دسمبر اور شاعری


عیسویں کیلنڈر کا بارہواں مہینہ دسمبر ہے۔ دسمبر اپنے ساتھ جاڑے کی خنک شامیں، یخ بستہ ہوائیں اور بہت سی دل کو گرما دینے والی یادیں لئے چلا آتا ہے۔ سال کا آخری مہینہ ہونے کے ناطے دسمبر ایک طرف جدائی اور ہجر کا استعارہ ہے تو دوسری جانب نئے آنے والے سال کی اُمید بھی۔ شاید اسی جذباتی وابستگی کے باعث دسمبر کے مہینے کو شاعروں کی کچھ زیادہ ہی توجہ حاصل رہی اور کئی ایک شعرا نے دسمبر کو اپنی شاعری میں جگہ دی ۔ ابرار الحق کا مشہور گیت دسمبر بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

شاعروں کے علاوہ دسمبر کا مہینہ وزیرِ لوڈ شیڈنگ کا بھی پسندیدہ مہینہ ہے اور وہ تمام وعدے اور وعدہ خلافیوں کے لئے اسی متبرک مہینے کا ہی انتخاب کرتے رہے ہیں۔ ان وعدوں کی ماری عوام بھی لاشعوری طور پر دسمبر کا انتظار کرتی رہتی ہے لیکن نو من تیل کی عدم دستیابی کے باعث رقص کا بھی کسی طور اہتمام نہیں ہو پاتا ۔ پھر بھی اپنی ہی دُھن کے پکے وزیرِ موصوف عوام کو اگلے دسمبر کے سچے جھوٹے (سچے صرف محاورتاً لکھا ہے ) دلاسے دینے سے باز نہیں آتے۔

خیر اس سے پہلے کہ وزیرِ موصوف کا عتاب ہم پر بھی آجائے ہم اپنے موضوع یعنی دسمبر اور شاعری کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ دسمبر کے حوالے سے شاعری کے لئے جب میں نے ویب سرچ کی تو اتنے سارے نتائج سامنے آئے کہ محدود وقت میں اُن سب کو دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا (بیشتر کلام غیر معیاری بھی ہے )۔ پھر بھی میں نے کچھ کلام آپ کے ساتھ شئر کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔

سب سے پہلے دانیال طریر کا ایک خوبصورت شعر:

تیس دن تک اسی دیوار پہ لٹکے گا یہ عکس
ختم اک دن میں دسمبر نہیں ہونے والا

امجد اسلام امجد کی نظم "آخری چند دن دسمبر کے"

آخری چند دن دسمبر کے

ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے میں
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں

رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے

فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے

کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں

دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں

حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشانوں پر
چاک کی لائنیں لگاتے ہیں

ہر دسمبر کے آخری دن میں
ہر برس کی طرح اب بھی

ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک

میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے

خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے

ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے

اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے

ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں سے

نام میرا بھی

کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد)

اور دسمبر کی ردیف میں ایک غزل

ہمارے حال پر رویا دسمبر
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی
میری تنہائی اور میرا دسمبر

اور اب کچھ متفرق اشعار

تری یاد کی برف باری کا موسم
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے
ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر
گزرتا نہیں ہے دسمبر اکیلے

***********

کسی کو دیکھوں تو ماتھے پہ ماہ و سال ملیں
کہیں بکھرتی ہوئی دھول میں سوال ملیں
ذرا سی دیردسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں
یہ فرصتیں ہمیں شاید نہ اگلے سال ملیں

***********

الاؤ بن کے دسمبر کی سرد راتوں میں
تیرا خیال میرے طاقچوں میں رہتا ہے
بچا کے خود کو گزرنا محال لگتا ہے
تمام شہر میرے راستوں میں رہتا ہے

***********

دسمبر کی سرد راتوں میں اک آتش داں کے پاس
گھنٹوں تنہا بیٹھنا، بجھتے شرارے دیکھنا
جب کبھی فرصت ملے تو گوشہ تنہائی میں
یاد ماضی کے پرانے گوشوارے دیکھنا

**********

یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا
تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا
جو بات معتبر تھی،وہ سر سے گزر گئی
جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا

********

وہ مجھ کو سونپ گیا فرقتیں دسمبر میں
درخت جاں پہ وہی سردیوں کا موسم ہے

*********

دسمبر کی شب آخر نہ پوچھو کس طرح گزری
یہی لگتا تھا ہر دم وہ ہمیں کچھ پھول بھیجے گا

**********

اور آخر میں پھر ایک نظم

محبت کے دسمبر میں
اچانک جیسے تپتا جون آیا ہے
تمہارا خط نہیں آیا نہ کوئی فون آیا ہے
تو کیا تم کھو گئے اجنبی چہروں کے جنگل میں
مسافر مل گیا کوئی ، کسی منزل کسی پل میں
عقیدت کے سنہرے پھول
چپکے سے کسی نے باندھ ڈالے آ کے آنچل میں
یکایک موڑ کوئی آگیا چاہت کی منزل میں
خیال وعدہء برباد بھی تم کو نہیں آیا
تو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یاد بھی تم کو نہیں آیا ؟

اسی سلسلے کا مزید کلام آپ اردو محفل میں یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ زیادہ تر کلام کا انتخاب بھی اردو محفل کی ہی مرہونِ منت ہے سو خاکسار اردو محفل کا شکر گزار ہے۔


ہمارا معاشرہ اور انصاف کے تقاضے


جب میں تیسری جماعت میں تھا تو میرے اردو نصاب میں ایک سبق "انصاف "کے نام سے تھا۔ اس سبق میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ ہے جس نے سرِ دربارخلیفہء وقت سے مالِ غنیمت میں ہاتھ آئے کپڑے کی بابت استفسار کیا کہ خلیفہ نے اور لوگوں سے زیادہ کپڑا کیوں لیا۔ اس اعتراض کے جواب میں خلیفہ نے بتایا کہ کیونکہ اُس کا قد کچھ زیادہ ہے اس لئے اُس کے حصے کا کپڑا اُس کی پوشاک کے لئے ناکافی تھا سو اُس کے بیٹے نے اپنے حصے کا کپڑا بھی اُسے دے دیا۔ اس وضاحت کے بعد خلیفہ نے اُس شخص کی جرآت اور بے باکی کی تعریف بھی کی۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ آج کل کے دور میں پیش آتا تو سب سے پہلے تو اُس شخص کی زبان بند کرنے کی دامے درمے سخنے کوشش کی جاتی ۔ اس کے باوجود بھی اگر یہ شخص باز نہیں آتا تو حاکمِ وقت اسے خلافت کے خلاف سازش قرار دیتا اور ساتھ ہی دشمنوں کو منہ توڑ جواب کی وعید بھی سُنائی جاتی۔ خلیفہ کے حواری مختلف بیانات میں بار بار خلیفہ سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار کرتے نظر آتے اور اس بات کا اعادہ کرتے کہ خلافت کی گاڑی کو پٹری سے اُتارنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔ نیز گھنٹوں کی تقاریر سننے کے بعد بھی اصل قصے کی سن گن تک نہیں مل پاتی۔

آج کل آزاد عدلیہ کا بہت شہرہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انتظامیہ عدلیہ سے کہیں زیادہ آزاد ہے جو اس بات کی بھی مکلف نہیں کہ عدلیہ کے احکامات پر عمل درامد کی کوشش ہی کرتی دکھائی دے ۔ پھر بھی یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں پر(بظاہر ) اعتماد کا اظہار کرتی ہے اور (مجبوراً) اُن فیصلوں کا احترام بھی کرتی ہے لیکن احترام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حکومت ان فیصلوں پر عملدرامد کی پابندبھی ہے۔

کہتے ہیں کہ کسی معاشرے میں اگر عدالتیں اپنا کا م بھرپورطریقے سے کر رہی ہوں اور جرائم کی بیخ کنی ہاتھ کے ہاتھ ہوتی رہے تو معاشرے میں جرائم کا تناسب بہت کم ہو جاتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہو اور اُس پر عملدرامد بھی ہو۔ افسوس کہ ہمارا معاشرہ ابھی اس منزل سے بہت دور ہے کہ ہمارے ہاں بے شمار جرائم تو درج ہی نہیں کرائے جاتے کہ اس کا فائدہ ہی کوئی نہیں ۔ ہمارے ہاں مظلوم کی داد رسی کرنے کے بجائے ساری تحقیقات کا رخ اُسی کی طرف موڑ دیا جاتا ہے اور اُس کے جان و مال کو اس قدر نقصان پہچایا جاتا ہے کہ جتنا اصل معاملے میں بھی نہیں پہچتا پھر ایسے میں کوئی کیوں کر ان اداروں پر اعتماد کرے گا۔

زنجیرِ عدل میں نے ہلائی نہ اس لئے
ہر جرم تیرے شہر میں دستور ہو گیا

اور پھر جس معاشرے میں "کُتے" کچرا چننے والے مفلوک الحال لوگوں پر تو بھونک بھونک کر گلا سُکھالیتے ہوں لیکن نفیس کپڑوں میں ملبوس لُٹیروں کے جوتے چاٹتے رہیں وہاں انصاف کی توقع رکھنا کہاں کی عقلمند ی ہے۔

چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے

غزل

چشمِ خوش خواب، فہمِ رسا چاہیے
اک دریچہ دُروں میں کھلا چاہیے

سر میں سودا بھی ہے، دل میں وحشت بھی ہے
رختِ صحرا نوردی کو کیا چاہیے

ہم ہی دیکھیں کہاں تک تجھے آئینے
اب تجھے بھی ہمیں دیکھنا چاہیے

عیب کیوں ہو گئے میرے سارے ہُنر
اُن کو ساتھی نہیں ، ہمنوا چاہیے

منتظر ریت بھی، بادِ صر صر بھی ہے
بس تماشے کو اک نقشِ پا چاہیے

خامشی ایک دن مجھ سے کہنے لگی
کم سخن ہو بہت، بولنا چاہیے

میں نے سوچا ہے میں ہی وفا کیوں کروں
کیا مجھے اس طرح سوچنا چاہیے؟

محمد احمدؔ

کیا ستم ہے کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں


ہونا تو یوں چاہیے کہ ہمارے نظریات ہماری سیاسی وابستگیاں متعین کریں لیکن ہمارے ہاں(زیادہ تر ) اس کے برعکس ہی ہوتا ہے یعنی ہماری سیاسی وابستگیاں ہمارے نظریات کا تعین کرتی نظر آتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ کسی خاص کمیونٹی کے فرد ہیں تو اُس کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ کرنے والی یا صرف اس بات کا دعویٰ کرنے والی جماعت آپ کی جماعت ہے (ڈیفالٹ سیٹنگ )۔ اب یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اس جماعت کے ہر اچھے فعل کو بڑھا چڑھا کر بیان کریں اور ہر قابلِ گرفت عمل کا دفاع کریں لیکن ویسا ہی فعل اگر کوئی اور جماعت انجام دے تو پھر ۔۔۔۔۔ (آپ جانتے ہی ہیں)۔

پھر اگر آپ کی جماعت اگر کسی اور جماعت کی حلیف ہے تو اب حلیف جماعت یا شخصیت کے لئے مذکورہ بالا خدمات انجام دینا بھی آپ کا اولین فریضہ ہے۔ کیوں ؟ صرف اس لئے کہ وہ آپ کی جماعت کی حلیف ہے اور اُسے بھی سات خون معاف ہیں ۔(یہاں سات کا ہندسہ یقیناً بہت کم ہے)۔

بالفرض آپ اس روایت کے برخلاف چلتے ہیں یعنی آپ جس کمیونٹی یا جماعت سے وابستہ ہیں اُس کے کسی عمل پر تنقید کرنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں ۔ اب آپ کی خیر نہیں ! کیونکہ اب آپ غدار ہیں ، آپ دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں اور آپ کھاتے کسی کا ہیں اور گاتے کسی کا ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ آپ کو اپنی سوچ پر ہی شک ہونے لگے گا اور پھر آئندہ آپ اپنے لیڈر حضرات کو اپنی سوچ پر پرکھنے کے بجائے اپنی سوچ کو اُن کے افعال پر پرکھنا شروع کر دیں گے اور جہاں جہاں آپ کو اپنی سوچ سے ذرا بھی غداری کی بو آنے لگے گی آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے فوراً رجوع کر لیں گے ۔ یہی وہ وحد عمل ہے کہ جس سے ایک بار پھر سے آپ کا نام مخلص ساتھیوں کی فہرست میں جگمگانے لگے گا ورنہ آپ واقعی غدار ہیں۔

دل کی تاکید ہے ہر حال میں ہو پاس وفا
کیا ستم ہے کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں
داغ دہلوی

داغ دہلوی کے ساتھ تو چلیے دل کا معاملہ تھا لیکن بحیثیت مجموعی کیا یہ طرزِ عمل کسی باشعور قوم کی عکاسی کرتا ہے؟

کوّوں کے کوسنے سے ڈھور نہیں مرا کرتے



"یہ کون ہیں ؟"
"یہ طوطے ہیں"
"ان میں کیا خوبی ہے؟ "
"یہ طوطا چشم ہوتے ہیں"
"تو ان میں ہاتھی کی آنکھ تو ہونے سے رہی؟ طوطے ہیں تو طوطا چشم ہی ہوں گے"
"میرا مطلب ہے کہ یہ بہت جلدی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ بڑے بے وفا ہوتے ہیں۔"
"اچھا! لیکن ایسی بھی کیا بے وفائی کرتے ہیں یہ؟"
"بس یہ ہوتے ہی بے وفا ہیں۔ آپ انہیں خوب کھلائیں پلائیں، محبت کے ساتھ رکھیں لیکن جس دن پنجرہ کھلا رہ گیا اُسی دن اُڑ جائیں گے اور پھر مُڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے"
"اچھا! تو یہ اس لئے بے وفا ہیں کہ انہیں غلامی کی زندگی پسند نہیں؟"

"اور یہ کون ہیں؟"
"یہ ! یہ کوّے ہیں"
"ان میں کیا خاص بات ہے "
"ان میں کوئی خاص بات نہیں ، سوائے اس کے کہ یہ ہنس کی چال چلتے ہیں اور اپنی چال بھی بھول جاتے ہیں"
"اچھا تو ان کی مثال اُن مغرب زدہ لوگوں کی سی ہے جو انگریزی بولنے کی چاہ میں اردو بھی بھول جاتے ہیں۔"
"بات کچھ ایسی ہی ہے"
"کوّوں کو کوئی پنجرے میں بند نہیں کرتا ؟"
"نہیں بھائی یہ شور بہت مچاتے ہیں اس لئے کوئی انہیں بند کرنے کی جرات نہیں کرپاتا۔ "
"تو گویا یہ بھی "گو امریکہ گو" کی رٹ لگاتے ہیں؟"
"ارے نہیں بھائی یہ تو بس اپنی "کائیں کائیں " کی ریاضت کرتے ہیں ۔"
"یعنی فکر کی کوئی بات نہیں؟"
"نہیں بھائی فکر کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ یوں بھی کوّوں کے کوسنے سے ڈھور (جانور) نہیں مرا کرتے!"


"اور یہ کون ہیں ؟"
"یہ مرغے ہیں۔"
"یہ کس کام آتے ہیں؟"
"انہیں خوب کھلا پلا کر موٹا تازہ کیا جاتا ہے پھر یہ وقت پڑنے پر ذبح کردیئے جاتے ہیں اور اپنے آقاؤں کی ضیافت کا سبب بنتے ہیں۔"
"یہ یقیناً وفادار ہوتے ہوں گے جبھی یہ کہیں نہیں جاتے۔ "
"ان کی خوش خوراکی انہیں وفادار رکھتی ہے۔ "

"اچھا تو کیا یہ پارلیمنٹ ہاؤس ہے؟"
"نہیں بھائی! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا



غزل


نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا


مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا


کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا


اُدھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا


جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا


فیض احمد فیض

Not all SMS are "Waste of Time"

I asked myself how to handle life’s affairs?


My room gave me perfect answer:


Roof said: Aim high
Fan: Be Cool
Clock: Value time
Calendar: Be up to date
Wallet: Save now for future
Mirror: Observe yourself
Wall: Share other’s load
Window: Expand the vision
Floor: Always be down-to-earth.


Thanks to Mr. Khurram, Ahsan Library

تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے؟ وزارتِ صحت؟

گذشتہ شام ہم ایک دوست کے ساتھ بیٹھے ‘انڈائریکٹ اسموکنگ’ کر رہے تھے کہ باتوں کے درمیان ہم سگریٹ کی ڈبیہ اُٹھا کے اُس کا (سگریٹ کی ڈبیہ کا )ازسرِ نو جائزہ لینے لگے ۔ بڑی عجیب سی (شاید بُری لکھنا چاہیے تھا )عادت ہو چلی ہے کہ جب تک کسی چیز کا چاروں اور سے اچھی طرح جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں چین ہی نہیں آتا۔ خیر ڈبیہ کی پُشت پر باریک حروف میں اردو میں لکھا تھا ‘تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے’ ۔ لیکن نہیں! اُس پر ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ شاید ہم وہاں یہ عبارت دیکھنا چاہ رہے تھے جو ہمیں وہاں نہیں ملی۔ ہمارے ایک دوست نے کہا تھا کہ ‘ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں’ شاید میر صاحب نے بھی یہی سوچ کر کہا ہوگا کہ

؂ یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

لیکن ہمارا تجربہ تو ہمیشہ اس کے برعکس ہی رہا ۔پھر بھی جتنے منہ کم از کم اُتنی باتیں تو ہونی ہی چاہیے سو ‘ دُنیا کب چپ رہتی ہے کہنے دو جو کہتی ہے ’۔

بہر حال سگریٹ کی ڈبیہ پر موجود عبارت کچھ یوں تھی۔



















یہ پڑھ کر تو فوراً دل یہی چاہا کہ کاش ہم بھی بچے ہوتے اور اس ‘پروٹیکشن زون’ میں ہی کہیں پائے جاتے ۔

بہر کیف ہم نے اس کا مطلب یہی لیا کہ یا تو شاید‘ اب تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے’

یا آپڑی یہ شرم کے تکرار کیا کریں

(‘یاں’ کا نون غنہ ہم نے از خود حذف کردیا ہے اسے ٹائپو نہ سمجھا جائے)


وہ کہتے ہیں میں کتنا کم سخن ہوں

غزل

شکستہ پر ، شکستہ جان و تن ہوں
مگر پرواز میں اپنی مگن ہوں

خود اپنی دھوپ میں جلتا رہا ہوں
خود اپنی ذات پر سایہ فگن ہوں

میں دیواروں سے باتیں کر رہا ہوں
وہ کہتے ہیں میں کتنا کم سخن ہوں

وہ کب کا منزلوں کا ہو چکا ہے
میں جس کا منتظر ہوں خیمہ زن ہوں

بلا کی دھوپ نے چٹخا دیا ہے
میں جیسے کچی مٹی کا بدن ہوں

ستمگر ہو کہ بھی شکوہ کناں وہ
یہ میں ہوں کہ جبینِ بے شکن ہوں

یہ میں کیا ہو گیا ہوں تجھ سے مل کر
کہ خوشبو ہوں، ستارہ ہوں، پون ہوں

جنوں کی اک گرہ مجھ پر کھلی ہے
تو سرشاری کے خط پر گامزن ہوں

رہی ہجرت سدا منسوب مجھ سے
وطن میں ہو کے احمد بے وطن ہوں

محمد احمدؔ

اُسے فرصت نہیں ملتی ۔ برائے ہفتہ بلاگستان یومِ مزاح

ایسا مہینے میں ایک آدھ بار تو ضرور ہی ہوتا ہے کہ ہمیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اُن کے آگے سر جھکانا ہی پڑتا ہے پھر بھی موصوف ہماری اس سعادت مندی کو ہرگز خاطر میں نہیں لاتے بلکہ خاطر میں لانا تو ایک طرف جناب تو ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ اس سے پہلے کے آپ کے ذہن میں ہمارے اور اُن کے بارے میں طرح طرح کے وسوسے سر اُٹھائیں ہم آپ کو بتا ہی دیں کہ آج ہم اپنے زلف تراش کا رونا رو رہے ہیں۔ زلف تراش کی ترکیب شاید آپ کو اچھی نہ لگے یا پھر آپ کو اس میں تصنّعُ کا پہلو نظر آئے۔ لیکن کیا کیجے کہ اس مقام پر ہم بھی بے حد مجبور ہیں کہ یا تو ’ ہئیر ڈریسر ‘ لکھ کرزبانِ غیر میں شرح ِ آرزو کے مجرم ٹھہریں یا ’حجام‘ جیسا کریہہ لفظ استعمال کرکے اپنے ہی ہاتھوں ، مطلب اُن کے ہاتھوں اپنی حجامت کا بندوبست کریں۔ گو کہ ہم یہاں اسی واسطے آتے ہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ ہم کس قسم کی حجامت کے ذکر ِ شر سے خوفزدہ ہیں۔

یہاں آپ کو شاید اتنی ہی اہمیت ملے جتنی زرداری صاحب کو چائنہ میں ملی، یا شاید اس سے تھوڑی سی زیادہ مل جائے ، لیکن اس سے زیادہ کی توقع مت رکھیے گا کہ نام تو موصوف کا ’ویلہ ہیئر ڈریسر‘ ہے لیکن مجال ہے جو کبھی آپ کو ویلے(فارغ) نظر آئیں۔ آپ جب بھی پہنچیں کوئی نہ کوئی اُن کے زیرِ عتاب نظر آئے گا ۔ اول تو آپ اُنہیں نظر ہی نہیں آئیں گے لیکن اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو پھر آپ کی خیر نہیں فوراً اُسترا ہاتھ میں لئے بیٹھنے کا اشارہ کریں گے ۔ اُن کے جان لیوا تیور اور اُسترے کی چمک دمک دیکھ کر آپ چاہیں بھی تو یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کر سکیں گے کہ آپ کو کب تک اُن کے تختہٗ مشق تک رسائی ہوسکے گی ۔ چار و نا چار انتظار گاہ یعنی سہ افرادی نشست پر براجمان ہونے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں ، بشرط کہ وہاں آپ کے لئے جگہ بھی ہو۔

کہتے ہیں زبان بند رہے تو دماغ اچھی طرح کام کرتا ہے ، یہاں آپ کو بھی اسی کلیہ کا استعمال کرنا ہوگا۔ پہلے سے موجود انتظار کنندگان کی تعداد اور اُن کے تاثُرات سے آپ بخوبی اندازہ لگا لیں گے کہ آپ کو کب تک انتظار کی راہ دیکھنی ہوگی۔ لیکن بے فکر رہیے انتظار کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو یہاں آپ بیزار ہرگز نہیں ہوں گے۔ چائے کا کپ مکھیوں سمیت اُٹھا کے اُس کے نیچے سے آج کا تازہ اخبار نکال لیجیے ۔ ارے رے رے ! ذرا دھیان سے ۔کہیں چائے کی باقیات آپ کو بھی ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں ‘ کا راگ الاپنے پر مجبور نہ کردے۔ بس یوں کیجیے ، اخبار کو اس کے دائیں بائیں کونوں سے تھامیئے اور چائے کو کششِ ثقل کے حوالے کردیجیے۔ لیجیے جناب اب آپ آرام سے بیٹھ کر اپنا فشارِ خون اپنی خودی سے بھی بلند کرسکتے ہیں۔بس پڑھتے جائیں ، کوئی بات نہیں اگر آپ کی تیوریاں چڑھ جائیں یا کانوں سےدھواں نکلنا شروع ہو جائے۔ کوئی بات نہیں! جو دل میں آرہا ہے کہہ دیجیے ، پر دل میں ہی کہئے گا کہ آپ کے اخلاق کو آپ سے بہتر کوئی اور نہ سمجھ سکے۔

اگر آپ پہلے سے بلند فشارِ خون جیسے مرض میں مبتلا ہیں تو پھرتا زہ اخبار آپ کے لئے ہرگز موزوں نہیں ۔ فکر نہ کیجیے، یہ لیجے ’اخبارِ جہاں‘ پڑھیئے، بالکل نیا ہے ابھی دو سال پہلے ہی ردی والے سے خریدا گیا ہے۔ کیا! بیچ کا صفحہ غائب ہے، ارے نہیں ! ایسا نہیں ہے، بس ذرا سامنے دیکھیے ۔ جی آئینہ کے اُوپر ! جی بالکل! دوکان میں آتے ہی آپ بیچ کے صفحے کی زیارت بلکہ تفصیلی معائنہ کر چکے ہیں ۔ کوئی بات نہیں اس میں اور بھی بہت کچھ ہے ’تین عورتیں،تین۔۔۔۔‘ اچھا اچھا! آپ ’کٹ پیس‘ تک پہنچ گئے ہیں۔ اچھا ہے ، ’کٹ پیس‘ اپنے گرد وپیش سے بےخبر رہنے کے لئے اچھی چیز ہے۔ لیکن بہت زیادہ بے خبر بھی مت رہیے ۔ کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے گا کہ آپ کے بعد کون کون آیا ہے ورنہ اقربا پروری تو کہیں بھی راہ نکال لیتی ہے۔

’ویلہ ہئیر ڈریسر ‘ کی انتظار گاہ صرف دار المطالعہ ہی نہیں درس گاہ بھی ہے ۔ وہ کیا کہا ہے کسی نے کہ ’سیانوں کے ساتھ ایک گھنٹے کی ملاقات دس مہینے کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے‘۔یہاں بھی آپ کو ایسی ایسی گفتگو سُننے کو ملے گی کہ آپ دس مہینے تو کیا دس سال بھی کتابیں پڑھتے رہیں تو وہ سب کچھ نہیں سیکھ سکیں گے۔ لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہ سب کچھ آپ سیکھ تو سکتے ہیں پر کسی کو سکھانے کی کوشش مت کیجیے گا کہ یہ کام سیانوں کا ہے اور وہ اپنا کام خوب جانتے ہیں ۔

اب ذرا سنبھل جائیں کہ آپ کی زلفِ دراز کی دست درازیوں کو لگام دینے کا وقت آگیا ہے۔ یعنی اب جگر تھام کے خود کو اُن کے حوالے کر دیجیے بلکہ زیادہ بہتر ہو گا کہ اللہ کے حوالے کردیجیے کیونکہ عین ممکن ہے کہ زلف تراش کا تیز اور چمکدار اُسترا بھی یہی کچھ کرنا چاہے۔ زلف تراش کسی سے بات کرے یا نہ کرے لیکن اپنے فتراک کے نخچیر (یہاں مراد تختہٗ مشق تک پہنچ جانے والے سورما سے ہے ) سے ضرور ہم کلام رہتا ہے۔ ہم سے بھی مکالمہ رہا اور کچھ یوں رہا۔

"ارے بھائی ! اس دفعہ بال کچھ زیاد ہی نہیں بڑھ گئے آپ کے" پانی کی بوچھار کے ساتھ پوچھا گیا۔
"جی کچھ مصروفیت زیادہ رہی، ویسے پچھلی دفعہ سے آپ کے ریٹس (نرخ) بھی تو بڑھ گئے ہیں" باقی ماندہ جملہ دل میں کہا گیا۔
’دل میں جو بات ہے ، کہہ دو‘ اچانک کسی نے کیسٹ پلئر کھول دیا اور ایسا لگا کہ شاید دل کا چور پکڑا گیا لیکن اگلا مصرع اطمینان بخش رہا کہ زبانِ افرنگ میں تھا اورسمجھ میں آگیا کہ نہیں سمجھ آئے گا۔
ابھی تک قینچی ہوا میں چل رہی ہے ، شاید ہمیں ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے ۔ چمچماتا ہو ا اُستر ا بھی آنکھوں کو خیرہ کئے دے رہا ہے۔ اور ہم اپنے خطاہوتے ہوئے اوسان کی دھوپ چھاؤں میں آنکھیں پٹپٹارہے ہیں اور اس کار گزاری کی گاڑی کے جلدی سے گزر جانےکی دعامیں لگے ہیں کہ اچانک سامنے نگاہ پڑتی ہے۔
"یہ صاحب کون ہیں جو مجھے احمقوں کی طرح گھور رہے ہیں " ہم نے زلف تراش کو مخاطب کرکے سامنے اشارہ کیا۔
زلف تراش کے چہرے پرپہلے حیرانی اور پھر مسکراہٹ نے ڈیرہ جمالیا تاہم وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔ اور ہم آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

حصہ (ایک سادہ سی نظم ) ۔ برائے یومِ تعلیم ۔ ہفتہ بلاگستان

اظہارِ تاسف کے بہت سے مواقع ہماری زندگی میں آتے ہیں اوراکثر ہمیں اس بات کا ادراک بھی نہیں ہوتا کہ ہمارا لمحاتی اظہارِ رنج کسی کی محرومی پر ہے یا اپنی نا اہلی پر۔ یہاں کہیں کہیں امید کے موہوم ستارے موجود ہوتے ہیں جنہیں اپنائیت کا عدسہ لگائے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ جو بات کسی کے لئے نا ممکنات میں سے ہو ہمارے ذرائع اور وسائل کے لحاظ سے انتہائی معمولی ہو۔

اگر ہمارے ارد گرد پھیلے مناظرِ فطرت اور زندگی کی رنگا رنگی میں ہمارا بھرپور حصہ ہے تو پھر حسن و زندگی کے عدم توازن پر تشویش بھی ہمارا فرض ہے۔ اور یوں بھی خوابوں کے عکس میں تعبیروں کے رنگ بھرنے سے جو سرخوشی اور سرشاری نصیب ہوتی ہے وہ اور کسی طرح ممکن ہی نہیں۔ خواب ہمارے ہوں یا کسی اور کے خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں۔
جاگتی آنکھوں کے کچے رنگوں سے گندھے ایک خواب کی کہانی (ایک سادہ سی نظم )پیشِ خدمت ہے ۔گر قبول افتد زہے عزّو شرف۔۔۔


کوئلے سے دیواریں کالی کرتا ہے
اس بچے کے پاس قلم نہ بستہ ہے

ایک کتاب چُرا لایا ہے آج بھی وہ
آج بھی سب سے چھپ کر اُس کو تکتا ہے

اُجلے پیراہن میں ہنستے بچوں کو
روز مدرسے جا کر دیکھا کرتا ہے

کیا میں بھی اک روز مدرسے جاؤں گا
روز سویرے اُٹھ کر سوچا کرتا ہے

آنکھوں میں قندیلیں جلتی رہتی ہیں
چہرے پر اک سایہ لرزاں رہتا ہے

جس قطرے کو ہوا اُڑائے پھرتی ہے
سیپ میں ہو تو موتی بھی ہو سکتا ہے

کوئلے سے لکھی تحریریں پوچھتی ہیں
اس بچے سے کس کا کیا کیا رشتہ ہے

مانا اپنے خوابوں میں وہ تنہا ہے
تعبیروں میں تو ہم سب کا حصّہ ہے

محمد احمدؔ



۔ یہ نظم اس سے پیشتر جنوری 2008 میں محفلِ سُخن میں بھی پیش کی جاچکی ہے
۔ لفظ "مدرسہ" کو غلط العام تلفظ پر باندھنے پر اہلِ فن سےمعذرت۔

ہمدرد ۔ ایک درد مند دل کا فسانہ

ہمدرد ۔ ایک درد مند دل کا فسانہ

یہ محض اتفاق ہی تھا کہ بس میں رش نہیں تھا ورنہ کراچی جیسے شہر میں اگر بس کے پائیدان پر بھی آپ کو جگہ مل جائے تواسے بڑی خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شاید دوپہر کے ساڑھے تین سے چار بجے کا وقت ہوگا عموماً اس وقت تک ٹریفک کا زیادہ بہاؤ رہائشی علاقوں سے تجارتی مراکز کی جانب ہوتا ہے اور شام میں یہ صورتِ حال بالکل برعکس ہوتی ہے غالباً یہی وجہ تھی کہ مجھے بس میں با آسانی نشست مل گئی تھی۔ دراصل آج شام کو ایک تقریب میں شرکت کرنی تھی جس کے لئے کچھ تیاری میری لاپرواہی کے نتیجے میں آخری دن تک چلی آئی تھی اسی لئے آج میں خلافِ معمول جلد ہی دفتر سے نکل آیا تھا ۔ اگر تقریب میں شرکت ضروری نہ ہوتی تو شاید یہی بات میرے لئے تقریب سے کنارہ کشی کا ایک اچھا بہانہ بھی بن سکتی تھی لیکن کیا کیا جائے کہ کچھ تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں نبھانا ہی پڑتا ہے۔

بس سست رفتاری سے چل رہی تھی اورلوگ ذرا ذرا سے فاصلے پر بس میں سے چڑھ اور اُتر رہے تھے۔ بس میں دو رویہ نشستوں کا انتظام تھا۔ بیچ میں راہداری تھی جو رش کے اوقات میں مسافروں کے کھڑے ہونے کے کام آتی تھی۔ میں اپنے خیالات اور راستے کے مناظر کے مابین کہیں گم تھا کہ میری نشست کے متوازی نشست کے دونوں مُسافر ایک ساتھ اُتر گئے خیال آیا کہ کیوں نہ اس نشست پر پہنچ جاؤں،اِن بسوں کی اکثر نشستیں تکلیف دہ ہی ہوا کرتی ہیں اسی خیال سے مسافر خالی ہونے والی نشستو ں پر منتقل ہوتے رہتے ہیں کہ شاید اگلی نشست کچھ آرام دہ یا بہتر ہو۔ عموماً یہ بات تھکے ماندے مُسافروں کی خام خیالی ہی ہوتی ہے لیکن کیا کیا جائےکہ اُمیدوں کا سہارا نہ ہو تو سفر اور بھی دشوار ہو جاتا ہے، بہرکیف اس دفعہ بھی میں نے سوچنے میں بہت دیر لگا دی اور پچھلی نشست سے ایک ادھیڑ عمر کا شخص ا س نشست پر آکر براجمان ہوگیا اُس کے ساتھ ایک دس بارہ سالہ لڑکا بھی تھا یہ اتفاق ہی تھا کہ ادھیڑ عمر شخص جو شاید لڑکے کا باپ تھا کھڑکی کی طرف بیٹھا تھا اور لڑکے نے بغیرکسی احتجاج کے کھڑکی کی دوسری طرف والی نشست سنبھال لی تھی ورنہ اکثر اوقات بچے کھڑی کے ساتھ بیٹھنے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کرتے ہیں۔

میں بے خیالی میں لڑکے کا جائزہ لینے لگا ۔ وہ ملگجے سے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا جو کثرتِ استمال کے باعث اپنی اصلی رنگت اور پہچان کھو چکے تھے اوراپنی خستہ حالی کی زبانی غربت اور افلاس کی کی کہانی سنا رہے تھے۔ مجھے نہ جانے کیوں وہ بے حد بہت ملول اور اُداس نظر آیا، آنکھوں میں زردیاں سمیٹے وہ اپنے دھیان میں نہ جانے کیا سوچ رہا تھا، پھر میری نظر اُس کے ہاتھ پر پڑی اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کی شفاف تھیلی تھی جس میں سُرخ رنگ کا محلول نظر آرہا تھا ۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ لڑکا بیمار تھا اور کسی سرکاری ڈسپنسری سے دوا کے نام پر سُرخ رنگ کا مکسچر لے کر آیا تھااُس کی آنکھوں کی گرد پڑے گہرے حلقےاس بات کی تصدیق کررہے تھے۔

مجھے وہ زمانہ یاد آیا جب اسی قسم کی دوا کے حصول کے لئے لوگ گھر وں سے استعمال شدہ بوتلیں لے کر جاتے تھے اوراُن میں سرکاری دوا خانوں سے اسی قسم کا سُرخ مکسچر لے آتے تھے پھر پلاسٹک کی تھیلیوں نے گھر سے بوتل لے جانے کا ٹنٹا تو ختم کردیالیکن سرخ رنگ کا یہ مکسچر کسی نہ کسی شکل میں اب تک سرکاری اور نچلے درجے کے ہسپتالوں کی روایت کا حصہ ہے۔ نہ جانے کیا بات تھی کہ اُس زمانے میں صرف یہ سُرخ دوا ہی مریض کو صحتیابی کا راستہ دکھا دیتی تھی لیکن اب اس کی افادیت برائے نام ہی رہ گئی ہے بیشتر لوگ تو اسے پینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ پھربھی غریب طبقہ جسے مہنگی دوائیں خریدنے کی توفیق میسّر نہیں اب تک اسی قسم کی دوا ؤںمیں ہی شفا کےوسیلے تلاشا کرتا ہے۔

اُس بچے کی آنکھوں کی گہری اُداسی نہ جانے کیوں مجھے بہت اُداس کئے دے رہی تھی اور مجھےرہ رہ کر ملک کے اربابِ اختیار پر غصہ آرہا تھا کہ جن کی مفاد پرستی اور حوس نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی تھیں ، "یہ کیسا ملک ہے کہ جہاں غریب کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے اور امیر ! امیر اپنے پیسے کے بل بوتے پر جو چاہے کرتا رہے" کرب کی ایک لہر میرے اندر تک سرایت کرگئی۔

"یہ ملک صرف دولت مند طبقے کے لئے ہے اور غریب آدمی یہاں سسک سسک کے مرنے کے لئے ہے ، پیسہ ہو تو ایک سے ایک معالج اور اعلٰی سے اعلیٰ علاج میسّر ہے پیسہ نہ ہو تو کوئی آپ کو پوچھنے والا تک نہیں،غریب جیے یا مرے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں" سوچ سوچ کر میرا دل جل رہا تھا۔

پھر مجھے سرکاری ہسپتالوں کا حال یاد آیا جہاں اچھی دوائیں تو ڈسپنسری میں آنے سے پہلے ہی بک جایا کرتی ہیں اور جعلی دواؤں سے غریبوں کو بہلا دیا جاتا، شاید یہی وجہ تھی کہ لوگ سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے کتراتے ہیں اورانجانے میں معمولی امراض کو دائمی بنا لیتے ہیں۔ لیکن حکومتی اداروں اور اُن پر قابض لالچی بھیڑیوں کو اگر کسی بات سے دلچسپی ہے تو وہ صرف اُن کی اپنی ذات اور ذاتی مفاد ہے اُنہیں کسی اور بات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ پھر ایسے میں عام آدمی سوائے کُڑھنے کے اور کربھی کیا سکتا ہے، مجھے اپنی بے بسی کااحساس ہونےلگا۔

بس آدھے سےزیادہ سفر طے کرچکی تھی کہ اچانک ڈرایئور نے بس کو سڑک کے ایک طرف روک دیا، میں اپنے خیالات سے چونکا تو پتہ چلا کہ بس کا ایک ٹائر پنکچر ہوگیا ہے اور ڈرایئور اُسےاس جگہ جو نسبتاً کم رونق والی تھی تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ مُسافر ڈرائیور کو بُرا بھلا کہتے ہوئے بس سے اُتر رہے تھے ، میں بھی نیچے اُتر آیا اور لبِ سڑک ایستادہ پان کی کیبن سے پان بنوانے لگااور ساتھ ساتھ ٹائر کی تبدیلی کا منظر بھی دیکھ رہا تھا۔ اچانک میری نظر اُس بچے اور اُس کے باپ پر پڑی جو شاید کمر سیدھی کرنے کے لئے بس سے اُتر آئے تھے۔ پان منہ میں رکھ کر میں پھر سے بچے کی جانب دیکھنے لگا، سُرخ رنگ کا محلول اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھا ، یکایک اُس نے اپنا دوسرا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا اور جیب سے ایک چمچہ نما تار نکالا۔ تار کے ایک سرے پر گھیرے دار اسپرنگ سے چمچہ نما حلقہ بنا ہوا تھا، اس دوران وہ سُرخ دوا کی تھیلی کھول چکا تھااب اُس نے چمچہ نما تار دوا کی تھیلی میں ڈالا اور پھر اُسے اپنے منہ کی طرف لا کر ہلکی سی پھونک ماری۔ فضا میں چاروں طرف بہت ہی خوش نما بُلبُلے رقص کررہے تھے۔ اور بچے کی آنکھوں میں قوس وقزح کے رنگ بکھرے ہوئے تھے اور اُس زردی کا وجود کہیں بھی نہیں تھا جو کچھ دیر پہلے میری توجہ کی مرکز تھی۔ بچے کی خوشی دیدنی تھی ۔ایک بہت ہی حسین مُسکراہٹ میرے لبو ں پر بھی مچل رہی تھی اور میں بہت خوش دلی سے بچے کی طر ف دیکھ رہا تھا۔ اورہاں ابھی تو مجھےخود پر بھی بہت دیر ہنسنا تھا۔

یہ تحریر دسمبر 2008 میں اردو محفل میں بھی شائع ہوچکی ہے

روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے

آج اگست کی پہلی تاریخ ہے یعنی جشنِ آزادی پاکستان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی مناسبت سے آج ایک ملی نغمہ آپ کی سب کی نظر کر رہا ہوں کہ یہ مجھے بہت پسند ہے۔ یہ ملی نغمہ بھی ہے اور دعا بھی ساتھ ساتھ عہدِ طفلی کی یاد گار بھی۔ گو کہ ملک کے حالات دگر گوں ہیں اور مسائل کی بھرمار ہے لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ
؂ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اس خوبصورت نغمہ کے شاعر کے بارے میں خاکسار لا علم ہے جس کے لئے پیشگی معذرت ۔ اس نغمہ کو حبیب ولی محمد نے گایا ہے اور کیا ہی خوب گایا ہے۔

روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے

پاکستان کا گوشہ گوشہ ،گلی گلی آباد رہے
پاکستان کا بچہ بچہ، شاد رہے ،آزاد رہے
آنکھیں ہوں خوابوں سے روشن، سینوں میں ایمان رہے

روشن و رخشاں نیّر وتاباں پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے

اس کے پہاڑوں دریاؤں پر ، میدانوں ، صحراؤں پر
اس کے ہرے بھرے شہروں پر ، ہر قریئے، ہر گاؤں پر
اللہ تیری رحمت برسے ، تیرا کرم ہر آن رہے

روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے
جب تک سورج چاند ہے باقی، جب تک باقی جہان رہے ہے


روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے ۔ حبیب ولی محمد





روشن و رخشاں، نیّر وتاباں ، پاکستان رہے ۔ ٹینا ثانی




اگرچہ وقت کے تیور کڑے تھے

غزل

اگرچہ وقت کے تیور کڑے تھے
مگر ہم زندگی سے کب لڑے تھے

فرارِ زیست ممکن ہی نہیں تھا
شجر کے پاؤں مٹی میں گڑے تھے

محبت بھی وہی، دنیا وہی تھی
وہی دریا، وہی کچے گھڑے تھے

وہ کب کا جا چکا تھا زندگی سے
مگر ہم بانہیں پھیلائے کھڑے تھے

اور اب تو موم سے بھی نرم ہیں ہم
کوئی دن تھے کہ ہم ضد پر اڑے تھے

رہا سر پر سلامت غم کا سورج
کم از کم اپنے سائے سے بڑے تھے

سراسیمہ سی کیوں تھی ساری بستی
بھنور تو دور دریا میں پڑے تھے

ملا وہ، کہہ رہا تھا خوش بہت ہوں
مگر آنکھوں تلے حلقے پڑے تھے

تو کیا تم نے ہمیں دھوکے میں رکھا
وفا بھی تھی یا افسانے گھڑے تھے

خزاں پہلے پہل آئی تھی اُس دن
وہ بچھڑا تو بہت پتے جھڑے تھے

وفا، مہر و مروت اور یہ دنیا
ہماری عقل پر پتھر پڑے تھے

شبِ فرقت ستارے تھے کہ آنسو
نگینے خلعتِ شب میں جڑے تھے

ہمیں احمد صبا نے پھر نہ دیکھا
کہ ہم برگِ خزاں آسا پڑے تھے

محمداحمد

....بارشوں کے موسم میں

کئی دنوں کے حبس کے بعد آج کراچی بھی جل تھل ہو ہی گیا، صبح صبح بارش ہوگئی ۔ موسم اچھا ہو جائے تو سب کچھ اچھا لگتا ہے ۔ پھر خاص طور پر بارش تو اپنا الگ ہی رنگ رکھتی ہے۔ قطعِ نظر اس بات کے کہ بارش سے کیا کیا مسائل اور پریشانیاں جنم لیتی ہیں یہ بات بھی بالکل بجا ہے بارش دلوں کے اندر تک سرائیت کرنا جانتی ہے ۔ دل میں پہنچنے کے بعد اس کا پہلا حدف دل میں موجود یادوں کی لائیبریری ہوتا ہے ۔بہت کچھ یاد آنے لگتا ہے اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ گزارا ہوا خوبصورت وقت ، بہت اچھی اچھی باتیں اور یادیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نہ جانے کون کون سے دکھ بھی خود رو پودوں کی طرح نکل آتے ہیں اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی پھیلا دیتے ہیں ۔ یہ ہریالی اور نیلا دُھلا دُھلایا آسمان جو منظر پیش کرتا ہے وہ اُداس تو ضرور کرتا ہے لیکن اُس کا بھی اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔

بارشوں میں کھانے پینے کا بھی الگ ہی مزہ ہے ۔ لوگ طرح طرح کے اہتمام کرتے ہیں، مجھے آج تک یاد ہے آج سے ایک آدھ سال اُدھر میں ایک مقامی پارک میں دوستوں کے ساتھ موجود تھا اور چائے سے شغل میں مصروف تھا کہ اچانک بارش ہو گئی اور بارش بھی ٹھیک ٹھاک، اس بارش کے طفیل اُس چائے میں اچھی خاصی برکت ہوگئی لیکن پھر بھی میں نے اُ س چائے کو چھوڑا نہیں اور اُس چائے نے اتنا لطف دیا کہ آج بھی یاد آتی ہے۔

خوبصورت موسم اور برکھا برسات شعر و سخن کے لئے بھی بہت ہی ساز گار ہوتے ہیں اور کبھی کبھی تو خیالات بارش کی بوندوں سے بھی تیز تر ہو جاتے ہیں ، اور ان میں سے بھی اکثر خیالات شاعرانہ قالب میں ڈھلے ڈھلائے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی شاذ ہی ہوتا ہے کہ اگر یہ سارے لوازمات میسّر آبھی جائیں تو بھی فرصت کی کمی ضرور رہتی ہے۔

بہر کیف، اس طرح کا موسم جب بھی ہوتا ہے ، مجھے پروین شاکر کی یہ خوبصورت نظم ضرور یاد آتی ہے۔

پیشکش


اتنے اچھے موسم میں
روٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں
کل پہ ہم اُٹھا رکھیں
آج دوستی کرلیں

پروین شاکر۔

اور ایک یہ قطعہ بھی ۔

موسم تھا بے قرار، تمھیں سوچتے رہے
کل رات بار بار، تمھیں سوچتے رہے
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چُپ چاپ ، سوگوار تمھیں سوچتے رہے

شاعرنامعلوم

اگر آپ بھی کراچی میں ہیں تو بارش کے لطف کو شکائتوں میں مت گنوائیے گا۔

تمھیں کیا....! از محسن نقوی

تمھیں کیا؟

تمھیں کیا۔۔۔
زندگی جیسی بھی ہے
تم نے تو اِس کی ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمھیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا۔۔۔ چہروں کے میلے میں
محبت کی شفق برسی تمھارے خال و خد پر
آئنے چمکے تمھاری دید سے
خوشبو تمھارے پیرہن کی ہر شکن سے
اِذن لے کر ہر طرف وحشت لُٹاتی تھی
تمھارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں۔۔۔
سبھی آنکھیں تمھارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں!
تمھیں کیا۔۔۔
تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں اُنڈیلے ذائقے اپنے
تمھیں کیا۔۔۔
تم نے کب سوچا؟
کہ چیزوں سے اٹی دنیا میں، تنہا سانس لیتی
ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
کتنی مشقت سےگریبانِ سحر کے چاک سیتے ہیں؟
تمھیں کیا۔۔۔!
تم نے کب سوچا؟
کہ تنہائی کے جنگل میں۔۔۔
سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے؟
تمھیں کیا؟
تم نے کب سوچا۔۔۔۔
کہ چیزوں سے اٹی دُنیا میں
کس کا دل اکیلا ہے؟


محسن نقوی

یہ مری انا کی شکست ہے، نہ دعاکرو، نہ دوا کرو ۔ اقبال عظیم

غزل

یہ مری انا کی شکست ہے، نہ دعاکرو، نہ دوا کرو
جو کرو تو اتنا کرم کرو، مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو

یہ جو ایک ترکشِ وقت ہے، ابھی اس میں تیر بہت سے ہیں
کوئی تیر تم کو نہ آلگے ، مرے حالِ دل پہ نہ یوں ہنسو

میں نہ قیس ہوں، نہ ہوں کوہکن، مجھے اپنی جان عزیز ہے
مجھے ترکِ عشق قبول ہے جو تمھیں یقینِ وفا نہ ہو

جو تمھارے دل میں شکوک ہیں تو یہ عہد نامے فضول ہیں
یہ تمھارے خط ہیں سنبھال لو، جو مرے خطوط ہوں پھاڑ دو

جو کوئی کسی کو ستائے گا تو گلہ بھی ہونٹوں تک آئے گا
یہ تو اک اُصول کی بات ہے جو خفا ہو مجھ سے تو کوئی ہو

اقبال عظیم

.... بس کہ دشوار ہے

یہ تحریر تقریباً ایک ڈیڑھ سال پُرانی ہے، سوچا بلاگ کے قارئین کے لئے بھی اسے پیش کردیا جائے۔ ملاحظہ فرمائیے ۔۔۔

بس کہ دشوار ہے۔۔۔

غالباً یہ گزشتہ ہفتے کی بات ہے جب محفل (یہاں مراد محفلِ سخن سے ہے) میں ایک شعر برائے تشریح پیش ہوا ، شعر غالب کا تھا اورکچھ یوں تھا۔

؂ رگ سنگ سے ٹپکتا ، وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرارہوتا


ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس شعر کی تشریح کی جائے، بہت عقل کے گھوڑے دوڑائے مگر کچھ بن نہ پڑا ، شعر کے مفاہیم تو خیر ہم پر کیا کھلتے خود ہمارا ہی پول کھلا چاہتا تھا۔ قریب تھا کہ ہمیں اچانک ڈھیر ساری شرمندگی محسوس ہوتی کہ ایسے کڑے وقت میں غالب ہی کے ایک شعر نے آکر سنبھالا دیا۔ بروقت یاد آنے والا شعر یہ تھا۔

؂ آگہی دامِ شنیدن ، جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا


بس پھر کیا تھا ہماری فطری ڈھٹائی عود کر آئی اور رعونتِ جہل سے لبریز ایک مسکراہٹ ہمارے ہونٹوں پہ کھیلنے لگی ہم نے بڑی شان سے سوچا کہ جب شاعرِموصوف سے اس قسم کا دعویٰ سرزد ہو ہی گیا ہے تو اُسے نبھانے کہ لیے کچھ نہ کچھ ترجیحات تو شعر گوئی میں بھی ملحوظِ خاطر رکھی ہوں گی ورنہ مدعا اتنا بھی عنقا نہیں رہتا جتنا کہ اب تھا ۔ اس خود ساختہ اور کسی حد تک بے ساختہ تسلّی سے دل کو گوں نا گوں اطمینان نصیب ہوا، اور ہم نے سوچا کہ ہم خواہ مخواہ ہی خود کو لعن طعن کرتے(اگر کرتے تو)۔ بہرحال اطمینانِ قلب
بڑی چیز ہے اور یہ نادر شے ہاتھ آہی گئی تو سوچا کہ اس سے پہلے کہ ہم بھی بوئے گل ، نالۂ دل اور دودِ چراغِ محفل کی فہرست میں شامل ہو جائیں اس نئے اطمینان کے جِلو میں پھر سے شعر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں سو ہم پھر سے غالب کے شعر کوتکنے لگے بالکل ایسے ہی جیسے شعر اب تک ہمارا منہ تک رہا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد البتہ اتنا ہمیں ضرور سمجھ آگیا کہ بہت ہی خوب ہوا کہ غالب کا مفروضہ ، مفروضہ ہی رہا اور اس نے حقیقت کا روپ نہیں دھارا ، ورنہ وہ رن پڑتا کہ تشریح کی بھی تشریح ہو جاتی تو بھی بات سنبھالے نہ سنبھلتی۔ اس سے زیادہ کوئی اور تفہیم ہماری گراں قدر فہم و فراست کے سامنے کھڑی ہونے کی جرات نہیں کر سکی۔

کلامِ غالب اور ہماری یہ مڈ بھیڑ نئی ہرگز نہیں تھی بلکہ اس سے پیشتر بھی غالب کی غزلیں اور اشعار ہمیں مغلوب کرنےکی سعیِ لاحاصل کرتے رہے تھے۔ کئی ایک بار تو ہم جان چھڑاتے چھڑاتے جاں بلب ہو گئے، پر شاید کوئی لیا دیا کام آگیا جو جاں بچ گئی، لیکن کلامِ غالب اور اس کے بعد کی غالب فہمی سے جان پھر بھی نہ چھوٹی۔

؂ میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا


ہم میں اور کوئی خوبی ہو نہ ہومستقل مزاجی کی خو البتہ بدرجہ اتم موجود ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ابھی آپ کو دیے دیتے ہیں کہ ایک زمانۂ دراز ہو جانے کے باوجود بھی ہمار ی غالب فہمی غلط فہمی سے آگے نہ
بڑھی ،اورجناب اس استقلال کے ساتھ ساتھ ہماری ثابت قدمی بھی دیکھیے کہ ہم آگے نہ بڑھ سکے تو کیا ہوا ایک قدم پیچھے بھی نہیں ہٹے ۔ ہم سوچتے ہیں کہ جو لوگ غالب کو سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ خود غالب نے بھی اس کارِ لاحاصل میں پڑنے کا کشٹ نہیں کیا اور قربان جاؤں کیا صاف گوئی سے کام لیا غالب نے کہ جناب یہ سب مضامین غیب سے اُ ن کے خیال میں آتے ہیں اور اس میں اُ ن کا کوئی دوش نہیں ہے ، لیکن ہمارے مہم جو طبع احباب روز ایک غزل لئے ۔"کاتا اور لے دوڑی" کی مشقِ پیہم میں مصروف نظر آتے ہیں۔

ہاں تو ہم بتا رہے تھے کہ کلامِ غالب اور ہماری یہ چپقلش نئی نہیں تھی بلکہ اس کی عمر بھی ہمار ی غالب نا شناسی کی عمر سے کچھ ہی کم ہوگی۔ اسی طرح اوائل عمری میں بھی ایک بار دیوانِ غالب ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے ۔ دامِ شنیدن بچھائے سے نہیں بچھ رہا تھا اور ہم دیوان ہاتھ میں لیے دیوانے ہوئے جا رہے تھے کہ اچانک ایک شعر نظر آیا ، ایک لمحے کے لیے تو لگا کہ اکیسویں صدی کے کسی بہت ہی مشہور "میڈیا پروموٹڈ" شاعر کا شعر دیوانِ غالب میں غلطی سے آگیا ہے اور اب یہ آہوئے پریشان دیوانِ غالب میں موجود دوسرے اشعار میں اپنے عہد کے سے عیاں چہرے تلاش کر رہا ہے جو یقینا وہاں نہیں تھے۔ خیر شعر کچھ یو ں تھا۔

؂ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے


ذرا سا دشوار سہی لیکن کسی حد تک سمجھ آگیا، شعر کیا سمجھ آیا ہم اپنی نو دریافت غالب فہمی کے زعم میں غزل کی زمین پر سر پٹ خیالوں کے گھوڑے دوڑانے لگے لیکن وائے تقدیر کہ اگلے ہی سنگِ میل پر (یعنی اگلے ہی شعر میں) ہم اپنے منہ زور گھوڑے سمیت غزل کی زمین پر پڑے کراہ رہے تھے ، شاید غزل کی زمین پر بھی کوئی گڑھا پڑ گیا تھا ہاں البتہ اتنا نہیں تھا کہ مٹی ڈال دی جائے، عین ممکن ہے کہ غزل کے توازن میں کچھ فرق پڑگیا ہو، کیوں کہ ہم با ذاتِ خود تو بے وزن نہیں تھے ۔ بہرحال اگلے شعر میں ہم نے دیکھا کہ ۔۔۔۔۔غالب صاحب نے اپنا
تخلص "غالب "سے بدل کر" مشتاق "رکھ لیا ، اور اپنے اس کارہائے عظیم پر بھی باز پُرس خدا سے ہو رہی ہے۔ ہم بہت سٹپٹائے کہ یہ کیاماجرہ ہے ، پہلے" اسد "پھر "غالب "اور اب یہ "مشتاق"۔ ہمیں یوں لگا کہ شایددیوانِ غالب کوئی مشترکہ منصوبہ تھا ، جسے تین مختلف اشخاص نے حسبِ ضرورت برتا ہے، بلکہ یوں کہیے کہ برتا کیا ہے بھگتا ہے اور جہاں جہاں ممکن ہوا ، آنکھ بچا کر اپنا تخلّص شامل کر دیا۔ بس اس سوچ کا آنا تھا توہمیں خود پر پہلے غصّہ اور پھر ترس آیا کہ ہم اس کم سنی میں تین تین ایسے لوگوں کو بھگت رہے ہیں جن کی شاید آپس میں بھی نہیں بنتی۔ جھٹ دیوان بند کیا اور انجان بن گئے۔ایک عرصۂ دراز کے بعد جب یہ غزل دیکھنے کا اتفاق اور ہمّت ہوئی تو تیسرے شعر نے غالب کے منہ میں زبان کی موجودگی کی تصدیق کی، اور ساتھ ساتھ ہی مُدعا کے باز پُرس کی اجازت بھی مرحمت فرمائی، بہت افسوس ہوا کہ پچھلی پسپائی سے پیش تر اگر تیسرا شعر بھی جیسے تیسے پڑھ لیا ہوتا تو کچھ نہ کچھ لے ہی مرتے۔

بیچ کے عرصہ میں کئی ایک دفعہ دیوانِ غالب سے آنکھیں چار بھی ہوئیں لیکن ہمیں ہر بار یہ ہی لگا کہ دیوانِ غالب زبانِ حال سے ایک ہی بات کہ رہا ہو:

؂ مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا میرے آگے


ہم نے غور کیا تو ہمارا رنگ زرد ہور ہا تھا، بس پھر کیا تھا ہم نے فوراً ایک جھر جھری لی اوررفو چکر ہوگئے اور رفو گر کے پاس پہنچ کرہی دم لیا، اور اپنے گریبانِ سخن فہمی کے چار گرہ کپڑے میں غالب شناسی کا پیوند لگوانے کی ناکام کوشش کرنے لگے، رفو گر کے ٹال مٹول سے لگا کہ وہ اس عاشقِ نیم جاں کو معشوق فریبی کے الزامِ جاں شکن میں دھروانے کا پکا پروگرام بنائے بیٹھا ہے اور خاموش نگاہوں سے کہ رہا ہے کہ

؂ بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے


سو ہم نے سوچا کہ کہیں ہم بھی مثالِ غالب ۔"دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے "کا راگ الاپنے پرنہ مجبور ہو جائیں، سو وہاں سے بھی ٹلنے میں دیر نہ لگائی یہاں تک کہ دشمن ہماری لاش دیکھ کر غم ناک یا مسرور تک نہ ہو سکا۔

کئی زمانے غالب کو بھول کر فکرِ دنیا میں سر کھپاتے رہے اور فکرِ دنیا ہمارے لیے بھی کسی وبال سے کم نہیں تھی ، اور شاید غالب اور اس مغلوب میں ایک یہی قدرِ مشترک تھی ورنہ توہمارے اور غالب کے عناصر میں بالکل بھی اعتدالِ باہمی نہیں تھا۔ غرض یہ کہ غالب سے اور کلامِ غالب سے اس قدر بے اعتنائی
برتنے کہ باوجود بھی ہمارا اور کلامِ غالب کا رشتہ۔ جسم اور" کمبل "والا رہا، اور ہم پورے وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ کمبل کا کردار ہم نے ہرگز نہیں کیا۔ پھربھی مفاہیم پوری طرح کھل کر کبھی سامنے نہیں آئے بلکہ ایک تشنگی سی رہی اور شعر حافظہ میں "تیرِ نیم کش" کی طرح اپنے دائمی قیام کا احساس دلاتے رہے۔ شایدایک وجہ فارسی اور فارسی زدہ اردو بھی رہی ہو (لیکن ہم تیل بیچنے کے خوف سے فارسی سیکھنے کی ہمت کبھی نہیں کر سکے)۔ بہر کیف اس نہج پہ آکہ ہم بھی اپنی بے سروپا گفتگو میں گاہے گاہے غالب کے شعر ٹانکنے لگے اور مسائلِ تصوف کی تفہیم میں غالب کے شانہ بہ شانہ ڈوبتے اُبھرتے رہے۔ ویسے یہ بات شاعرِ موصوف کو ابھی تک نہیں پتہ ہے اور نہ ہی آپ بتایئے گا ورنہ اُن کی حالت یقینا دیدنی ہوگی اور کہتے نظر آیئں گے۔

؂ حیراں ہوں دل کو روؤ ں ، یا پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں ، نوحہ گر کو میں


بات بہت طویل ہو چلی ہے اور سوچتا ہوں کہ یہ سب پڑ ھ کر غالب کیا سوچتے ہوں گے۔

؂ جمع کر تے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشہ ہوا گلہ نہ ہوا

یا

؂ ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی


لیکن ہم سوچتے ہیں کہ کلامِ غالب اور ہم میں دوری کی وجہ غالب کی مشکل پسندی نہیں بلکہ ہماری اپنی کج فہمی اور کوتاہ بینی ہے سو خیال آتا ہے کہ

؂ ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز ہے مرا
غالب کو بُراکیوں کہو اچھا مرے آگے


بعد میں غالب نے یہ شعرشاید ہمارے لیے ہی کہا:

؂ عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

اور ہم کہتے ہیں کہ

؂ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا (آمین)
________________________________________________________

امید ہے کہ یہ مضمون محبّانِ غالب کی دل آزاری کا سبب نہیں بنے گا کیونکہ اس مضمون کا موضوع غالب نہیں بلکہ" کلامِ غالب کے تناظر میں ہماری نام نہاد سخن فہمی " ہے

صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام

خاکسار کی ایک غزل۔ ۔ ۔

غزل

صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام
دل نگری کی رات اداسی، چنچل چنچل شام

ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج
تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام

رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین
تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام

نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس کے ہیں آنسو
کس کی آنکھوں کا تحفہ ہیں، کاجل کاجل شام

رات کی رانی، اوس کا پانی، جگنو ، سرد ہوا
مُسکاتی، خوشبو مہکاتی، جنگل جنگل شام

ڈوبتا سورج، سونا رستہ، آس کے بجھتے دیپ
مایوسی کی گرد میں لپٹی اُتری پل پل شام

رنگ سنہرا، دھوپ سا اُس کا، گیسو جیسے رات
چاند سا اُجلا اُجلا چہرہ، اُس کا آنچل شام

خواب میں جب سے آیا ہے وہ، سوچوں میں گم ہوں
کیا ہو جو تعبیر بتانے آجائے کل شام

احمد کوئی نظم سُناؤ کچھ تو وقت کٹے
تنہا تنہا دل بھی ہے اور بوجھل بوجھل شام

.... سوال یہ ہے

....ہمارا "مستقبل" ۔ "حال" کے آئنے میں

"ہاں بھائی! سُناؤ کیا ہورہا ہے آج کل" ہم نے یوں ہی پوچھ لیا۔
"کچھ نہیں پیکیج کروایا ہوا ہے ، پانچ ہزار ایس ایم ایس کا۔ میسجز کرتا رہتا ہوں"کمالِ بے نیازی سے کہا گیا۔
"پانچ ہزار ایس ایم ایس! اتنے سارے ایس ایم ایس کیا کرتے ہو میاں؟"
"اتنے سارے کہاں ہوتے ہیں، دس پندرہ دن میں ختم ہو جاتے ہیں"
"اچھا! اس حساب سے تو تمھیں کم از کم دو ڈھائی سو میسجز روز کرنے ہوتے ہوں گے۔ "
"اتنے تو ویسے بھی ہو جاتے ہیں اتنے سارے دوست ہیں میرے !"
"اچھا! پھر کیا لکھ کر بھیجتے ہو دوستوں کو" ہم نے اپنی حیرانی پر قابو پاتے ہوئے دریافت کیا
"ارے لکھنا وکھنا کہاں پڑتا ہے زیادہ تر فارورڈ کرنے والے میسجز ہوتے ہیں۔ بڑے اچھے اچھے میسجز آتے ہیں۔ شاعری ، لطیفے ، بڑی تفریح ہوتی ہے"
"اچھا ! اچھا! میں نے جو تمھیں اقبال کا شعر بھیجا تھا اُس کا کیا ہوا"
"وہ۔۔۔!" سوچتے ہوئے کہا گیا " وہ تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا۔ ایک دوست کو بھیجا تھا میں نے آپ کا والا شعر۔اُس نے جواب میں یہ شعر بھیجا ہے" اس نے مجھے موبائل دکھاتے ہوئے کہا۔
ٹوٹی پھوٹی رومن اردو میں کچھ یوں لکھا ہوا تھا:

غ سے غبارے ہیں ، ف سے فوراے ہیں فراز
پاپڑ ابھی تک کرارے ہیں بھائی جان!

"بھئی یہ کیا شعر ہوا؟" ہم نے سٹپٹا کے پوچھا
"اور یہ شعر فراز کا کیسے ہو سکتا ہے" حیرانی تھی کہ کم ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔

"آج کل سارے شعر "فراز " کے ہی ہوتے ہیں" ۔
"اچھا! وہ کیوں؟" ہم نے روانی میں پوچھ ہی لیا
"ایک تو جتنے بھی شعر میسجز میں آتے ہیں وہ سب فراز کے ہی ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی نہ بھی ہو تو پہلی لائین کے آخر میں فراز لگا کر کسی بھی شعر کو فراز کا بنایا جاسکتا ہے" بیٹھے بٹھائے ایس ایم ایس شاعری کا فارمولا ہم تک بھی پہنچ گیا۔
ساتھ ساتھ ہمیں کچھ "فراز" کے اشعار بھی دکھائے گئے۔
"لیکن فراز کا تو سارا کلام ہی بہت اعلٰی ہے اور یہ سب تو انتہائی غیر معیاری ہیں بھائی!" میں نے تعجب سے کہا
"ارے سب چلتا ہے آج کل! بس تفریح ہونی چاہیے۔ "

" بات تو تمھاری ٹھیک ہے۔ پر دیکھو! ہم جو بھی اور جیسے بھی پیغامات بھیجتے ہیں وہ ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ہم اچھی اور معیاری چیزیں اپنے دوست احباب کو بھیجیں گے تو اُن کے ذہن میں ہمارا تاثّر بھی اچھا قائم ہوگا۔ کیا تم یہ چاہو گے کہ کسی معمولی سے پیغام کی وجہ سے دوستوں کے دل میں تمھاری عزت میں کمی آجائے "
"ہاں ! یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے" پہلی بار کسی بات کا اثر ہوتا دکھائی دیا
"اچھا ! اور کون کون سے ایس ایم ایس کرتے ہیں جناب " تعجب اور تاسف کی ملی جلی کیفیات میں ہم نے بات کو آگے بڑھایا
"اور ! لطیفے بھی آتے جاتے رہتے ہیں بڑے مزے مزے کے ! سردار جی کے ، خان صاحب کے اور زرداری صاحب کے "
"چلو تفریح تو اچھی بات ہے لیکن اس طرح سے تو بہت وقت برباد ہو جاتا ہوگا۔ اور حاصل کچھ بھی نہیں!"
"نہیں ! اب ایسا بھی نہیں ہے ۔ اسلامی ایس ایم ایس بھی تو کرتا ہوں میں۔ اُن کا تو ثواب بھی ملتا ہے !"
"اچھا! وہ کہا ں سے آتے ہیں" ہمیں پھر حیران ہونا پڑا"
"وہ بھی اِدھر اُدھر سے ہی آتے ہیں"
"کہیں یہ وہ تو نہیں جن کو بھیج کر سات دن میں خوشخبری ملتی ہے اور نہ بھیجنے پر گناہ " ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"زیادہ تر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ پر بیٹھے بٹھائے ثواب مل رہا ہے اور کیا چاہیے"
"لیکن بھائی ان سب باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں! اور بغیر تصدیق کے اس طرح کے پیغامات آگے بھیج کر ثواب کے بجائے گناہ ہی ملتا ہوگا"
"پتہ نہیں ! لیکن ہمارے نیّت تو اچھی ہوتی ہے! آپ کو تو پتہ ہے اعمال کا دار ومدار نیّت پر ہی ہوتا ہے۔"
"لیکن اچھی نیّت سے بُرے کام ثواب کا نہیں عذاب کا باعث ہی ہوتے ہیں" ہمارا انداز کچھ ناصحانہ سا ہوگیا۔
"اچھا اس کے علاوہ کیا ہو رہا ہے آج کل" ہم نے خود ہی بات کو بدل دیا۔
"ا ور تو کچھ خاص نہیں ! وقت ہی نہیں ملتا"۔ اس بار جواب میں بلا کی معصومیت تھی۔
پھر اس کے بعد اور ہم کیا کہتے اور کس سے کہتے ۔

(سوچتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کا "حال" اگر یہ ہے تو اس قوم کا مُستقبل کیا ہوگا۔ آپ بھی سوچئے گا! )

دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے

غزل

دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے
بچھڑے مسافروں کا بھی کوئی نشاں ملے

یہ وصل بھی فریبِ نظر کے سوا نہیں
ساحل کے پار دیکھ زمیں آسماں ملے

ایسی جگر خراش کہاں تھیں کہانیاں
راوی کے رنج بھی تو پسِ داستاں ملے

جانے مسافروں کے مقّدر میں کیا رہا
کشتی کہیں ملی تو کہیں بادباں ملے

جس کو جنوں کی زرد دوپہروں نے چُن لیا
شامِ سکوں ملی ، نہ اُسے سائباں ملے

بارش میں بھیگتی رہی تتلی تمام شب
آئی سحر تو رنگ دھنک میں عیاں ملے

پختہ چھتیں بھی اب کے یقیں سے تہی ملیں
پکے گھروں میں خوف کے کچے مکاں ملے

احمدؔ یہ دل کا شہر تو حیران کر گیا
جھرنے کہیں ملے ، کہیں آتش فشاں ملے

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید

غزل

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید
تشنگی بھی سراب ہے شاید

کچھ کسی کو نظر نہیں آتا
روشنی بے حساب ہے شاید

میں سزا ہوں تری خطاؤں کی
تو مرا انتخاب ہے شاید

یہ جسے ہم سکون کہتے ہیں
باعثِ اضطراب ہے شاید

اُس کا لہجہ گلاب جیسا ہے
طنز خارِ گلاب ہے شاید

ہر نئی بار اک نیا پن ہے
وہ غزل کی کتاب ہے شاید

کیا محبت اُسے بھی ہے مجھ سے
مختصر سا جواب ہے "شاید"

میں بھی محرومِ خواب ہوں احمد
وہ بھی زیرِ عتاب ہے شاید



رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک