.... سوال یہ ہے

....ہمارا "مستقبل" ۔ "حال" کے آئنے میں

"ہاں بھائی! سُناؤ کیا ہورہا ہے آج کل" ہم نے یوں ہی پوچھ لیا۔
"کچھ نہیں پیکیج کروایا ہوا ہے ، پانچ ہزار ایس ایم ایس کا۔ میسجز کرتا رہتا ہوں"کمالِ بے نیازی سے کہا گیا۔
"پانچ ہزار ایس ایم ایس! اتنے سارے ایس ایم ایس کیا کرتے ہو میاں؟"
"اتنے سارے کہاں ہوتے ہیں، دس پندرہ دن میں ختم ہو جاتے ہیں"
"اچھا! اس حساب سے تو تمھیں کم از کم دو ڈھائی سو میسجز روز کرنے ہوتے ہوں گے۔ "
"اتنے تو ویسے بھی ہو جاتے ہیں اتنے سارے دوست ہیں میرے !"
"اچھا! پھر کیا لکھ کر بھیجتے ہو دوستوں کو" ہم نے اپنی حیرانی پر قابو پاتے ہوئے دریافت کیا
"ارے لکھنا وکھنا کہاں پڑتا ہے زیادہ تر فارورڈ کرنے والے میسجز ہوتے ہیں۔ بڑے اچھے اچھے میسجز آتے ہیں۔ شاعری ، لطیفے ، بڑی تفریح ہوتی ہے"
"اچھا ! اچھا! میں نے جو تمھیں اقبال کا شعر بھیجا تھا اُس کا کیا ہوا"
"وہ۔۔۔!" سوچتے ہوئے کہا گیا " وہ تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا۔ ایک دوست کو بھیجا تھا میں نے آپ کا والا شعر۔اُس نے جواب میں یہ شعر بھیجا ہے" اس نے مجھے موبائل دکھاتے ہوئے کہا۔
ٹوٹی پھوٹی رومن اردو میں کچھ یوں لکھا ہوا تھا:

غ سے غبارے ہیں ، ف سے فوراے ہیں فراز
پاپڑ ابھی تک کرارے ہیں بھائی جان!

"بھئی یہ کیا شعر ہوا؟" ہم نے سٹپٹا کے پوچھا
"اور یہ شعر فراز کا کیسے ہو سکتا ہے" حیرانی تھی کہ کم ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔

"آج کل سارے شعر "فراز " کے ہی ہوتے ہیں" ۔
"اچھا! وہ کیوں؟" ہم نے روانی میں پوچھ ہی لیا
"ایک تو جتنے بھی شعر میسجز میں آتے ہیں وہ سب فراز کے ہی ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی نہ بھی ہو تو پہلی لائین کے آخر میں فراز لگا کر کسی بھی شعر کو فراز کا بنایا جاسکتا ہے" بیٹھے بٹھائے ایس ایم ایس شاعری کا فارمولا ہم تک بھی پہنچ گیا۔
ساتھ ساتھ ہمیں کچھ "فراز" کے اشعار بھی دکھائے گئے۔
"لیکن فراز کا تو سارا کلام ہی بہت اعلٰی ہے اور یہ سب تو انتہائی غیر معیاری ہیں بھائی!" میں نے تعجب سے کہا
"ارے سب چلتا ہے آج کل! بس تفریح ہونی چاہیے۔ "

" بات تو تمھاری ٹھیک ہے۔ پر دیکھو! ہم جو بھی اور جیسے بھی پیغامات بھیجتے ہیں وہ ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ہم اچھی اور معیاری چیزیں اپنے دوست احباب کو بھیجیں گے تو اُن کے ذہن میں ہمارا تاثّر بھی اچھا قائم ہوگا۔ کیا تم یہ چاہو گے کہ کسی معمولی سے پیغام کی وجہ سے دوستوں کے دل میں تمھاری عزت میں کمی آجائے "
"ہاں ! یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے" پہلی بار کسی بات کا اثر ہوتا دکھائی دیا
"اچھا ! اور کون کون سے ایس ایم ایس کرتے ہیں جناب " تعجب اور تاسف کی ملی جلی کیفیات میں ہم نے بات کو آگے بڑھایا
"اور ! لطیفے بھی آتے جاتے رہتے ہیں بڑے مزے مزے کے ! سردار جی کے ، خان صاحب کے اور زرداری صاحب کے "
"چلو تفریح تو اچھی بات ہے لیکن اس طرح سے تو بہت وقت برباد ہو جاتا ہوگا۔ اور حاصل کچھ بھی نہیں!"
"نہیں ! اب ایسا بھی نہیں ہے ۔ اسلامی ایس ایم ایس بھی تو کرتا ہوں میں۔ اُن کا تو ثواب بھی ملتا ہے !"
"اچھا! وہ کہا ں سے آتے ہیں" ہمیں پھر حیران ہونا پڑا"
"وہ بھی اِدھر اُدھر سے ہی آتے ہیں"
"کہیں یہ وہ تو نہیں جن کو بھیج کر سات دن میں خوشخبری ملتی ہے اور نہ بھیجنے پر گناہ " ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"زیادہ تر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ پر بیٹھے بٹھائے ثواب مل رہا ہے اور کیا چاہیے"
"لیکن بھائی ان سب باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں! اور بغیر تصدیق کے اس طرح کے پیغامات آگے بھیج کر ثواب کے بجائے گناہ ہی ملتا ہوگا"
"پتہ نہیں ! لیکن ہمارے نیّت تو اچھی ہوتی ہے! آپ کو تو پتہ ہے اعمال کا دار ومدار نیّت پر ہی ہوتا ہے۔"
"لیکن اچھی نیّت سے بُرے کام ثواب کا نہیں عذاب کا باعث ہی ہوتے ہیں" ہمارا انداز کچھ ناصحانہ سا ہوگیا۔
"اچھا اس کے علاوہ کیا ہو رہا ہے آج کل" ہم نے خود ہی بات کو بدل دیا۔
"ا ور تو کچھ خاص نہیں ! وقت ہی نہیں ملتا"۔ اس بار جواب میں بلا کی معصومیت تھی۔
پھر اس کے بعد اور ہم کیا کہتے اور کس سے کہتے ۔

(سوچتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کا "حال" اگر یہ ہے تو اس قوم کا مُستقبل کیا ہوگا۔ آپ بھی سوچئے گا! )

دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے

غزل

دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے
بچھڑے مسافروں کا بھی کوئی نشاں ملے

یہ وصل بھی فریبِ نظر کے سوا نہیں
ساحل کے پار دیکھ زمیں آسماں ملے

ایسی جگر خراش کہاں تھیں کہانیاں
راوی کے رنج بھی تو پسِ داستاں ملے

جانے مسافروں کے مقّدر میں کیا رہا
کشتی کہیں ملی تو کہیں بادباں ملے

جس کو جنوں کی زرد دوپہروں نے چُن لیا
شامِ سکوں ملی ، نہ اُسے سائباں ملے

بارش میں بھیگتی رہی تتلی تمام شب
آئی سحر تو رنگ دھنک میں عیاں ملے

پختہ چھتیں بھی اب کے یقیں سے تہی ملیں
پکے گھروں میں خوف کے کچے مکاں ملے

احمدؔ یہ دل کا شہر تو حیران کر گیا
جھرنے کہیں ملے ، کہیں آتش فشاں ملے

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید

غزل

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید
تشنگی بھی سراب ہے شاید

کچھ کسی کو نظر نہیں آتا
روشنی بے حساب ہے شاید

میں سزا ہوں تری خطاؤں کی
تو مرا انتخاب ہے شاید

یہ جسے ہم سکون کہتے ہیں
باعثِ اضطراب ہے شاید

اُس کا لہجہ گلاب جیسا ہے
طنز خارِ گلاب ہے شاید

ہر نئی بار اک نیا پن ہے
وہ غزل کی کتاب ہے شاید

کیا محبت اُسے بھی ہے مجھ سے
مختصر سا جواب ہے "شاید"

میں بھی محرومِ خواب ہوں احمد
وہ بھی زیرِ عتاب ہے شاید



FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک