کے لئے سہولت کا باعث تھا کہ جو مقررہ موسموں میں قندھار سے اصفہاں اور شام قافلوں کی شکل میں جاتے تھے۔ اس لئے نیل شام کے راستے سے یورپ جاتی تھی، یہ یورپ میں‌لاؤری یا لاہوری کہلاتی تھی اب بھی یہاں سے گولکنڈا، منگاپٹم اور مالی پٹم کے بنے ہوئے کپڑوں کی تجارت ہوتی ہے، مگر بہرحال تجارت کی پہلی والی صورت اب باقی نہیں رہی ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اب یہ تجارت مر چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے درآمد کرنے والی اشیاء اب صرف ترکی اور ایران کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں کہ جس کی مانگ محدود ہے۔ چونکہ اب تجارت خشکی سے زیادہ سمندری راستوں سے ہوتی ہے، اس لئے اس کی اہمیت گھٹ کر رہ گئ ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر لاہور کی تجارت عملی طور پر ختم ہوگئی ہے، ہندو یا کھتری تاجر جو یہ تجارت کرتے تھے ان کی شہرت اب تک باقی ہے مگر ان کا گذارہ پرانے کمائے ہوئے منافع پر ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ سے موجودہ بادشاہ سال کے پانچ یا چھ مہینے لاہور میں گزارتا ہے (بقیہ وقت، خصوصیت سے گرمیوں کا زمانہ یہ کشمیر یا کابل میں‌رہ کر گزارتا ہے) اس کی رہائش کی وجہ سے شہر کی حالت تھوڑی بہت بہتر ہوگئی ہے۔ لیکن اس کی یہ ساری شان و شوکت، شاہی عمارتوں، محلات، باغات اور شاہی اخراجات کی وجہ سے ہے، اس لئے اس کے اثرات بھی محدود ہیں۔

کشمیر

کشمیر 35 این۔ عرض البلد پر واقع ہے۔ مشرق کی جانب اس کی سرحدیں تبت خورو و کلاں تک جاتی ہیں جو کہ دس دنوں کے سفر کے فاصلے پر ہے۔ جنوب میں‌اس کی سرحدیں کابل سے جا کر ملتی ہیں جو کہ یہاں سے 30 دن کا سفر ہے۔ مغرب میں پونچھ اور پشاور واقع ہیں۔ اس کا سب سے خوبصورت شہر دیرناگ ہے جہاں کہ بادشاہ کے لئے ہندوستان میں‌سب عمدہ شکار گاہیں ہیں۔ اس علاقے میں بڑے خوبصور شہر اور گاؤں واقع ہیں ان کی اتنی تعداد ہے کہ ان سب کا بیان کر مشکل ہے۔

اس لئے اب ہم سب سے مشہور شہر کشمیر (سری نگر) کا بیان کرتے ہیں جو کہ اونچے اونچے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں کا ایک پہاڑ مسلمانوں میں تخت سلیمان کہلاتا ہے جس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں، اور کئی کراماتیں اس سے منسوب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر کئی قدیم تحریریں موجود ہیں، اور یہ کہ خود حضرت سلیمان نے یہاں اپنا تخت بنوایا تھا۔ شہر میں پھلوں والے اور دوسرے لا تعداد درخت ہیں۔ یہاں پر دو دریا بہتے ہیں۔ ان میں‌سے بڑا دریا دیر ناگ سےآتا ہے، دوسرا چشمہ کی صورت ابلتا ہے۔ لیکن ان دونوں دریاؤں کا پانی نہ تو میٹھا ہے اور نہ ہی صحت مند۔ اس لئے یہاں کے باشندے اسے پینے سے پہلے ابال لیتے ہیں۔ بادشاہ اور اس کے امراء کے لئے 3 یا 4 کوس سے پانی لایا جاتا ہے جو صاف اور برف کی طرح سفید ہوتا ہے۔ جہانگیر بادشاہ نے پانی کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ایک کاریز تعمیر کرائی تھی کہ جو کہ 10 یا 12 کوس کے فاصلہ سے قلعہ میں پانی لاتی تھی۔ لیکن اس خیال سے کہ اسے آسانی کے ساتھ دشمن یا باغی زہر آلود کر سکتے ہیں اس نے کوئی 10 ہزار روپیہ خرچ کرنے کے بعد اس منصوبہ کو ترک کردیا۔

اس ملک اور شہر کے لوگوں کی اکثریت غریب ہے۔ لیکن جسمانی طور پر یہ لوگ طاقتور ہیں، اور بمقابلہ ہندوستانیوں کے زیادہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس لئے حیرت کی بات ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو بہت کم کھانے کو ملتا ہے۔ ان کے بچے اس ملک اور شہر کے لوگوں کی اکثریت غریب ہے۔ لیکن جسمانی طور پر یہ لوگ طاقتور ہیں، اور بمقابلہ ہندوستانیوں کے زیادہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس لئے حیرت کی بات ہے کہ یہاں مردوں اور عورتوں کو بہت کم کھانے کو ملتا ہے۔ ان کے بچے گورے اور خوبصورت ہوتے ہیں، لیکن جب یہ بڑے ہوتے ہیں‌تو پیلے اور بدصورت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے طور طریق خوراک اور رہائش کو دیکھا جائے تو وہ انسانوں سے زیادہ جانوروں سے نسبت رکھتے ہیں۔

یہ لوگ مذہبی امور میں بڑے سخت ہیں۔ اکبر کے زمانہ میں کشمیر کو اس کے جنرل راجہ بھگوان داس نے حیلے و بہانے سے فتح کیا تھا کیونکہ دوسری صورت میں پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے اس ملک کو فتح کرنا آسان نہ تھا۔

کشمیر میں پھلوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جیسے سیب، ناشپاتی اور اخروٹ وغیرہ لیکن ذائقہ میں یہ ایران و کابل کے پھلوں کے مقابلہ میں کم تر ہیں۔ دسمبر جنوری اور فروری میں‌یہاں سخت سردی ہوتی ہے۔ ان مہینوں‌میں‌بارش اور برف باری ہوتی ہے اور پہاڑ برف کی وجہ سے سفید نظر آتے ہیں۔ جب گرمی میں سورج چمکتا ہے تو اس وقت برف پگھلنے سے دریاؤں میں‌سیلاب آجاتا ہے۔

بادشاہ کشمیر کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ جب ہندوستان میں گرمیوں کا موسم آتا ہے تو اس کا جسم کثرت سے شراب پینے اور افیم کھانے کی وجہ سے جلنے لگتا ہے۔ اس لئے وہ مارچ یا اپریل میں لاہور سے کشمیر کے لئے روانہ ہوجاتا ہے۔ مئی کے مہینے میں‌یہاں پہنچ جاتا ہے۔ یہ سفر انتہائی دشوار اور خطرناک ہے۔ پہاڑی راستوں کی وجہ سے جانوروں کے لئے سامان اُٹھا کر چلنا مشکل ہوتا ہے اس لئے بادشاہ اور اُمراء کا سامان مزدور اپنے سروں پر اُٹھا کر لاتے ہیں۔ بادشاہ کے کیمپ کے تمام لوگ اس سفر کو اپنے لئے عذابِ الہٰی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس میں امیر لوگ غریب ہو جاتے ہیں اور غریبوں کو کھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں کیونکہ یہاں ہر چیز انتہائی مہنگی ہے۔ مگر بادشاہ ان سب باتوں سے بے پرواہ ہو کر اپنی آسائش و آرام کو دیکھتا ہے اور عوام کی تکلیف کا اسے خیال تک نہیں آتا۔



گذشتہ حوالہ: جہانگیر کا ہندوستان-۱


جہانگیر کا ہندوستان


جہانگیر کا ہندوستان




"جہانگیر کا ہندوستان" پیلسے ئرٹ (پیل سارٹ) کا سفرنامہ ہندوستان ہے۔ پیلسے ئرٹ نے یہ کتاب (سفرنامہ) ڈچ زبان میں1626ء میں لکھی جس کا انگریزی ترجمہ ڈبلیو ۔ ایچ۔ مورلینڈ نے 1925ء میں کیا ۔ اس انگریزی ترجمہ سے اردو ترجمہ کا کام ڈاکٹر مبارک علی نے 1997ء میں انجام دیا۔

پیلسے ئرٹ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اور زیرِ نظر تحریر اُس نے اپنی کمپنی کے لئے بطور تجارتی رپورٹ لکھی تھی جس میں تجارتی معاملات کے ساتھ ساتھ اُس نے اُس وقت کے ہندوستان کے انتظامی امور، عوامی مزاج ا ور معاشرتی و ثقافتی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا ہے ۔ تاریخ کے سنجیدہ قارئین کے ساتھ ساتھ اس تحریر میں عام لوگوں کے لئے بھی دلچسپی کا سامان ہے کہ اُس وقت کے ہندوستان کا عکس ہمارے آج کے منظرنامے سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ احباب کو شاملِ مطالعہ کرنے کے لئے اس کتاب سے چیدہ چیدہ اقتباسات درج کئے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی کی اس کتاب کا انتساب بھی قابلِ ذکر ہے۔ انتساب کے عنوان کے تحت ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں " محترم عبدالعزیز کے نام ۔ جنہوں نے سیاسی مسائل پر ملک کے نامور دانشوروں اور سیاست دانوں سے بحث کی اور پھر اُن سے مایوس ہوکر اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے مسائل کا حل ہمیں ہی تلاش کرنا ہے"۔

دیباچہ میں ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں:

تاریخ اس وقت ہی سمجھ آتی ہے جب بنیادی ماخذوں کا مطالعہ کیا جائےاس لئے پیلسے ئرٹ کی کتاب کا ترجمہ کیا گیا ہے تاکہ جہانگیر کے ہندوستان سے آگہی ہو۔کتاب کا ترجمہ کرتے وقت اس چیز کو مدِّ نظر رکھا گیا ہے کہ اسے عام فہم زبان میں کیا جائے اس لئے وہ حصے شامل نہیں کئے گئے جن کا مقصد ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی معلومات فراہم کرنا تھا۔

نوٹ: ڈاکٹر مبارک علی نے جہانگیر کے بارےمیں مختصر تعارف بھی لکھا ہے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے مغل تاریخ نہیں پڑی ہے وہ اس حکمران کے بارے میں جا ن سکیں بوجہ طوالت یہ تعارف اس مضمون میں شامل نہیں ہے اگر آپ یہ تعارف پڑھنا چاہیں تو یہاں سے اسکیننگ ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

کتاب کے تعارف میں ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں:

ڈچ ہندوستان میں 1602 ء میں بغرضِ تجارت آئے۔ جب ہندوستان میں کپڑے کی زیادہ مانگ ہوئی تو انہوں نے کھمبے، بھڑوچ اور آگرہ میں اپنی تجارتی کوٹھیاں (فیکٹریاں) قائم کیں کہ جہاں کپڑا تیار ہوتا تھا ۔ آگرہ کی فیکٹری ہی میں ڈچ فیکٹر پیلسے ئرٹ آیا تھا۔ اُس کی آمد کا مقصد ڈچ تجارت کو فروغ دینا تھا۔ ہندوستان میں اپنے قیام کے دوران اس نے جو رپورٹ لکھی اگرچہ اس کا تعلق تجارتی معاملات سے ہے مگر اس میں جہانگیر کے عہد کے بہت سے واقعات ہیں ۔ خصوصیت کے ساتھ اس نےاس وقت کی سماجی زندگی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کی تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت ہے۔

چونکہ درباری مورخ اور واقعہ نویس صرف تعریفیں لکھتے ہیں اس لئے پیلسے ئرٹ کے مشاہدات میں جو عام لوگوں کی زندگی کے بارے میں مواد ملتا ہے اس سے ہماری تاریخیں خالی ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کا معاشرہ بھی آج کی طرح امیر و غریب کے طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ رشوت، بدعنوانیاں، ناجائز طریقوں سے دولت اکھٹی کرنا اس وقت بھی حکمران طبقوں کا کام تھا۔ غریبوں کے طرزِ زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغل سلطنت کی شان و شوکت اور دولت محلات و حویلیوں سے اُتر کر جھونپڑیوں تک نہیں آئی تھی۔

یہ ظاہر ہے کہ جس معاشرہ میں غربت، مفلسی اور محرومی ہوگی وہ محروم لوگ توہمات میں پناہ لیں گے، اس لئے آج کی طرح ماضی میں بھی مزار لوگوں کی زیارت کا مرکز تھے کہ جہاں وہ نہ پوری ہونے والی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے منتیں مانتے تھے۔

اس لئے ذہن میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا ہماری تاریخ کا یہ تسلسل آج بھی اسی طرح سے برقرار ہے کہ جیسا یہ ماضی میں تھا؟ اس رپورٹ کے بہت سے حصوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ باتیں جہانگیر کے عہد کی نہیں بلکہ ہمارے زمانے کی ہیں۔ تو کیا تاریخ کے اس پورے سفر میں ہمارا معاشرہ ایک ہی جگہ ٹھہرا رہا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی بھی آئی ہے؟ اس میں امراء کی دولت مندی، دولت کی دکھاوٹ کے طریقے، رعونت، اور بدعنوانیوں کے جو تذکرے ہیں، دیکھا جائے تو آج کے حالات میں صرف ماحول بدلا ہے، ورنہ فرق کوئی نظر نہیں آتا ہے۔

اس رپورٹ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ جس وقت اہلِ یورپ ہمارے معاشرہ کو جاننے اور سمجھنے میں مصروف تھے، اس وقت بھی ہم یورپ اور اس کے معاشرے سے ناواقف تھے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یورپی علماء و فضلاء آکر ہمیں ہماری تاریخ اور روایات و اداروں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ہم اہلِ یورپ کو ان کے بارے میں کچھ بتائیں ۔ اکثر تو ہم اس پر بھی خوش ہوجاتے ہیں کہ "تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی" اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کہ کب اس خود کشی کی خبر آتی ہے۔
اب چونکہ یورپ جانا زیادہ مشکل نہیں رہا ہے۔ اس لئے لوگ یورپ کے سفر نامے بہت لکھنے لگے ہیں، مگر ذرا مقابلہ کیجئے اس سترہویں صدی کے یورپی مسافر کے مشاہدات اور تاثرات کا اور ہمارے آج کے سیاحوں کا کہ جنہیں یورپ میں سوائے لڑکیوں اور محبوباؤں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ ان سفرناموں کو پڑھ کر نہ تو یورپ کے بارے میں کچھ پتہ چلتا ہے اور نہ ان کے معاشرے کے بارے میں۔ یہ سفرنامے پیسہ کمانے کے لئے ہوتےہیں۔ علم دینے کے لئے نہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کے بیانات کو آنکھیں بند کرکے قبول بھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سیاح اپنے ملک کی تہذیب و روایات کے اس قدر عادی ہوتے ہیں کہ انہیں دوسرے معاشروں میں یہ اجنبی اور بری لگتی ہے۔ ان کے اپنے تعصبات اپنی جگہ، مگر ان کے ہاں وہ مشاہدات بھی مل جاتے ہیں کہ جنہیں ہماری نظریں نہیں دیکھتی ہیں۔

پیلسےئرٹ کے یہ مشاہدات نہ صرف ماضی کو بلکہ ہمارے حال کو بھی سمجھنے میں مدد دیں گے۔

کچھ علاج اس کا بھی ۔۔۔۔



پروین شاکر نے کہا تھا :

ملنا، دوبارہ ملنے کا وعدہ، جدائیاں
اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ گئے

واقعی جب وقت گذر جاتا ہے تو ایسا ہی لگتا ہے حالانکہ لمحہ موجود میں آنے والے سنگِ میل کے لئے سعی اور اس کا انتظار بہت کٹھن ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے سیاسی منظر نامے میں بھی ہوا اپنے مشرف صاحب وردی بلکہ عہدہ صدارت سے بھی عہدہ برا ہوگئے ، عدلیہ آزاد ہوگئی چیف جسٹس بھی بحال ہوگئے ، این آر او بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا، قومی مالیاتی ایوارڈ (عوامی پیسہ کی بندر بانٹ ) کا دیرینہ معاملہ بھی نمٹ گیا اور تو اور اٹھارویں ترمیم بھی اللہ اللہ کرکے پاس ہو ہی گئی جس کے تحت ہمارے صوبہ سرحد کو ایک کی جگہ دو نام مل گئے۔ گو کہ عرصہ دراز تک یہ تمام امور ناممکنات میں سے ہی نظر آتے تھے لیکن وقت آنے پر پایہ تکمیل تک پہنچ ہی گئے ۔

اتنے بہت سے کام اچانک نمٹ جانے سے میڈیا والوں کے سر پر یہ سوال آ کھڑا ہوا کہ اب کیا کریں بالکل ایسے ہی جیسے ہر گھر میں روز یہ سوال ہوتا ہے کہ آج کیا پکائیں یا پھر ایسے ہی جیسے ہمارے ہاں بچے امتحانات کے بعد کی فراغت کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ سنہری لمحات کیسے گزارے جائیں ۔ امتحانات کے بعد بچوں کی فارغ البالی تو قابلِ دید ہوتی ہی ہے لیکن آج کل میڈیا والوں کی خوش دلی بھی دیدنی ہے۔ اپنی شادی کے سہرے کے علاوہ اس بات کا سہرا بھی شعیب ملک کے سر جائے گا کہ اُنہوں نے عین فراغت کے دنوں میں وہ گُل کھلائے کہ اُن کے ساتھ ساتھ میڈیا والوں کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔ اب دن ہو یا رات خبر نامہ انڈین گیتوں اور شعیب اور ثانیہ کی تصاویر اور ویڈیوز سے مزین نظر آتا ہے نہ جانے کہاں کہاں سے حسبِ حال فلمی گیت ڈھونڈے جا رہے ہیں اور ہر دوسری رپورٹ اس مستقبل کی شادی کی مُووی کا سماں پیش کرتی ہے۔

اسی پر بس نہیں ہے بلکہ ہمارے ایک اور"کھلاڑی" اور شو بز کی ایک حسینہ بھی میڈیا والوں کے بُرے وقت میں کام آرہے ہیں اور اپنے بُرے وقت کو دعوت دے رہیں ہیں۔ میڈیا والے بھی روز دونوں کو آن لائن لا کر مناظرے کا اہتمام کرتے ہیں۔اس قصے میں یہ بات بڑی عجیب ہے کہ کھلاڑی صاحب حسینہ کی محبت کے ساتھ ساتھ کچھ رقم کے بھی مقروض ہیں اور حسینہ اُن سے یہ رقم سرِ عام مانگ رہی ہیں۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی نے اُن کی دولت کے علاوہ اُن میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن حسینہ کے لئے کھلاڑی موصوف میں کوئی خاص دلچسپی کی بات نہیں ہے ۔ بغیر دلچسپی کے اتنی شاہ خرچیاں بھی کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔

بہر کیف وقت گزاری کے لئے میڈیا کے یہ مشاغل واقعی بہت اچھے ہیں اور اس ضمن میں میڈیا کی کارکردگی بھی لائقِ صد ستائش ہے۔ لیکن کچھ دیر سستا لینے کے بعد میڈیا کو پھر سے کمر باندھنی ہوگی تاکہ عوامی مسائل کی نمائندگی کا فریضہ بہتر سے بہتر طور پر ادا کیا جاسکے کہ یہی حالات کا اولین تقاضہ بھی ہے۔



آگہی کا عذاب


نیوز چینلز کی آمد سے پہلے کسی کو ورغلانا اتنا آسان کام نہیں تھا۔ زرا کسی کو "اُس کے فائدے" کی بات بتادو تو وہ صاحب ہتھے سے اُکھڑ جاتے اور اول فول بکنے لگتے ۔ ہاں جو لوگ "کچھ" سمجھدار ہوتے وہ وقتی سمجھداری کا مظاہرہ ضرور کرتے اور آپ کی بات کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے اور اُس پر عمل کی سعی بھی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ زرا کسی نے آپ کے "معمول " سے استفسار کر لیا کہ یہ پٹی آپ کو کس نے پڑھائی ہے سب کچھ فر فر بتا دیتے اور آپ کا نام تو گویا نوکِ زبان پر ہی ہوتا ۔ نتیجہ وہی جو اس طرح کے معاملات میں ہوتا ہے یعنی تعلقات کی خرابی۔

اس کے برعکس جب سے نیوز چینلز نے یلغار کی ہے سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب نیوز چینلز والے سارا سارا دن لوگوں کو "پٹیاں پڑھاتے *" رہتے ہیں اور لوگ ناصرف وہ پٹیاں تن من دھن سے پڑھتے ہیں بلکہ من و عن ایمان بھی لے آتے ہیں۔ یہ پٹیاں خبروں کی فوری ترسیل کا کام کرتی ہیں لیکن یہ صرف خبروں کی ہی محتاج نہیں ہوتی اور خبروں کے علاوہ بھی اپنے اندر ایک جہانِ معنی رکھتی ہیں۔

نیوز چینلز کی یہ پٹیاں خبروں کی اہمیت اور پروپیگنڈا کی کیفیت کے اعتبار سے اپنی رنگت بدلتی رہتی ہیں اور درجہ شرارت کے حساب سے کبھی سبز، کبھی نیلی اور اکثر شدتِ جذبات سے سُرخ رہتی ہیں۔ یہ پٹیاں اپنی مدد آپ کے تحت ناظرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانا جانتی ہیں ۔ آپ کیسا ہی دلچسپ پروگرام دیکھ رہے ہوں پٹیاں بھی آپ کی توجہ اور دلچسپی میں سے اپنا خراج لیتی رہتی ہیں۔

ان پٹیوں میں اکثر باتیں سمجھ سے بالا تر ہوتی ہیں لیکن کچھ فوراً ہی سمجھ آجاتی ہیں پر افسوس کہ جو باتیں فوراً سمجھ آجائیں دوسرے دن اُن کی تردید آجاتی ہے ۔ مثلاً آج وزیرِ اعظم صاحب کا یہ بیان کہ حکومت کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں کرے گی "جو" بھی ہوگا وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔ اب اس میں سے ہم جو بات سمجھے ہیں کل اُس کی تردید آجائے گی اور وزیرِ اعظم صاحب کہیں گے کہ اُن کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھا گیا ہے۔

ہمارے وزرا صاحبان الفاظ کا چناؤ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ سمجھو تو بہت کچھ اور نہ سمجھو تو کچھ بھی نہیں یعنی سانپ بھی بچ جائے اور لاٹھی بھی ٹوٹ جائے۔

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ان نیوز چینلز کا آخر مقصد کیا ہے اور انہوں نے آکر کون سی نئی بات بتائی۔ مثلاً یہ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کے سارے وزیر اور مشیر چور معاف کیجے گا بدعنوان ہیں یا یہ کہ پولیس بے گناہ لوگوں پہ تشدد کرتی ہے یا پھر یہ کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا سارا قرضہ عوام کو اپنی خون پسینے کی کمائی سے چکانا پڑے گا یہ سب باتیں تو ہمیں پہلے سے پتہ ہیں پھر ان نیوز چینلز کا کیا مصرف ہے سوائے اس کے کہ روزانہ کسی نہ کسی پروگرام میں دو مخالف جماعتوں کے حاشیہ برداروں کو مرغوں کی طرح لڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یہ مرغے غالب کے اس فرمان پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ" لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی" اور حقِ نمک ادا کرتے ہوئے اپنے مخالف کو زیر کرنے کے لئے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ چوپائے بھی شرمسار ہو کر ان مرغوں کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں۔

ہاں البتہ کچھ کچھ نیوز سٹوریز کی اُٹھان دیکھ کر یہ شعر ضرور یاد آتا ہے ۔

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالم
میں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
غالب

اور اس طرح کی کارکردگی کی داد نہ دینا یقیناً بڑی بے انصافی کی بات ہے۔

* News Ticker


قصّہ ایک بسنت کا ۔ ۔ ۔


قصہ ایک بسنت کا



پتنگیں لوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا اور کس کی
ڈور ہلکی تھی
اُنھیں اس سے غرض کیا پینچ پڑتے وقت کن ہاتھوں میں لرزہ آگیا تھا
اور کس کی کھینچ اچھی تھی؟
ہوا کس کی طرف تھی، کونسی پالی کی بیری تھی؟
پتنگیں لُوٹنے والوں کو کیا معلوم؟
اُنھیں تو بس بسنت آتے ہی اپنی اپنی ڈانگیں لے کے میدانوں میں آنا ہے
گلی کوچوں میں کانٹی مارنی ہے پتنگیں لُوٹنا ہے لُوٹ کے جوہر دکھانا ہے
پتنگیں لُوٹنے والوں کو کیا معلوم کس کے ہاتھ کا مانجھا کھرا تھا
اور کس کی ڈور ہلکی تھی؟


افتخار عارف


جو ذرا ہنس کے ملے ۔۔۔۔


آج کل ایک ٹیلی کام کمپنی کو پاکستان کے مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی ہے اور وہ ہر ایرے غیرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔ ایرے غیرے اس لئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خود اِن کے منتخب نمائندے نہیں پوچھتے ۔ جن سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ پٹرول کے نرخ بڑھا دیئے جا ئیں یا بجلی پر سے سبسڈی (جو کبھی دی ہی نہیں گئی) گھٹا دی جائے۔ جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے جائیں تو اُن کا بیلیٹ پیپر ایک مُسکراہٹ اور اس جملے کے ساتھ کے ساتھ لے لیا جاتا ہے کہ آپ فکر مت کیجے آپ کا ووٹ کاسٹ ہو جائے گا۔ پھر ایسے میں یہ بات تو خوشی کی ہی ہے کہ کسی کو پاکستان کے مستقبل کا خیال آہی گیا ہے اور تو اور ایرے غیرے لوگوں کو حقِ رائے دہی بھی حاصل ہورہا ہے۔

اس پر شاید کچھ وہمی لوگ یہ خیال کریں کہ یہ سب کچھ کرکے کمپنی یقیناً کچھ تجارتی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہوگی یا یہ پھر یہ لوگ اپنی کسی نئی پروڈکٹس کے اجرا سے پہلے کوئی مارکیٹ ریسرچ کر رہے ہوں گے لیکن ہم ایسا نہیں سوچتے بلکہ ہمارا تو حال بقول احمد ندیم قاسمی یہ ہے کہ

کس قدر قحطِ وفا ہے مری دُنیا میں ندیم
جو ذرا ہنس کے ملے اُس کو مسیحا سمجھوں

سو ہم بھی ہر اُس شخص کے پیچھے ہو جاتے ہیں جو جھوٹے منہ ہی سہی کوئی اچھی بات کرتا ہے یا کم از کم اس بارے میں سوچنے کی دعوت ہی دیتا ہے۔ رہی بات پاکستان کی تو پاکستان بڑا ہی عجیب ملک ہے شاید اسی لئے اسے مملکتِ خداداد کہا جاتا ہے کہ اسے خدا ہی چلا رہا ہے ورنہ پاکستان کے حصے میں دوست بہت کم اور دشمن بہت زیادہ آئے ہیں اور جو دوست ہیں وہ بھی زیادہ تر نادان دوست ہیں سو جی کا جنجال ہیں۔ پھر ایسے میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے سوائے اس گھسے پٹے شعر کے کہ

مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

اور رہ گئی اُنہیں آئیڈیاز (خیالات یا شاید تجاویز )دینے کی بات ! تو اگر ہمارے پاس اتنے ہی آئیڈیاز ہوتے تو ہمارے بلاگ پر ہر دوسرے دن ایک نئی تحریر ضرور نظر آتی، اب شاید کچھ لوگ یہ سمجھیں کہ ہمارے پاس آئیڈیاز کی کمی ہے تو ہم اُنہیں ایسا سمجھنے نہیں دیں گے اور جھٹ سے صفائی پیش کریں گے کہ ایسا کچھ نہیں بس ذرا وقت نہیں ملتا۔


غزل



کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں، کوئی ہاتھ بھی نہیں ہات میں
ہیں اداسیاں مری منتظر سبھی راستوں میں جِہات میں

ہے خبر مجھے کہ یہ تم نہیں، کسی اجنبی کو بھی کیا پڑی
سبھی آشنا بھی ہیں روبرو، تو یہ کون ہے مری گھات میں

یہ اداسیوں کا جو رنگ ہے، کوئی ہو نہ ہو مرے سنگ ہے
مرے شعر میں، مری بات میں، مری عادتوں میں، صفات میں

کریں اعتبار کسی پہ کیا کہ یہ شہر شہرِ نفاق ہے
جہاں مسکراتے ہیں لب کہیں، وہیں طنز ہے کسی بات میں

چلو یہ بھی مانا اے ہمنوا کہ تغیّرات کے ماسوا
نہیں مستقل کوئی شے یہاں، تو یہ ہجر کیوں ہے ثبات میں

مری دسترس میں بھی کچھ نہیں ، نہیں تیرے بس میں بھی کچھ نہیں
میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں


محمد احمدؔ

باقی سب افسانے ہیں


باکسنگ کا مقابلہ زور و شور سے جاری تھا۔ تماشائیوں میں بھی کافی گرم جوشی پائی جاتی تھی ۔ ایک صاحب کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آرہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے۔
مارو ! اور مارو ! دانت توڑ دو اس کے!
ساتھ ہی بیٹھے ایک صاحب نے پوچھا" کیا آپ بھی باکسر ہیں؟"
جواب ملا "نہیں میں ڈینٹسٹ (دانتوں کا معالج)ہوں"۔

یہ تو خیر ایک لطیفہ تھا لیکن روزگار کے مواقع تلاش کرنا اور اُس کے لئے کوششیں کرنا تو سب کا حق ہے۔ یہ کوششیں اُس وقت تیز تر کرنی پڑتی ہیں جب کوئی آپ کے پیٹ پر لات مار دے۔

چلئے صاف صاف بات کرتے ہیں اور بات ہے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ہمارے سابق صدر صاحب کی کُرسی ڈگمگا رہی تھی کیونکہ انہوں نے خود ہی اس کُرسی کے دو پائے بُری طرح سے ہلا دیئے تھے ایسے میں اُن کی نظر بد عنوانیوں کی غلاظت میں سر سے پاؤں تک سنے ہوئے روتے بلکتے سیاست دانوں پر پڑی۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق اُنہوں نے سیاست دانوں کو اے نہ رو (این آر او ) کی لوری سُنائی اور سیاست دانوں کو سینکڑوں مقدمات میں سے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر اپنے پاس رکھ لیا ۔صدر صاحب کیا چاہتے تھے یہ تو سب کو ہی پتہ ہے لیکن اُن کے اس مفاہمتی آرڈینینس کی ہی کرامات ہیں کہ آج

جو رد ہوئے تھے جہاںمیں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
(جون ایلیا)

خیر بات ہو رہی تھی قومی مفاہمتی آرڈینینس کی تو اس بات پر تو کافی بحث ہوئی کہ اس مفاہمت سے کس کس کو کتنا فائدہ پہنچا لیکن یہ بات کسی نے بھی نہ سوچی کہ اس آرڈینینس کا سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوا۔ یہ بات بھی اب آہستہ آہستہ سمجھ آ رہی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ بہ یک جنبشِ قلم سینکڑوں ہزاروں مقدمات ختم ہونے سے سب سے زیادہ اثر وکلا اور اُن کے روزگار پر پڑا کہ جب مقدمات سے ہی جان چھوٹ جائے تو وکیلوں کے ناز نخرے کوئی کیوں اُٹھائے۔

یہ کہنا تو خیر زیادتی ہوگا کہ اسی کارن وکلا نے اپنی تاریخ ساز تحریک چلائی لیکن اس ایک بات سے اُنہیں اچھی خاصی تحریک ضرور ملی ہوگی کیونکہ وہ کیا کہا ہے کسی نے کہ
"اپنی ذات سے عشق ہے سچاباقی سب افسانے ہیں

اعتزاز احسن کے معاملے میں مجھے پپلز پارٹی پر بہت رشک آتا تھا کہ اس پارٹی میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو اس قدر با وفا ہے کہ بالکل متضاد موقف رکھتے ہوئے بھی پارٹی سے علیحدگی کے بارے میں سوچتا بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جب پارٹی از خود اُسے مرکزی مجلسِ شوریٰ سے الگ کردیتی ہے تب بھی یہ شخص ہے کہ پارٹی سے الگ نہیں ہوتا یعنی میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اعتزاز صاحب ہی وہ برہمن قرار پائے ہیں جنہیں بلا شبہ کعبے میں گاڑا جانا چاہیے (جلدی کوئی نہیں ہے)۔

بہرحال اب جبکہ این آر او کا لحاف کھینچ لیا گیا ہے اور مقدمات کی یخ بستہ ہوائیں پھر سے چل پڑی ہیں قوی اُمید ہے کہ پپلز پارٹی اب اپنے وفا شعار کمبل کو پھر سے گلے لگا لے گی ۔ شاید کمبل کو بھی اسی دن کا انتظار تھا کیونکہ پھر وہی بات کہ

اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں


کراچی بلاگرز میٹ اپ اور ہماری تک بندی


بلاگرز ملاقات کے سلسے میں کتاب چہرہ پر بھائی مغل کا منظوم تبصرہ اچھا لگا جواباً ہم بھی کچھ اُسی رو میں بہہ گئے۔ آپ کے لئے یہاں پیش کر رہا ہوں۔ ملاحظہ کیجے

گو پہنچنے میں تھوڑی مشکل تھی
پھر بھی کیا خوب تھی یہ محفل بھی
دوست دیکھے ہوئے نہیں تھے پر
سب کو اندر سے جانتا تھا میں
کون کس طور، سوچتا کیا ہے
اور ردِ عمل میں کیسا ہے
کو ن غصے کا تیز ہے لیکن
دل میں جھانکو تو کتنا اچھا ہے
اجنبی لوگ، آشنا باتیں
ترش لہجے میں دلربا باتیں
بات میں چاشنی محبت کی
کیا ثمر دار تھی ضیافت بھی
باتوں باتوں میں ساری شام ہوئی
یہ ملاقات بھی تمام ہوئی



انگریزی کا رعب


کرشن چندر
کی "ایک گدہے کی سرگزشت" سے اقتباس


ٹاؤن ہال کے اندر گھستے ہی میں نے سوچا کہ اب کسی چھوٹے موٹے محرّر یا کلرک سے گفتگو کرنے میں وقت خراب ہوگا، سیدھے چل کے میونسپلٹی کے چیئرمین سے مل لینا چاہیے اور اب کے رعب ڈالنے کے لئے انگریزی میں گفتگو کرنا ٹھیک رہے گا۔ یہ سوچ کر میں انکوائری میں گھس گیا اورکلرک سے بڑی شستہ انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے پوچھا۔ "چیئرمین صاحب کا دفتر کدھر ہے."

انکوائری کا کلرک ایک گدھے کو انگریزی میں کلام کرتے ہوئے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا۔ فوراً اپنی سیٹ سے اُٹھ کھڑا ہوا ، اور بڑےمؤدب لہجے میں بولا " حضور پندرہ نمبر کا کمرہ ہے۔ اُدھر لفٹ سے چلے جائیے۔"
اُس نے چپراسی کو میرے ساتھ کردیا چپراسی نے مجھے حیرت سے دیکھا تو سہی ۔ مگر خاموش رہا۔ چپراسی نے مجھے لفٹ مین کے حوالے کیا ۔ لفٹ مین نے بے حد مؤدب انداز میں لفٹ کا دروازہ کھولا۔ میں نے لفٹ میں داخل ہوتےہی دیکھا۔ لفٹ کے اندر لکھا تھا "چھ آدمیوں کے لئے"لیکن اس وقت میں اکیلا سفر کر رہا تھا ۔ لفٹ مین نے باقی آدمیوں کو باہر ہی روک دیا ۔ زندگی میں پہلی بار احساس ہوا کہ ایک گدھا برابر ہے چھ آدمیوں کے ۔ لفٹ مین نے اُوپر جا کے لفٹ روکی ۔ میں سیدھا دُلکی چلتا ہوا چیئرمین کے دفتر کے باہر پہنچ گیا اور باہر چپراسی سے بڑی بارعب آواز میں کہا "صاحب سے کہو مسٹر ڈنکی آف بارہ بنکی تشریف لائے ہیں۔"

چپراسی کا اشارہ پاتے ہی میں کمرے کے اندر چلا گیا اور زور سے "گُڈ مارننگ" داغ دی۔ مجھے ڈر تھا کہیں ہندوستانی زبان میں بات کردی تو بالکل ہی گدھا سمجھ لیا جاؤں۔ دہلی کے دفتروں کے قلیل سےتجربے نے یہ بات میرے ذہن نشین کرادی تھی کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی انگریزی کا راج ہے۔ آپ جب تک اُردو یا ہندی میں گفتگو کرتے رہیں دفتری لوگ متوجہ ہی نہیں ہوں گے لیکن جونہی ذرا انگریزی میں دانت دکھائے فوراً پلٹ کر آپ کی بات سُنیں گے جیسے آپ سیدھے ان کے ننھیال سے چلے آرہے ہوں، اور بات سُنتے وقت ایسی خوبصورت مسکراہٹ ان کے چہرے پر ہوگی ۔ جیسے کام آپ کو اُن سے نہیں، انہیں آپ سے ہو۔




زمانہ گوش بر آواز ہے تری خاطر


اکبر حمیدی کی خوبصورت غزل آپ کے نام



گنوا نہ آبِ گہر، یار آبدیدہ مرے
بہار آئے گی نخلِ خزاں رسیدہ مرے

زوال کی ہے علامت، عروج ظلمت کا
حصارِ غم سے نکل ، مہر شب گزیدہ مرے

فضا میں تھام لے اُس کے گلاب ہاتھوں کو
ہوائے شوق میں اُٹھ دست نا رسیدہ مرے

زمانہ گوش بر آواز ہے تری خاطر
یہ ترا عہد ہے، اے حرف نا شنیدہ مرے

برنگِ حرف غلط ہیں یہ سر کشیدہ تمام
تمھیں تو نقشِ ابد ہو، سرِ خمیدہ مرے

قریب ہے وہ زمانہ کہ ظالموں کے خلاف
علم بنیں گے ترے، دامنِ دریدہ مرے

مجھے یقین ہے روئے زمین کو اکبر
چمن بنائیں گے گلہائے نودمیدہ مرے

اکبر حمیدی



اعتدال اور انصاف کی راہ


آج کل انتہا پسندی کی اصطلاح بہت عام ہے ہونی بھی چاہیے کہ ہم سب ہی اس کا شکار ہیں اور سخت اذیت اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔ انتہا پسندی کی اور جو بھی وجوہات ہوں لیکن بنیادی وجہ ہمارے ملک میں تعلیم و تربیت کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ سب کے لئے عمدہ، اعلیٰ اور یکساں تعلیم ہمارے اربابِ اختیار کی ترجیحات میں کبھی رہی ہی نہیں ( وسائل کا معاملہ ثانوی ہے)۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو علاقے جتنے زیادہ پسماندہ ہیں اُتنے ہی انتہا پسندی کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں اور ہمارا اجتماعی شعور اب بھی اتنا پست ہے کہ ہم صحیح اور غلط کی تمیز نہیں کر پاتے۔

قطعہ نظر ان سب باتوں کے میں آج جس انتہا پسندی کی بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ ہمارے رویّوں کی انتہا پسندی ہے اگر ہم اپنے رویّوں پر غور کریں تو ہم سب ہی کہیں نہ کہیں انتہا پسند واقع ہوئے ہیں۔ شاید آپ کو یہ سن کر حیرت بھی ہو کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اُسے انتہا پسندوں کی فہرست میں گنا جائے۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایسا چاہتے ہیں۔

چلئے اس بحث کا آغاز "بحث" ہی سے کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو بحث کے آغاز پر یہ سوچتے ہیں کہ زیرِ بحث معاملے میں اُن کا موقف بھی غلط ہو سکتا ہے اور اگر کوئی شخص اُنہیں مناسب اور مستند دلائل دے تو وہ قائل بھی ہو سکتے ہیں۔ شاید ایسے لوگ ایک فیصد بھی نہ ہوں۔ اس کے برعکس جب ہم بحث کا آغاز کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس کے سوا کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ ہم اپنے دلائل سے سامنے والے کو لاجواب کردیں اور اُسے ہمارا موقف مانتے ہی بنے ۔ شاید ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ ہم تو حق پر ہیں اور سامنے والا غلط تو پھر اُسے ہی ماننا چاہیے ہم کیونکر حق سے روگردانی کے مرتکب ہوں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ صحت مند بحث کا آغاز ہو ہی نہیں پاتا اور ہم دلائل سے طعن و دشنام اور پھر کفر و باطل کے فتووں پر اُتر آتے ہیں۔

یہ ہمیں لوگ ہیں جو بحث مذہبی ہو تو اپنے مخالف کو کافر اور زندیق سے کم درجہ دینے پر راضی نہیں ہوتے اور اگر بات سیاسی نوعیت کی ہو تو فریقِ مخالف کو ملک دشمن ، امریکہ کا یار اور یہودیوں اور را کا ایجنٹ بنانے میں دیر نہیں کرتے ۔ سیکولر طبقہ کسی بھی مذہبی سوچ رکھنے والے کو طالبان جیسے سفاک لوگوں سے ملانے سے گریز نہیں کرتا اور مذہبی طبقہ ہر لبرل اور آزاد سوچ رکھنے والے کو سیکولر، سوشلسٹ اور دہریا قرار دینے میں ہی اپنی جیت سمجھتا ہے۔

سیاسی عقیدت مندی میں ہم صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ہم اپنے ممدوح کی اچھی باتوں کا تو پروپیگنڈا کرتے ہی ہیں بری باتوں کا بھی پوری شد ومد سے دفاع کرتے ہیں۔ رہے ہمارے سیاسی حریف تو اُن کے ہر اقدام کو غلط اور ملک دشمنی قرار دے دینا ہمارے لئے کون سا مشکل ہے۔ مذہبی عقیدت مندی کو تو جانے ہی دیجیے۔

شاعری کو لے لیجے۔ ہمارا شاعر اپنی شاعری میں انوکھا پن اور شدتِ اظہار کے لئے خدا سے جا اُلجھتا ہے اور گستاخی کو گستاخی بھی نہیں سمجھتا ۔ فلمی گیتوں کو تو چھوڑ ہی دیجے کہ اُن کی تو کوئی حد ہی متعین نہیں ہے۔ یہی شاعر جب نعت لکھتا ہے تو نبی کی ذات کو خدا سے جا ملاتا ہے اور اسے اس بات کا احساس تک نہیں ہو پاتا۔

یہی حد سے بڑھی ہوئی خوش اعتقادی لوگوں کو نام نہاد پیر وں فقیروں کے در کا گدا بنا دیتی ہے اور وہ اپنے جیسے محتاج لوگوں سے ہی حاجت روی اور مشکل کشائی کی اُمید کرنے لگتے ہیں اور اللہ رب العزت کی ذاتِ عظیم کو بھلا بیٹھتے ہیں کہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں اورجو واقعتا دینے والا اور مشکل کشائی کرنے والا ہے۔

ان چند مثالوں کے علاوہ بھی اس طرح کے بہت سے مظاہر ہمارے ارد گرد ہی نظر آتے ہیں بس شرط آنکھیں کھلی رکھنے کی ہے۔ انتہا پسندی کے سب سے زیادہ نقصانات ہماری ذات ہی کو پہنچتے ہیں کہ ہم اس وجہ سے بہت سے دوستوں کو کھو دیتے ہیں اور بغض اور نفرت جیسے منفی رویوں میں گھر کر اپنا بھی دن رات کا سکون غارت کر بیٹھتے اور دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

ان سب معاملات سے بچنے کا ایک ہی آسان سا نسخہ ہے اور وہ ہے اعتدال اور انصاف کی راہ ۔ اگر ہم صرف اتنا سا خیال رکھیں کہ ہم کسی کی دوستی اور دشمنی میں اتنے آگے نہ نکل جائیں کہ انصاف کا دامن ہی ہاتھ سے چھوٹ جائے تو بہت سے لا یعنی مباحث جنم ہی نہ لیں اور نہ ہی دوستوں کے درمیان بے جا رنجشیں اور دوریاں پیدا ہوں۔

خیالِ خاطر ِاحباب چاہیے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جاے آبگینوں کو

کیا حرج ہے اگر ہم اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کرتے رہیں۔



رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک