کیا ستم ہے کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں


ہونا تو یوں چاہیے کہ ہمارے نظریات ہماری سیاسی وابستگیاں متعین کریں لیکن ہمارے ہاں(زیادہ تر ) اس کے برعکس ہی ہوتا ہے یعنی ہماری سیاسی وابستگیاں ہمارے نظریات کا تعین کرتی نظر آتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ کسی خاص کمیونٹی کے فرد ہیں تو اُس کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ کرنے والی یا صرف اس بات کا دعویٰ کرنے والی جماعت آپ کی جماعت ہے (ڈیفالٹ سیٹنگ )۔ اب یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اس جماعت کے ہر اچھے فعل کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں اور ہر قابلِ گرفت عمل کا دفاع کریں لیکن ویسا ہی فعل اگر کوئی اور جماعت انجام دے تو پھر ۔۔۔۔۔ (آپ جانتے ہی ہیں)۔

پھر اگر آپ کی جماعت اگر کسی اور جماعت کی حلیف ہے تو اب حلیف جماعت یا شخصیت کے لئے مذکورہ بالا خدمات انجام دینا بھی آپ کا اولین فریضہ ہے۔ کیوں ؟ صرف اس لئے کہ وہ آپ کی جماعت کی حلیف ہے اور اُسے بھی سات خون معاف ہیں ۔(یہاں سات کا ہندسہ یقیناً بہت کم ہے)۔

بالفرض آپ اس روایت کے برخلاف چلتے ہیں یعنی آپ جس کمیونٹی یا جماعت سے وابستہ ہیں اُس کے کسی عمل پر تنقید کرنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں ۔ اب آپ کی خیر نہیں ! کیونکہ اب آپ غدار ہیں ، آپ دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں اور آپ کھاتے کسی کا ہیں اور گاتے کسی کا ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ آپ کو اپنی سوچ پر ہی شک ہونے لگے گا اور پھر آئندہ آپ اپنے لیڈر حضرات کو اپنی سوچ پر پرکھنے کے بجائے اپنی سوچ کو اُن کے افعال پر پرکھنا شروع کر دیں گے اور جہاں جہاں آپ کو اپنی سوچ سے ذرا بھی غداری کی بو آنے لگے گی آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے فوراً رجوع کر لیں گے ۔ یہی وہ وحد عمل ہے کہ جس سے ایک بار پھر سے آپ کا نام مخلص ساتھیوں کی فہرست میں جگمگانے لگے گا ورنہ آپ واقعی غدار ہیں۔

دل کی تاکید ہے ہر حال میں ہو پاس وفا
کیا ستم ہے کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں
داغ دہلوی

داغ دہلوی کے ساتھ تو چلیے دل کا معاملہ تھا لیکن بحیثیت مجموعی کیا یہ طرزِ عمل کسی باشعور قوم کی عکاسی کرتا ہے؟

8 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ابوشامل کہا...

تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

محمد احمد کہا...

بھائی ابو شامل، توجہ کا شکریہ !

شعر بہت عمدہ بھی ہے اور مشعلِ راہ بھی۔

محمد احمد کہا...

افتخار اجمل بھوپال صاحب،

آپ کی نظرِ التفات اور اس بروقت پیش کردہ آیتِ قرانی کا بہت شکریہ۔ اللہ ہم سب کو حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے .آمین

Jafar کہا...

آپ نے دکھتی رگ کو چھیڑا ہے
بت پرستی ہمارے خون سے ابھی نکلی نہیں

محمد احمد کہا...

جعفر بھائی!

ہم لوگ بڑے فخر سے خود کو باشعور کہتے ہیں پھر تھوڑی بہت کوشش بھی کر لیں تو کیا حرج ہے.

نیرنگ خیال کہا...

کیا خوبصورت تجزیہ کیا ہے۔ رفتہ رفتہ صورتحال کچھ یوں ہوجاتی ہے۔۔۔ کہ

میں نے بھی جرم بغاوت کے الم جھیلے ہیں
میں بھی اب لوگ جدھر جائیں ادھر جاتا ہوں

چل پڑا ہوں زمانے کے اصولوں پر اب کے
میں بھی اب اپنی باتوں سے مکر جاتا ہوں

محمد احمد کہا...

میں نے بھی جرم بغاوت کے الم جھیلے ہیں
میں بھی اب لوگ جدھر جائیں ادھر جاتا ہوں

چل پڑا ہوں زمانے کے اصولوں پر اب کے
میں بھی اب اپنی باتوں سے مکر جاتا ہوں

بہت خوب ذوالقرنین بھائی۔۔۔

واقعی آج کل کچھ ایسے ہی معاملات ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک