چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے

غزل

چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے
اک دریچہ دُروں میں کھلا چاہیے

سر میں سودا بھی ہے، دل میں وحشت بھی ہے
رختِ صحرا نوردی کو کیا چاہیے

ہم ہی دیکھیں کہاں تک تجھے آئینے
اب تجھے بھی ہمیں دیکھنا چاہیے

عیب کیوں ہو گئے میرے سارے ہُنر
اُن کو ساتھی نہیں ، ہمنوا چاہیے

منتظر ریت بھی، بادِ صر صر بھی ہے
بس تماشے کو اک نقشِ پا چاہیے

خامشی ایک دن مجھ سے کہنے لگی
کم سخن ہو بہت، بولنا چاہیے

میں نے سوچا ہے میں ہی وفا کیوں کروں
کیا مجھے اس طرح سوچنا چاہیے؟

محمد احمدؔ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک