دسمبر اور شاعری


عیسویں کیلنڈر کا بارہواں مہینہ دسمبر ہے۔ دسمبر اپنے ساتھ جاڑے کی خنک شامیں، یخ بستہ ہوائیں اور بہت سی دل کو گرما دینے والی یادیں لئے چلا آتا ہے۔ سال کا آخری مہینہ ہونے کے ناطے دسمبر ایک طرف جدائی اور ہجر کا استعارہ ہے تو دوسری جانب نئے آنے والے سال کی اُمید بھی۔ شاید اسی جذباتی وابستگی کے باعث دسمبر کے مہینے کو شاعروں کی کچھ زیادہ ہی توجہ حاصل رہی اور کئی ایک شعرا نے دسمبر کو اپنی شاعری میں جگہ دی ۔ ابرار الحق کا مشہور گیت دسمبر بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

شاعروں کے علاوہ دسمبر کا مہینہ وزیرِ لوڈ شیڈنگ کا بھی پسندیدہ مہینہ ہے اور وہ تمام وعدے اور وعدہ خلافیوں کے لئے اسی متبرک مہینے کا ہی انتخاب کرتے رہے ہیں۔ ان وعدوں کی ماری عوام بھی لاشعوری طور پر دسمبر کا انتظار کرتی رہتی ہے لیکن نو من تیل کی عدم دستیابی کے باعث رقص کا بھی کسی طور اہتمام نہیں ہو پاتا ۔ پھر بھی اپنی ہی دُھن کے پکے وزیرِ موصوف عوام کو اگلے دسمبر کے سچے جھوٹے (سچے صرف محاورتاً لکھا ہے ) دلاسے دینے سے باز نہیں آتے۔

خیر اس سے پہلے کہ وزیرِ موصوف کا عتاب ہم پر بھی آجائے ہم اپنے موضوع یعنی دسمبر اور شاعری کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ دسمبر کے حوالے سے شاعری کے لئے جب میں نے ویب سرچ کی تو اتنے سارے نتائج سامنے آئے کہ محدود وقت میں اُن سب کو دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا (بیشتر کلام غیر معیاری بھی ہے )۔ پھر بھی میں نے کچھ کلام آپ کے ساتھ شئر کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔

سب سے پہلے دانیال طریر کا ایک خوبصورت شعر:

تیس دن تک اسی دیوار پہ لٹکے گا یہ عکس
ختم اک دن میں دسمبر نہیں ہونے والا

امجد اسلام امجد کی نظم "آخری چند دن دسمبر کے"

آخری چند دن دسمبر کے

ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں

رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے

فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں

دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں

حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں

ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی

ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک

میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے

خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے

ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے

اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے

ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے

نام میرا بھی

کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد)

اور دسمبر کی ردیف میں ایک غزل

ہمارے حال پر رویا دسمبر
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر

اور اب کچھ متفرق اشعار

تری یاد کی برف باری کا موسم
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے
ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر
گزرتا نہیں ہے دسمبر اکیلے

***********

کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں
کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں
ذرا سی دیردسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

***********

الاؤ بن کے دسمبر کی سرد راتوں میں
تیرا خیال میرے طاقچوں میں رہتا ہے
بچا کے خود کو گزرنا محال لگتا ہے
تمام شہر میرے راستوں میں رہتا ہے

***********

دسمبر کی سرد راتوں میں اک آتش داں کے پاس
گھنٹوں تنہا بیٹھنا، بجھتے شرارے دیکھنا
جب کبھی فرصت ملے تو گوشہ تنہائی میں
یاد ماضی کے پرانے گوشوارے دیکھنا

**********

یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا
تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا
جو بات معتبر تھی،وہ سر سے گزر گئی
جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا

********

وہ مجھ کو سونپ گیا فرقتیں دسمبر میں
درخت جاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے

*********

دسمبر کی شب آخر نہ پوچھو کس طرح گزری
یہی لگتا تھا ہر دم وہ ہمیں کچھ پھول بھیجے گا

**********

اور آخر میں پھر ایک نظم

محبت کے دسمبر میں
اچانک جیسے تپتا جون آیا ہے
تمہارا خط نہیں آیا نہ کوئی فون آیا ہے
تو کیا تم کھو گئے اجنبی چہروں کے جنگل میں
مسافر مل گیا کوئی ، کسی منزل کسی پل میں
عقیدت کے سنہرے پھول
چپکے سے کسی نے باندھ ڈالے آ کے آنچل میں
یکایک موڑ کوئی آگیا چاہت کی منزل میں
خیال وعدہء برباد بھی تم کو نہیں آیا
تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یاد بھی تم کو نہیں آیا ؟

اسی سلسلے کا مزید کلام آپ اردو محفل میں یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ زیادہ تر کلام کا انتخاب بھی اردو محفل کی ہی مرہونِ منت ہے سو خاکسار اردو محفل کا شکر گزار ہے۔


ہمارا معاشرہ اور انصاف کے تقاضے


جب میں تیسری جماعت میں تھا تو میرے اردو نصاب میں ایک سبق "انصاف "کے نام سے تھا۔ اس سبق میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ ہے جس نے سرِ دربارخلیفہء وقت سے مالِ غنیمت میں ہاتھ آئے کپڑے کی بابت استفسار کیا کہ خلیفہ نے اور لوگوں سے زیادہ کپڑا کیوں لیا۔ اس اعتراض کے جواب میں خلیفہ نے بتایا کہ کیونکہ اُس کا قد کچھ زیادہ ہے اس لئے اُس کے حصے کا کپڑا اُس کی پوشاک کے لئے ناکافی تھا سو اُس کے بیٹے نے اپنے حصے کا کپڑا بھی اُسے دے دیا۔ اس وضاحت کے بعد خلیفہ نے اُس شخص کی جرآت اور بے باکی کی تعریف بھی کی۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ آج کل کے دور میں پیش آتا تو سب سے پہلے تو اُس شخص کی زبان بند کرنے کی دامے درمے سخنے کوشش کی جاتی ۔ اس کے باوجود بھی اگر یہ شخص باز نہیں آتا تو حاکمِ وقت اسے خلافت کے خلاف سازش قرار دیتا اور ساتھ ہی دشمنوں کو منہ توڑ جواب کی وعید بھی سُنائی جاتی۔ خلیفہ کے حواری مختلف بیانات میں بار بار خلیفہ سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار کرتے نظر آتے اور اس بات کا اعادہ کرتے کہ خلافت کی گاڑی کو پٹری سے اُتارنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔ نیز گھنٹوں کی تقاریر سننے کے بعد بھی اصل قصے کی سن گن تک نہیں مل پاتی۔

آج کل آزاد عدلیہ کا بہت شہرہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انتظامیہ عدلیہ سے کہیں زیادہ آزاد ہے جو اس بات کی بھی مکلف نہیں کہ عدلیہ کے احکامات پر عمل درامد کی کوشش ہی کرتی دکھائی دے ۔ پھر بھی یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں پر(بظاہر ) اعتماد کا اظہار کرتی ہے اور (مجبوراً) اُن فیصلوں کا احترام بھی کرتی ہے لیکن احترام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حکومت ان فیصلوں پر عملدرامد کی پابندبھی ہے۔

کہتے ہیں کہ کسی معاشرے میں اگر عدالتیں اپنا کا م بھرپورطریقے سے کر رہی ہوں اور جرائم کی بیخ کنی ہاتھ کے ہاتھ ہوتی رہے تو معاشرے میں جرائم کا تناسب بہت کم ہو جاتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہو اور اُس پر عملدرامد بھی ہو۔ افسوس کہ ہمارا معاشرہ ابھی اس منزل سے بہت دور ہے کہ ہمارے ہاں بے شمار جرائم تو درج ہی نہیں کرائے جاتے کہ اس کا فائدہ ہی کوئی نہیں ۔ ہمارے ہاں مظلوم کی داد رسی کرنے کے بجائے ساری تحقیقات کا رخ اُسی کی طرف موڑ دیا جاتا ہے اور اُس کے جان و مال کو اس قدر نقصان پہچایا جاتا ہے کہ جتنا اصل معاملے میں بھی نہیں پہچتا پھر ایسے میں کوئی کیوں کر ان اداروں پر اعتماد کرے گا۔

زنجیرِ عدل میں نے ہلائی نہ اس لئے
ہر جرم تیرے شہر میں دستور ہو گیا

اور پھر جس معاشرے میں "کُتے" کچرا چننے والے مفلوک الحال لوگوں پر تو بھونک بھونک کر گلا سُکھالیتے ہوں لیکن نفیس کپڑوں میں ملبوس لُٹیروں کے جوتے چاٹتے رہیں وہاں انصاف کی توقع رکھنا کہاں کی عقلمند ی ہے۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک