چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے

غزل

چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے
اک دریچہ دُروں میں کھلا چاہیے

سر میں سودا بھی ہے، دل میں وحشت بھی ہے
رختِ صحرا نوردی کو کیا چاہیے

ہم ہی دیکھیں کہاں تک تجھے آئینے
اب تجھے بھی ہمیں دیکھنا چاہیے

عیب کیوں ہو گئے میرے سارے ہُنر
اُن کو ساتھی نہیں ، ہمنوا چاہیے

منتظر ریت بھی، بادِ صر صر بھی ہے
بس تماشے کو اک نقشِ پا چاہیے

خامشی ایک دن مجھ سے کہنے لگی
کم سخن ہو بہت، بولنا چاہیے

میں نے سوچا ہے میں ہی وفا کیوں کروں
کیا مجھے اس طرح سوچنا چاہیے؟

محمد احمدؔ

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جناب آپ آئینے کو نہیں آئينے کے اندر اپنے آپ کو دیکھتے ہیں

محمد وارث کہا...

بہت خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، لاجواب۔

محمد احمد کہا...

افتخار صاحب،

آپ کی توجہ کا شکریہ !

آئینہ دیکھنے سے عمومی مراد یہی لی جاتی ہے جو آپ نے سمجھی.

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی!

بہت شکریہ آپ کی محبت کا.

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک