حصہ (ایک سادہ سی نظم ) ۔ برائے یومِ تعلیم ۔ ہفتہ بلاگستان

اظہارِ تاسف کے بہت سے مواقع ہماری زندگی میں آتے ہیں اوراکثر ہمیں اس بات کا ادراک بھی نہیں ہوتا کہ ہمارا لمحاتی اظہارِ رنج کسی کی محرومی پر ہے یا اپنی نا اہلی پر۔ یہاں کہیں کہیں امید کے موہوم ستارے موجود ہوتے ہیں جنہیں اپنائیت کا عدسہ لگائے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ جو بات کسی کے لئے نا ممکنات میں سے ہو ہمارے ذرائع اور وسائل کے لحاظ سے انتہائی معمولی ہو۔

اگر ہمارے ارد گرد پھیلے مناظرِ فطرت اور زندگی کی رنگا رنگی میں ہمارا بھرپور حصہ ہے تو پھر حسن و زندگی کے عدم توازن پر تشویش بھی ہمارا فرض ہے۔ اور یوں بھی خوابوں کے عکس میں تعبیروں کے رنگ بھرنے سے جو سرخوشی اور سرشاری نصیب ہوتی ہے وہ اور کسی طرح ممکن ہی نہیں۔ خواب ہمارے ہوں یا کسی اور کے خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں۔
جاگتی آنکھوں کے کچے رنگوں سے گندھے ایک خواب کی کہانی (ایک سادہ سی نظم )پیشِ خدمت ہے ۔گر قبول افتد زہے عزّو شرف۔۔۔


کوئلے سے دیواریں کالی کرتا ہے
اس بچے کے پاس قلم نہ بستہ ہے

ایک کتاب چُرا لایا ہے آج بھی وہ
آج بھی سب سے چھپ کر اُس کو تکتا ہے

اُجلے پیراہن میں ہنستے بچوں کو
روز مدرسے جا کر دیکھا کرتا ہے

کیا میں بھی اک روز مدرسے جاؤں گا
روز سویرے اُٹھ کر سوچا کرتا ہے

آنکھوں میں قندیلیں جلتی رہتی ہیں
چہرے پر اک سایہ لرزاں رہتا ہے

جس قطرے کو ہوا اُڑائے پھرتی ہے
سیپ میں ہو تو موتی بھی ہو سکتا ہے

کوئلے سے لکھی تحریریں پوچھتی ہیں
اس بچے سے کس کا کیا کیا رشتہ ہے

مانا اپنے خوابوں میں وہ تنہا ہے
تعبیروں میں تو ہم سب کا حصّہ ہے

محمد احمدؔ



۔ یہ نظم اس سے پیشتر جنوری 2008 میں محفلِ سُخن میں بھی پیش کی جاچکی ہے
۔ لفظ "مدرسہ" کو غلط العام تلفظ پر باندھنے پر اہلِ فن سےمعذرت۔

11 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Jafar کہا...

واہ ۔۔ سبھان اللہ

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بہت خوب

محمد وارث کہا...

بہت خوب احمد صاحب، لاجواب

میرا پاکستان کہا...

اچھی کوشش ہے۔

راشد کامران کہا...

عمدہ لکھی ہے اور کیا ہی باعث شرمندگی صورت حال ہے۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

بہت خوبصورت
اللہ تعالٰی ہماری قوم کے تعلیمی مسائل حل کر دے تو سارے مسئلے ہی حل ہو جائیں

نوائے ادب کہا...

السلام علیکم جزاک اللہ
احمد صاحب کیا خوب نظم لکھی ہے آپ نے بہت پیاری نظم ہے

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ تمام دوستوں کی توجہ اور رائے کا۔

بالکل صحیح کہا آپ لوگوں نے کہ اگر میری قوم کے ہر بچے کو یکساں اور معیاری تعلیم میسر آجائے تو پھر آدھے سے زیادہ مسائل از خود حل ہو جائیں گے۔ رونا یہ ہے کہ حکومت کو اس بات سے ہرگز کوئی دلچسپی نہیں ہے ایسی حکومت کا انتظار اور اسباب ضرور ہونا چاہیے جو اس مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھے لیکن تب تک اگر ہم کسی کی اس سلسلے میں مدد کرسکیں تو اس سے بڑی نیکی کوئی نہیں ہوگی۔

محمد احمد کہا...

راشد کامران صاحب،

بلاگ پر خوش آمدید!

۔

lalay jan کہا...

bohat khoob

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ لالے کی جان!

۔

ساتھ ساتھ بلاگ پر خوش آمدید!۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک