Not all SMS are "Waste of Time"

I asked myself how to handle life’s affairs?


My room gave me perfect answer:


Roof said: Aim high
Fan: Be Cool
Clock: Value time
Calendar: Be up to date
Wallet: Save now for future
Mirror: Observe yourself
Wall: Share other’s load
Window: Expand the vision
Floor: Always be down-to-earth.


Thanks to Mr. Khurram, Ahsan Library

تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے؟ وزارتِ صحت؟

گذشتہ شام ہم ایک دوست کے ساتھ بیٹھے ‘انڈائریکٹ اسموکنگ’ کر رہے تھے کہ باتوں کے درمیان ہم سگریٹ کی ڈبیہ اُٹھا کے اُس کا (سگریٹ کی ڈبیہ کا )ازسرِ نو جائزہ لینے لگے ۔ بڑی عجیب سی (شاید بُری لکھنا چاہیے تھا )عادت ہو چلی ہے کہ جب تک کسی چیز کا چاروں اور سے اچھی طرح جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں چین ہی نہیں آتا۔ خیر ڈبیہ کی پُشت پر باریک حروف میں اردو میں لکھا تھا ‘تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے’ ۔ لیکن نہیں! اُس پر ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ شاید ہم وہاں یہ عبارت دیکھنا چاہ رہے تھے جو ہمیں وہاں نہیں ملی۔ ہمارے ایک دوست نے کہا تھا کہ ‘ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں’ شاید میر صاحب نے بھی یہی سوچ کر کہا ہوگا کہ

؂ یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

لیکن ہمارا تجربہ تو ہمیشہ اس کے برعکس ہی رہا ۔پھر بھی جتنے منہ کم از کم اُتنی باتیں تو ہونی ہی چاہیے سو ‘ دُنیا کب چپ رہتی ہے کہنے دو جو کہتی ہے ’۔

بہر حال سگریٹ کی ڈبیہ پر موجود عبارت کچھ یوں تھی۔



















یہ پڑھ کر تو فوراً دل یہی چاہا کہ کاش ہم بھی بچے ہوتے اور اس ‘پروٹیکشن زون’ میں ہی کہیں پائے جاتے ۔

بہر کیف ہم نے اس کا مطلب یہی لیا کہ یا تو شاید‘ اب تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے’

یا آپڑی یہ شرم کے تکرار کیا کریں

(‘یاں’ کا نون غنہ ہم نے از خود حذف کردیا ہے اسے ٹائپو نہ سمجھا جائے)


وہ کہتے ہیں میں کتنا کم سخن ہوں

غزل

شکستہ پر ، شکستہ جان و تن ہوں
مگر پرواز میں اپنی مگن ہوں

خود اپنی دھوپ میں جلتا رہا ہوں
خود اپنی ذات پر سایہ فگن ہوں

میں دیواروں سے باتیں کر رہا ہوں
وہ کہتے ہیں میں کتنا کم سخن ہوں

وہ کب کا منزلوں کا ہو چکا ہے
میں جس کا منتظر ہوں خیمہ زن ہوں

بلا کی دھوپ نے چٹخا دیا ہے
میں جیسے کچی مٹی کا بدن ہوں

ستمگر ہو کہ بھی شکوہ کناں وہ
یہ میں ہوں کہ جبینِ بے شکن ہوں

یہ میں کیا ہو گیا ہوں تجھ سے مل کر
کہ خوشبو ہوں، ستارہ ہوں، پون ہوں

جنوں کی اک گرہ مجھ پر کھلی ہے
تو سرشاری کے خط پر گامزن ہوں

رہی ہجرت سدا منسوب مجھ سے
وطن میں ہو کے احمد بے وطن ہوں

محمد احمدؔ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک